30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے لبریز ہوں----نہ یہ کہ کسی کتاب میں اس کا کوئی ذکر نہ ہو اور تمام سابقہ صدیاں یوں ہی گزر جائیں یہاں تك کہ تیرھویں صدی میں علامہ طحطاوی بطورِ استظہار اس کا استخراج کریں ، جب کہ معلوم ہے کہ جو ایسا عام معاملہ ہو اس میں بطریق آحاد روایت کی جانے والی حدیث بھی قبول نہیں کی جاتی اس لئے کہ کثرتِ اسباب و دواعی کے باوجود آحاد سے مروی ہونا غلطی کی علامت ہے ۔
اور بندہ ضعیف کا خیال یہ ہے کہ جو چیز عادۃً نکلتی ہے اور ناقض نہیں ہوتی وہ بہت زیادہ نکلے تو بھی ناقض نہ ہو گی اگرچہ ایسی صورت میں اسے کسی بیماری کے دائرے میں شمار کیا جائے ۔ دیکھئے پسینہ ناقضِ وضو نہیں اگر یہ بہت زیادہ آئے جیسے بخار کے بحران یا بعض امراض میں ہوتا ہے تو بھی ناقض نہیں۔ اسی طرح آنسو ، دودھ ، تھوك ، اور اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے جس پر اجماع ہے کہ بلغم اگر سر سے آنے والا ہے تو اس
فــــ ۱ : لایقبل حدیث الاٰ حاد فی موضع عموم البلوٰی فکیف برأی عالم متأخر۔
فــــ۲ : مسئلہ : مصنف کی تحقیق کہ جو چیز عادۃً بدن سے بہا کرتی ہو اور اس سے وضو نہ جاتاہو جیسے آنسو ، پسینہ ،
ودھ ، بلغم ، ناك کی ریزش وہ اگرچہ کتنی ہی کثرت سے نکلے ناقض وضو نہیں اگرچہ اس کی کثرت بجائے خود ایك مرض گنی جاتی ہو۔
نازلا لاینقض وان ملأ الفم ومعلوم انہ لا اختلاف فی البلغم وماء الزکام فی الحقیقۃ وما یملؤ الفم کثیر فوجب عدم النقض بالزکام ھذا ماظھرلی والله تعالٰی اعلم[1] اھ ماکتبت علیہ ونقلتہ کما اشتمل علی بعض فوائد والله سبحانہ ولی التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق والحمد لله علی ماعلم وصلی الله تعالٰی علی سیدنا واٰلہ وسلم سبحنہ وتعالٰی اعلم ۔
کی قے منہ بھر کر ہو جب بھی ناقض وضو نہیں ۔ اور معلوم ہے کہ در حقیقت بلغم اور آب زکام میں کوئی اختلاف نہیں اور اتنی مقدار جس سے منہ بھر جائے ، کثیر ہے ، تو ضروری ہے کہ زکام سے بھی وضو نہ جائے ۔ یہ وہ ہے جو مجھ پر ظاہر ہوا ، والله تعالٰی اعلم ۔ میرا حاشیہ ختم ہوا ----- اسے اس وجہ سے میں نے نقل کر دیا کہ بعض فوائد پر مشتمل ہے------ اور خدائے پاك ہی مالك توفیق ہے اور اسی کی مدد سے تحقیق کی بلندی تك رسائی ہے اور خدا ہی کا شکر ہے اس پر جو اس نے تعلیم فرمایا -----اور ہمارے آقا اور ان کی آل پر خدائے برتر کا درود و سلام ہو۔ والله سبحٰنہ و تعالٰی اعلم۔
_________________________
الطراز المعلم فیما ھو حدث من احوال الدم۱۳۲۴ھ
(نشان زدہ نقش اس بیان میں کہ خون کس حال میں ناقضِ وضو ہے )
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
مسئلہ ۸ فــــ : دوم ذی القعدۃ الحرام ۱۳۲۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر خون چھنکا اور باہر نہ آیا تو وضو جائیگا یا نہیں ، اور اگر کپڑا اُس خون پر بار بار مختلف جگہ سے لگ کر آلودہ ہوا کہ قدر درم سے زائد ہوگیا تو ناپاك ہوگا یا نہیں اور اگر خارش وغیرہ کے دانوں پر جو چپك پیدا ہوتی ہے اُس سے کپڑا اُسی طرح بھرا تو کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا۔ ( بیان فرمائیے اجر پائیے ، ت)
الجواب :
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
الحمد لله وحدہ شھد بھا لحمی
تمام تعریف خدائے یکتا کے لئے ہے میرے گوشت و
فــــ : مسئلہ : خون چھنکنے ، اُبھرنے ، بہنے کے فرق واحکام)
ودمی والصلاۃ والسلام علی الطیب الطاھر النبی الامی واٰلہ وصحبہ وسائر حزبہ ومن فی سبیلہ اَدمٰی اودمی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع