30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خون نے اس کی شہادت دی اور درود و سلام ہو طیّب و طاہر نبی اُمّی پر اور ان کی آل ، ان کے اصحاب ، ساری جماعت اور ہر اس شخص پر جس نے ان کی راہ میں خون بہایا یا خود اس کا خون بہا ۔ (ت)
یہاں تین۳ صورتیں ہیں :
اوّل : چھنکنا یعنی خون و ریم وغیرہ نے اپنی جگہ سے اصلًا تجاوز نہ کیا بلکہ اُس پر جو کھال کا پردہ تھا وہ ہٹ گیا ، جس کے سبب وہ شے اپنی جگہ نظر آنے لگی پھر اگر وہ کسی چیز فــــ۱سے مس ہوکر اس میں لگ آئی مثلًا خون چھنکا اُسے انگلی سے چھُوا انگلی پر اس کا داغ آگیا یا خلال کیا یا مسواك کی یا انگلی سے دانت مانجے یادانت سے کوئی چیز کاٹی ان اشیاء پر خون کی رنگت محسوس ہوئی یا ناك انگلی سے صاف کی اُس پر سُرخی لگ آئی اور ان سب صورتوں میں اُس ملنے والی شے پر اثر آجانے سے زیادہ خود اُس خون کو حرکت نہ ہوئی تو یہ بھی جگہ سے تجاوز نہ کرنا نہ ٹھہرے گا کہ اُس میں آپ تجاوز کی صلاحیت نہ تھی اور اسی حکم فــــ۲میں داخل ہے یہ کہ دانہ آبلہ بدن کی سطح سے اُبھار رکھتا ہو۔ خون وریم اس کے باطن سے تجاوز کر کے اس کے منہ پر رہ جائے منہ سے اصلًا تجاوز نہ کرے کہ وہ جب تك دانوں یا آبلوں کے دائرے میں ہیں اپنی ہی جگہ پر گنے جائیں گے اگرچہ آبلے کے جرم میں حرکت کریں یہ صورت بالاجماع ناقضِ وضو نہیں ، نہ اس خون وریم کیلئے حکمِ ناپاکی ہے کہ مذہب صحیح ومعتمد میں جو حدث نہیں وہ نجس بھی نہیں ، ولہٰذا اگر خارش فــــ۳ کے دانوں پر کپڑا مختلف جگہ سے بار بار لگا اور دانوں کے منہ پر جو چیك پیدا ہوتی ہے جس میں خود باہر آنے اور بہنے کی قوت نہیں ہوتی اگر دیر گزرے تو وہ وہاں کی وہیں رہے گی اُس چپك سے
فــــ۱ : مسائل : خون چھنکا انگلی سے چھوا اس پر داغ آگیا یاخلال یامسواك یادانت مانجھتے وقت انگلی میں لگ آیا یا کوئی چیز دانت سے کاٹی اس پر خون کااثر پایا یاناك انگلی سے صاف کی اس پر سرخی آگئی مگر وہ خون آپ جگہ سے ہٹنے کے قابل نہ تھا وضو نہ جائے گا اور وہ خون بھی پاك ہے۔
فــــ۲ : مسئلہ : خون یا ریم آبلے کے اندر سے بہہ کر آبلے کے منہ تك آکر رہ جائے تو وضو نہ جائے گا۔
فــــ۳ : خارش وغیرہ کے دانوں پر خالی چپك ہے کپڑا اس سے بار بار لگ کر بہت جگہ میں بھر گیا ناپاك نہ ہوا نہ وضو گیا۔
سارا کپڑا بھر گیا ناپاك نہ ہوگا یہی حالت فــــ۱خو ن کی ہے جبکہ اُس میں قوتِ سیلان نہ ہو یعنی ظنِ غالب سے معلوم ہوا کہ اگر کپڑا نہ لگتا اور اُس کا راستہ کھُلا رہتا جب بھی وہ باہر نہ آتا اپنی جگہ ہی پر رہتا ہاں اگرحالت یہ ہو فــــ۲ کہ خون بہنا چاہتا ہے اور کپڑا لگ لگ کر اُسے اپنے میں لے لیتا ہے تجاوز نہیں کرنے دیتا یہاں تك کہ جتنا خون قاصدِ سیلان تھا وہ اس کپڑے ہی میں لگ لگ کرپچھ گیا اور بہنے نہ پایا تو ضرور وضو جاتا رہے گا اور قدر درم سے زائد ہوا تو کپڑا بھی ناپاك ہوجائیگا کہ یہ صورت واقع میں بہنے کی تھی کپڑے کے لگنے نے اُسے ظاہر نہ ہونے دیا۔
دوم : ابھرنا فــــ۳ کہ خون و ریم اپنی جگہ سے بڑھ کر جسم کی سطح یا دانے کے منہ سے اوپر ایك ببولے کی صورت ہو کر رہ گیا کہ اس کا جرم سطح جسم وآبلہ سے اُوپر ہے مگر نہ وہاں سے ڈھلکا نہ ڈھلکنے کی قوت رکھتا تھا جیسے سُوئی چبھونے میں ہوتا ہے کہ خون کی خفیف بوند نکلی اور نقطے یا دانے کی شکل پر ہو کر رہ گئی آگے نہ ڈھلکی اور اسی قسم کی اور صُورتیں ، ان میں بھی ہمارے علماء کے مذہب اصح میں وضو نہیں جاتا ، یہی صحیح ہے اور اسی پر فتوٰی اور اسی حکم فــــ۴میں داخل ہے یہ کہ خون یا ریم اُبھرا اور فی الحال اس میں قوتِ سیلان نہیں اُسے کپڑے سے پونچھ ڈالا دوسرے جلسے میں پھر اُبھرا اور صاف کردیا یوں ہی مختلف جلسوں میں اتنا نکلا کہ اگر ایك بار آتا ضرور بہہ جاتا تو اب بھی نہ وضو جائے نہ کپڑا ناپاك ہو کہ ہر بار اُتنا نکلا ہے جس میں بہنے کی قوت نہ تھی۔ ہاں جلسہ واحدہ میں ایسا ہوا تو وضو جاتا رہے گا کہ مجلس واحد کا نکلا ہوا گویا ایك بار کا نکلا ہوا ہے۔ یوں ہی اگر خون فــــ۵اُبھرا اور اُس پر مٹی وغیرہ ڈال دی پھر اُبھرا پھر ڈالی اسی طرح کیا تو وضو نہ رہیگا جب کہ ایك
فــــ ۱ : مسئلہ : یہی حکم چھنکے ہوئے خون کا ہے کہ نہ اس سے کپڑا نجس ہو نہ وضو ساقط ۔
فــــ۲ : مسئلہ : خون یا ریم بہنے کے قابل ہو مگر کپڑے میں لگ لگ کر بہنے نہ پائے وضو جاتارہے گا اور درم بھر سے زائد ہو توکپڑا بھی نجس ہو جائے گا۔
فــــ۳ : مسئلہ : سوئی چبھ کر خواہ کسی طرح خون کی بوند اُبھری اور ببولا سا ہوکررہ گئی ڈھلکی نہیں تو فتوی اس پر ہے کہ وہ پاك ہے وضو نہ جائے گا۔
فــــ۴ : خون یا ریم اُبھرا اور ڈھلکنے کے قابل نہ تھا اُسے کپڑے سے پونچھ لیا ، دیر دیر کے بعد باربار ایسا ہی ہوا وضو نہ جائے گا اور کپڑا پاك رہا ، ہاں اگر ایك ہی جلسے میں بار بار اُبھرا اور پونچھ لیا اور چھوڑ دیتے تو سب مل کر ڈھلك جاتا تو وضو نہ رہا اور وہ ناپاك ہے۔
فــــ۵ : خون ابھرا اس پر مٹی ڈال دی پھر ابھرا پھر ڈالی وضو نہ رہا جبکہ ایك جلسے میں اتنا اُبھرا کہ مل کر بہہ جاتا۔
جلسے میں بقدر سیلان جمع ہوجاتا کہ یہ بہنے ہی کی صورت ہے اگرچہ عارض کے سبب صرف اُبھرنا ظاہر ہوا اور ایك جلسے فــــ۱ میں اتنا ہوتا یا نہ ہوتا اس کا مدار ٹھیك اندازے اور غلبہ ظن پر ہے۔
سوم : بہنا کہ اُبھر کر ڈھلك بھی جائے یا کسی مانع کے باعث نہ ڈھلکے تو فی نفسہٖ اتنا ہو کہ مانع نہ ہوتا تو ڈھلك جاتا جس کی صُورتیں اُوپر گزریں یہ شکل ہمارے ائمہ کے اجماع سے ناقضِ وضو ہے اور کپڑا قدر درم سے زائد بھرے تو ناپاک۔ ہاں وہ بہنا کہ صرف باطنِ بدن میں ہو ناقض نہیں کہ باطن انسان میں تو خون ہر وقت دورہ کرتاہے آنکھوں کے ڈھیلے بھی شرعًا باطنِ بدن
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع