30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فــــ : مسئلہ : اندھے کی آنکھ سے جو پانی بہے وہ ناپاك اور ناقض وضو ہے ۔
لوقت کل صلاۃ لاحتمال خروج القیح والصدید [1]۔
کے لئے وضو کرنا چاہئے اس لئے کہ پیپ اور زخم کا پانی نکلنے کا احتمال ہے ۔ (ت)
وجیز امام کردری میں ہے :
احتلم ولم یربللا لاغسل علیہ اجماعا ولو منیا او مذیا لزم لان الغالب انہ منی رق بمضی الزمان وعن ھذا قالوا ان الاعمی اومن بہ رمد اذا سال الدمع یتوضؤ لوقت کل صلاۃ لاحتمال کونہ قیحا اوصدیدا [2]۔
خواب دیکھا اور تری نہ پائی تو اس پر بالاجماع غسل نہیں اور اگر منی یا مذی دیکھی تو لازم ہے ، اس لئے کہ غالب گمان یہ ہے کہ وہ منی ہے جو وقت گزرنے سے رقیق ہو گئی ، اسی وجہ سے علماء نے فرمایا کہ نابینا اور آشوب والے کا جب آنسو برابر بہے تو وہ ہر نماز کے وقت کے لئے وضو کرے اس لئے کہ یہ احتمال ہے کہ وہ آنسو در اصل پیپ یا زخم کا پانی (صدید) ہو ۔ (ت)
بالجملہ مجرد رطوبت کہ مرض سے سائل ہو مطلقًا فی نفسہا ہرگز ناقض نہیں بلکہ احتمال خون و ریم کے سبب ولہٰذاامام ابن الہمام کی رائے اس طرف گئی کہ مسائل مذکورہ میں امام محمد کا حکم وضو استحبابی ہے اسلئے کہ خون وغیرہ ہونا محتمل ہے اور احتمال سے وضو نہیں جاتا مگر یہ کہ خبر اطباء یا علامات سے ظنِ غالب ہوکہ یہ خون یا ریم ہے تو ضرور وجوب ہوگا۔ فتح میں قبیل فصل فی النفاس فرمایا :
فی عینہ رمد یسیل دمعھا یؤمر بالوضوء لکل وقت لاحتمال کونہ صدیدا و اقول : ھذا التعلیل یقتضی انہ امر استحباب فان الشك والاحتمال فی کونہ ناقضا
ایسا آشوب چشم ہو کہ برابر آنسو بہتا رہتا ہو تو ہر وقت کے لئے وضو کا حکم ہو گا اس لئے کہ صدید(زخم کا پانی) ہونے کا احتمال ہے ، میں کہتا ہوں اس تعلیل کا تقاضا یہ ہے کہ یہ حکم استحبابی ہو اس لئے کہ اس کے ناقض ہونے
لا یوجب الحکم بالنقض اذا لیقین لایزول بالشك والله اعلم نعم اذا علم من طریق غلبۃ الظن باخبار الاطباء اوعلامات تغلب ظن المبتلی یجب[3]۔
میں شك و احتمال حکم نقض کا موجب نہیں اس لئے کہ یقین شك سے زائل نہیں ہوتا والله تعالٰی اعلم ہاں وجوب اس وقت ہو گا جب غلبہ ظن کے طور پر علم ہو جائے اطبا ء کے بتانے یا ایسی علامات کے ذریعہ جن سے مبتلا کو غلبہ ظن حاصل ہو ۔ (ت)
اسی طرف ان کے تلمیذ ارشد امام ابن امیر الحاج نے میل کیا اور اس کی تائید میں فرمایا :
یشھد لھذا مافی شرح الزاھدی عقب ھذہ المسئلۃ وعن ھشام فی جامعہ انکان قیحا فکالمستحاضۃ والافکا لصحیح[4]۔
اس پر شاہد وہ ہے جو شرح زاہدی میں ا س مسئلہ کے بعد ہے اور ہشام سے ان کی جامع میں روایت ہے کہ اگر پیپ ہو تو مستحاضہ کی طرح ورنہ تندرست کی طرح ہے ۔ (ت)
یونہی محققِ بحر نے بحر الرائق میں کلامِ فتح باب وضو میں بلا عزو ذکر کیا اور مقرر رکھا اور باب الحیض میں ھو حسن [5] فرمایا اور تحقیق فــــ یہی ہے کہ حکم استحبابی نہیں بلکہ احتیا ط ایجابی ہے ، مشائخ مذہب سے تصریح ِ وجوب منقول ہے ۔ خود فتح القدیر فصل نواقض الوضوء میں فرمایا :
ثم الجرح والنفطۃ وماء الثدی والسرۃ والاذن اذا کان لعلۃ سواء علی الاصح و علٰی ھذا قالوا من رمدت عینہ وسال الماء منھا وجب علیہ الوضوء فان استمر فلوقت کل صلاۃ وفی التجنیس الغرب
پھر زخم و آبلہ اور پستان ، ناف اور کا ن کا پانی جب کسی بیماری کی وجہ سے ہو تو بر قول اصح سب برابر ہیں ، اسی بنیاد پر علماء نے فرمایا : جسے آشوبِ چشم ہو اور آنکھ
فــــ : مسئلہ : تحقیق یہ ہے کہ درد یا علت سے جو رطوبت بہے اس میں صرف احتمال خون و ریم ہونا ہی وجوب وضو کو کافی ہے اگرچہ فتح وحلیہ میں استحباب مانا۔
فی العین اذا سال منہ ماء نقض لانہ کالجرح ولیس بدمع[6] الخ۔
[1] خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الطہارات الفصل الثانی مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۱۳
[2] الفتاوی البزازیہ علی ھامش الفتاوی الہندیہ کتاب الطہارۃ الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۱۰ ، ۱۱
[3] فتح القدیر کتاب الطہارات فصل فی الاستحاضۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۱ / ۱۶۴
[4] حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
[5] البحر الرائق کتاب الطہارۃ باب الحیض ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۱۶
[6] فتح القدیر کتاب الطہارات فصل فی نواقض الوضوء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۱ / ۳۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع