30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لافرق فی ذلك بین العین وغیرھا بل کل ما یخرج من علۃ من ای موضع کان کالاذن والثدی و السرۃ ونحوھا فانہ ناقض علی الاصح لانہ صدید[1]۔
اس بارے میں آنکھ اور آنکھ کے علاوہ میں کوئی فرق نہیں بلکہ جو بھی کسی بیماری کی وجہ سے خارج ہو ، کان ، پستان ، ناف وغیرہ جس جگہ سے بھی ہو وہ اصح قول پر ناقض ہے اس لئے کہ وہ زخم کا پانی ہے۔ (ت)
اسی میں مثل فتح القدیر فــــ۱ تجنیس امام برہان الدین صاحبِ ہدایہ سے ہے :
لوخرج من سرتہ ماء اصفر وسال نقض لانہ دم قد نضج فاصفر وصار رقیقا [2]۔
اگر ناف سے زرد پانی نکل کر بہے تو وضو جاتا رہے گا اس لئے کہ وہ خون ہے جو پك کر زرد اور رقیق ہو گیا ۔ (ت)
کافی میں ہے :
عن ابی حنیفۃ رحمہ الله تعالٰی اذاخرج فــــ۲ (ای من النفطۃ) ماء صاف لاینقض فی شرح الجامع الصغیر لقاضی خان قال الحسن بن زیاد الماء بمنزلۃ العرق والدمع فلا یکون نجسا وخروجہ لایوجب انتقاض الطھارۃ والصحیح ماقلنا لانہ دم رقیق لم یتم نضجہ فیصیر لونہ لون الماء
امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ اگر آبلہ سے صاف پانی نکلے تو وہ ناقض نہیں۔ اور قاضی خاں کی شرح جامع الصغیر میں ہے کہ حسن بن زیاد نے کہا : یہ پانی پسینہ اور آنسو کی طرح ہے تو وہ نجس نہ ہو گا اور اس کے نکلنے سے طہارت نہ جائے گی۔ اور صحیح وہ ہے جو ہم نے کہا اس لئے کہ وہ رقیق خون ہے جو پورا پکا نہیں تو وہ پانی کے رنگ کا ہو جاتا ہے۔
فــــ۱ : مسئلہ : ناف سے زرد پانی بہہ کر نکلے وضو جاتا رہے۔
فــــ۲ : مسئلہ : دانے کا پانی اگر چہ صاف نتھرا ہو صحیح یہ ہے کہ وہ بھی ناپاك و ناقض وضو ہے ۔
واذا کان دما کان نجسا ناقضا للوضوء [3]۔
اور جب وہ خون ہے تو نجس اور ناقضِ وضو ہو گا ۔ (ت)
بحر میں ہے :
لوکان فی عینیہ رمد یسیل دمعہا یؤمربالوضوء لکل وقت لاحتمال ان یکون صدیدا[4]
اگرآنکھوں میں آشوب ہو کہ برابر آنسو بہتا رہتا ہے تو ہر وقت کے لئے وضو کا حکم ہو گا اس لئے کہ ہوسکتا ہے وہ زخم کا پانی ہو ۔ (ت)
تبیین الحقائق میں ہے :
لو کان بعینیہ رمد او عمش یسیل منھما الدموع قالوا یؤمر بالوضوء لوقت کل صلٰوۃ لاحتمال ان یکون صدیدا او قیحا۔[5]
اگر آنکھوں میں آشوب یا عمش (چندھا پن) ہو کہ آنسو بہتے رہتے ہوں تو علماء نے فرمایا ہے کہ ہر نماز کے وقت اسے وضو کا حکم ہو گا اس لئے کہ یہ احتمال ہے کہ وہ زخم کا پانی یا پیپ ہو ۔ (ت)
خلاصہ میں ہے :
تذکر الاحتلام و رأی بللا ان کان ودیا لایجب الغسل بلا خلاف وان کان منیا او مذیا یجب الغسل بالاجماع ولسنا نوجب الغسل بالمذی لکن المنی یرق باطالۃ المدۃ فکان مرادہ مایکون صورتہ المذی لاحقیقۃ المذی وعلی ھذا فــــ الاعمی ومن بعینیہ رمد سال الدمع ینبغی ان یتوضأ
احتلام یاد ہے اور تری دیکھی اگر ودی ہو تو بلا اختلاف غسل واجب نہیں اور اگر منی یا مذی ہو تو بالاجماع غسل واجب ہے اور ہم مذی سے غسل واجب نہیں کہتے لیکن منی دیر ہو جانے سے رقیق ہو جاتی ہے تو اس سے مراد وہ ہے جو مذی کی صورت میں ہو ، حقیقت مذی مراد نہیں اور اسی بنیاد پر نابینا اور آشوب چشم والے کی آنکھ سے جب آنسو بہتا ہو تو اسے ہر نماز کے وقت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع