30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
التوفیق اور نجس میں نجس بالخروج کی قید ہم نے اس لئے زائد کی کہ اگر یہ نہ ہو اور صرف خروج از بدن مکلف کی قید رکھیں تو اب بھی نسبت عموم من وجہ ہوگی کہ ریح حدث ہے اور نجس نہیں ، اور معاذ الله فــــ۱ اگر کسی نے شراب پی اور وہ قے ہوئی مگر تھوڑی کہ منہ بھر کر نہ تھی تو نجس ہے اور حدث نہیں یعنی وضو نہ جائے گا کہ قلیل ہے لیکن یہ اُس کی نجاست اپنی ذات میں تھی خروج کے سبب عارض نہ ہوئی۔ درمختار میں ہے :
ماء فم المیت فــــ۲ نجس کقیئ عین خمر او بول وان لم ینقض لقلتہ لنجاسۃ بالاصالۃ لابالمجاورۃ [1]۔
دہنِ میّت کا پانی نجس ہے جیسے عین شراب یا پیشاب کی قے نجس ہے اگرچہ قلیل ہونے کی وجہ سے ناقض نہیں کہ اس کی نجاست اصالۃً ہے کسی نجاست سے اتصال کی وجہ سے نہیں ہے ۔ (ت)
اور اگر رطوبات کی بھی قید بڑھا لیں تو اب نجس عام مطلقًا ہو جائے گا کہ مسئلہ ریح داخل نہ رہے گا اور مسئلہ خمر باقی ہو گا اب کہ نجس بالخروج کی قید لگائی مسئلہ خمر بھی خارج ہو گیا اور تساوی رہی۔
فان قلت ترد حینئذ مسألۃ الخمر علی الکلیۃ الثانیۃ القائلۃ ان کل حدث نجس بالخروج فانہ ان قاء الخمر ملاء الفم کان حدثا قطعا ولم یکن نجسا بالخروج فانھا نجسۃ العین۔
۶۶قلت : لا فــــ۳ غرو ان یکتسب النجس بنجاسۃ اخری من خارج اگر یہ کہو کہ اس صورت میں مسئلہ شراب سے کلیہ دوم ----- ہر حدث ، نجس بالخروج ہے ----- پر اعتراض وارد ہو گا اس لئے کہ اگر منہ بھر کر شراب کی قے کی تو وہ مطلقًا محدث ہے اور نجس بالخروج نہیں کیوں کہ شراب تو نجس العین ہے ۔
قلت : (میں کہوں گا)اس میں کوئی عجب نہیں کہ ایك نجس چیز اپنے باہر سے کوئی
فــــ۱ : مسئلہ : شراب کی قے بھی اگر منہ بھر نہ ہو ناقض وضو نہیں۔
فــــ۲ : مسئلہ : میت کے منہ سے جو پانی نکلتا ہے ناپاك ہے ۔
فــــ۳ : نجس چیز دوبارہ نجس ہوسکتی ہے ولہذا اگر شراب پیشاب میں پڑ جائے پھر سرکہ ہو جائے پاك نہ ہو گی ۔
کخمر وقعت فی بول حتی لو تخللت لم تطھر وان ابیت فلیکن النجس اعم مطلقًا وانتفاء العام یوجب انتفاء الخاص فبطھارۃ المخاط یثبت انہ لیس بحدث وفیہ المقصود والله تعالٰی اعلم۔
اور نجاست حاصل کر لے جیسے شراب جو پیشاب میں پڑ گئی ہو ، کہ اگر وہ سرکہ ہو جائے تو بھی پاك نہ ہو گی -----اور اگر اسے نہ مانو تو نجس عام مطلق ہی رہے۔ اور عام کے انتفا سے خاص کا انتفا بھی ضروری ہے تو رینٹھ کے پاك ہونے سے یہ ثابت ہو جائے گا کہ وہ حدث نہیں ۔ اور اسی میں مقصود ہے --- والله تعالٰی اعلم (ت)
۷۰ثم اقول : فــــ۱ حقیقتِ امر فــــ۲ یہ ہے کہ درد و مرض سے جو کچھ بہے اسے ناقض ماننا اس بناء پر ہے کہ اس میں آمیزشِ خون وغیرہ نجاسات کا ظن ہے خود محرر مذہب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے کلام مبارك میں اس کی تصریح ہے اور وہی ان فروع کا ماخذ صریح ہے تو زکام اس کے تحت میں آ ہی نہیں سکتا۔ منیہ میں ہے :
عن محمد اذا کان فی عینہ رمد ویسیل الدموع منھا اٰمرہ بالوضوء لانی اخاف ان یکون ما یسیل عنہ صدید [2]۔
امام محمد سے منقول ہے کہ فرماتے ہیں : جب آنکھ میں آشوب ہو اور اس سے آنسو بہتاہو تو میں وضو کا حکم دوں گا اس لئے کہ مجھے اندیشہ ہے کہ اس سے بہنے والا آنسو صدید (زخم کا پانی ) ہو ۔ (ت)
حلیہ میں ہے : کذا ذکرہ بنحوہ عنہ ھشام [3]
(اسی کے ہم معنی امام محمد سے روایت کرتے ہوئے ہشام نے نوادر میں ذکر کیا ہے ۔ ت)
فــــ۱ : ۴۵معروضۃ ثالثۃ علی العلامۃ ط۔
فــــ۲ مسئلہ : تحقیق یہ ہے کہ دردو مرض سے جوکچھ بہے اس وقت ناقض ہے کہ اس میں آمیزش خون وغیرہ نجا سات کا احتمال ہو۔
غنیہ میں ہے :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع