30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حلیہ میں ہے :
فــــ : مسئلہ : صحیح یہ ہے کہ آب بینی پاك ہے ۔
فی شرح الجامع الصغیر لقاضی خاں ان قاء بزاقا لاینقض الوضوء بالاجماع والبزاق مالا یکون متجمدا منعقدا و البلغم مایکون متجمدا منعقدا[1]۔
امام قاضی خان کی شرح جامع صغیر میں ہے : اگر تھوك کی قے کی تو یہ بالاجماع ناقضِ وضو نہیں ---- تھوك وہ ہے جو جماہوا اور بستہ نہ ہو ، اور بلغم وہ ہے جو جامد اور بندھا ہوا ہو ۔ (ت)
ہاں یہ کلیہ فــــ۱ مذکورہ ضرور ثابت فــــ۲ ہے و لہذا ایسی اشیاء میں علماء برابر ان کی طہارت سے حدث نہ ہونے پر استدلال فرماتے ہیں ۔ حلیہ میں ہے :
ان کان ای القیئ بلغما لاینقض لانہ طاھر ذکرہ فی البدائع وغیرہ [2] اھ ملتقطا
اگر بلغم کی قے ہو تو ناقضِ وضو نہیں اس لئے کہ وہ پاك ہے ، اسے بدائع وغیرہ میں ذکر کیا ا ھ ملتقطا۔ (ت)
اُسی میں ہے :
ثم فی البدائع وذکر الشیخ ابو منصور ان جوابھما فی الصاعد من حواشی الحلق واطراف الرئۃ وانہ لیس بحدث بالاجماع لانہ طاھر فینظران لم یصعد من المعدۃ لایکون نجسا ولا یکون حدثا[3]۔
پھر بدائع میں ہے اور شیخ ابو منصور نے ذکر کیا ہے کہ طرفین کا جواب حلق کے اطراف اور پھیپھڑے کے کناروں سے چڑھنے والے بلغم کے بارے میں ہے اور یہ کہ وہ بالاجماع حدث نہیں ، اس لئے کہ وہ پاك ہے ، تو دیکھا جائیگا کہ اگر وہ معدہ سے نہیں اٹھا ہے تو نجس نہ ہوگا تو حدث بھی نہ ہو گا ۔ (ت)
اور اس کے نظائر کلامِ علماء میں کثیر ہیں کلیہ کی صریح تصریح لیجئے ، خزانۃ المفتین میں ہے :
فــــ۱ : مسئلہ : یہ کلیہ ہے کہ جو رطوبت بدن سے بہے اگر نجس نہیں توناقض وضو بھی نہیں۔
فــــ۲ : ۴۴معروضۃ اخرٰی علی العلامۃ
الخارج من البدن علی ضربین طاھر ونجس فبخروج الطاھر لاینتقض الطہارۃ کالدمع والعرق والبزاق والمخاط ولبن بنی اٰدم[4] الخ
بدن سے نکلنے والی چیز دو قسم کی ہے : پاك اور ناپاك ، پاك کے نکلنے سے طہارت نہیں جاتی ۔ جیسے آنسو ، پسینہ ، تھوك ، رینٹھ ، انسان کا دودھ الخ (ت)
الحمد لله فــــ۱ اس تقریر فقیر سے ایك تحقیق منیر ہاتھ آئی کہ قابل حفظ ہے۔
۶۸فاقول : حدث ونجس کو اگر مطلق رکھیں تو اُن میں نسبت عموم وخصوص من وجہ ہے ، نوم حدث ہے اور نجس نہیں ، خمر نجس ہے اور حدث نہیں ، دم فصد حدث ونجس دونوں ہے اور خارج ازبدن مکلف کی قید لگائیں لامن بدن الانسان فینتقض طرد او عکسا بخارج الجن والصبی (خارج از بدن انسان نہ کہیں کہ جن اور بچہ سے خارج ہونے والی ہر چیز کی وجہ سے کلیہ نہ جامع رہ جائے نہ مانع ، یعنی یہ لازم آئے کہ خارج از جن کا یہ حکم نہیں اور خارج از طفل کا بھی یہ حکم ہے حالاں کہ حکم میں جن شامل ہے اور بچہ شامل نہیں۔ ت)اور اس کے ساتھ نجس سے نجس بالخروج لیں یعنی وہ چیز کہ بوجہ خروج اسے حکمِ نجاست دیا جائے اگرچہ اس سے پہلے اسے نجس نہ کہا جاتا (جیسے خون فــــ۲وغیرہ فضلات کا یہی حال ہے ، پیشاب اگر پیش از خروج ناپاك ہو تو اس کی حاجت میں نماز باطل ہو۔ اور خون تو ہر وقت رگوں میں ساری ہے پھر نماز کیونکر ہوسکے) تو ان دو۲ قیدوں کے ساتھ حدث عام مطلقًا ہے یعنی بدنِ مکلف سے باہر آنے والا نجس بالخروج حدث ہے اور ہر حدث نجس بالخروج نہیں جیسے ریح فان عینھا طاھرۃ علی الصحیح (اس لئے کہ خود ریح ، بر قولِ صحیح ، پاك ہے ۔ ت) قضیہ مذکورہ میں علمائے کرام نے یہی صورت مرادلی ہے ولہٰذا عکس کلی نہ مانا ، اور اگر قیود مذکورہ کے ساتھ رطوبات کی تخصیص کرلیں تو نسبت تساوی ہے ہر رطوبت کہ بدن مکلف سے باہر آئے اگر نجس بالخروج ہے ضرور حدث ہے اور اگر حدث ہے ضرور نجس ہے تو یہاں ہر ایك کے انتفاء سے دوسرے کے انتفاء پر استدلال صحیح ہے ، لہٰذا آبِ بینی کہ نجس نہیں ہرگز ناقضِ وضو نہیں ہوسکتا وبالله
فــــ۱ : حدث ونجس کی نسبتوں میں مصنف کی تحقیق منیر ۔
فــــ۲ : خو ن پیشاب وغیرہ فضلات جب تك ہاہر نہ نکلیں ناپاك نہیں ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع