30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بو دلیلِ علت ہے ، جیسے آخر روز میں بوئے دہان صائم کا تغیر۔
دوم : عوارض فــــ۱ مکلف میں ادھر سے کلیہ ہے کہ جو حدث فــــ۲ نہیں نجس نہیں اور اس کا عکس کلی نہیں کہ جو نجس نہ ہو حدث بھی نہ ہو ، نیند جنون بیہوشی کو نجس نہیں کہہ سکتے اور ناقض وضو ہیں ، اور سب سے بہتر مثال ریح فــــ۳ ہے کہ صحیح ومعتمد مذہب پر طاہر ہے اور بالاجماع حدث ہے تو آپ دہان نائم کی طہارت سے استدلال جائے مجال مقال ہوگا۔ درمختار میں ہے :
کل مالیس بحدث لیس بنجس وھو الصحیح۔ [1]
ہر وہ جو حدث نہیں ، نجس بھی نہیں ، یہی صحیح ہے ۔ (ت)
ردالمحتار میں درایہ سے ہے :
انھا لا تنعکس فلا یقال مالا یکون نجسا لایکون حدثا لان النوم والجنون والاغماء وغیرھا حدث ولیست بنجسۃ [2]۔
اس کلیہ کا عکس نہ ہو گا تو یہ نہ کہا جائے گا کہ جو نجس نہ ہو گا وہ حدث بھی نہ ہو گا ۔ اس لئے کہ نیند ، جنون ، بیہوشی وغیرہ حدث ہیں اور نجس نہیں ۔ (ت)
حاشیہ طحطاوی میں ہے :
فیلزم من انتفاء کونہ حدثاانتفا ء کونہ نجسا ولا ینعکس فلا یقال مالایکون نجسا لا یکون حدثا فان النوم والاغماء والریح لیست بنجسۃ وھی احداث [3] اھ۔
حدث نہ ہونے کو ، نجس نہ ہونا لازم ہے اور اسکے برعکس نہیں ۔ تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جو نجس نہ ہو گا وہ حدث بھی نہ ہو گا اس لئے کہ نیند ، بیہوشی اور ریح نجس نہیں اوریہ سب حدث ہیں ۔ ا ھ
فــــ۱ : ۴۳معروضۃ اخرٰی علیہ
فــــ۲ : مسئلہ : بدن مکلف سے جو چیز نکلے اوروضو نہ جائے وہ نا پاك نہیں مگر یہ ضرور نہیں کہ جو ناپاك نہ ہو اس سے وضو نہ جائے۔
فــــ۳ : مسئلہ : صحیح یہ ہے کہ ریح جوانسان سے خارج ہوتی ہے پاك ہے۔
اقول : وھھنا وھم عرض فی فھم القضیۃ وفھم العکس العلامۃ الشامی فی ردالمحتار نبھت علیہ فیما علقت علیہ ولعل لنا فی اٰخر الکلام عودا الیہ۔
اقول : اور یہاں قضیہ اور اس کے عکس کو سمجھنے میں علامہ شامی کو رد المحتار میں ایك وہم در پیش ہوا ہے جس پر میں نے حاشیہ رد المحتار میں تنبیہ کی ہے۔ اور امید ہے کہ آخر کلام میں ہم اس طرف لوٹیں گے ۔ (ت)
اور اگر ثابت کر لیں کہ جو ظاہر رطوبت بدن سے نکلے اگرچہ سائل ہو ناقض نہیں تو اب اس تجشم کی حاجت نہ رہے گی کہ آب دہانِ نائم سے استدلال کیجئے خود آب بینی فــــ کی طہارت مصرح و منصوص ہے ۔ در مختار مسائل قے میں ہے : المخاط کالبزاق[4] (ناك کی رینٹھ تھوك کی طرح ہے۔ ت) خود علامہ طحطاوی پھر شامی فرماتے ہیں :
وما نقل عن الثانی من نجاسۃ المخاط فضعیف [5]
اور امام ابو یوسف سے جو منقول ہے کہ رینٹھ نجس ہے وہ ضعیف ہے (ت)
تو مسئلہ قے بلغم سے استدلال جس طرح فقیر نے کیا اسلم واحکم ہے جس میں خود علامہ طحطاوی کو اقرار ہے کہ رطوبات بلغمیہ جب دماغ سے اتری ہوں بالاجماع ناقض وضو نہیں۔
ثم ۶۷اقول : اب یہ نظر کرنی رہی کہ آیا کلیہ مذکورہ ثابت ہے کہ اگر ثابت ہوتو یہاں تك استظہار علامہ طحطاوی کے خلاف دو دلیلیں ہوجائیں گی۔ مسئلہ قے ومسئلہ آب بینی کہ فقیر نے عرض کئے اور علامہ شامی کے طور پر تین ، تیسری مسئلہ آبِ دہان نائم کہ وہ مثل بزاق یعنی لعابِ دہن ہے اور لعابِ دہن وبلغم جنس واحد ہیں اور انھیں کی جنس سے آبِ بینی ہے وہی رطوبات ہیں کہ قدرے غلیظ وبستہ ہوں تو بلغم کہلائیں رقیق ہو کہ منہ سے آئیں تو آبِ دہن غلیظ یا رقیق ہو کر ناك سے آئیں تو آبِ بینی۔
[1] الدر المختار کتاب الطہارۃمطبع مجتبائی دہلی۱ / ۲۶
[2] ردالمحتار کتاب الطہارۃ دارا حیاء التراث العربی بیروت۱ / ۹۵
[3] حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الطہارۃ المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ / ۸۱
[4] الدر المختار کتاب الطہارۃمطبع مجتبائی دہلی۱ / ۲۶
[5] ردالمحتار کتاب الطہارۃ دارا حیاء التراث العربی بیروت۱ / ۹۴ ، حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الطہارۃ المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ / ۸۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع