30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہ تصریحاتِ جلیہ ہیں کہ بلغم جو دماغ سے اُترے بالاجماع ناقضِ وضو نہیں اور ظاہر ہے کہ زکام کی رطوبتیں دماغ ہی سے نازل ہیں تو ان سے نقضِ وضو کسی کا قول نہیں ہو سکتا ، حکمِ مسئلہ تو اسی قدر سے واضح ہے مگر یہاں علامہ سید طحطاوی فـــ۱ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکو ایك شبہہ عارض ہوا جس کا منشا یہ کہ ہمارے علماء نے فرمایا : جو سائل چیز فــــ۲ بدن سے بوجہِ علت خارج ہو ناقضِ وضو ہے مثلًا آنکھیں دُکھتی ہیں یا جسے ڈھلکے کا عارضہ ہو یا آنکھ ، کان ، ناف وغیرہ میں دانہ یا ناسور یا کوئی مرض ہو ان وجوہ سے جو آنسو ، پانی بہے وضو کا ناقض ہوگا ۔ درمختار باب الحیض میں ہے :
صاحب عذر من بہ سلس بول او استحاضۃ اوبعینہ رمد اوعمش اوغرب وکذا کل ما یخرج بوجع ولو من اذن او ثدی وسرۃ [1]۔
عذر والا وہ ہے جسے بار بار پیشاب کا قطرہ آتا ہو یا استحاضہ ہو یا آنکھ میں رمد یا عمش یا غرب ہو ( آشوب یا چندھا پن یا کوئی پھنسی ہو ) اور اسی طرح ہر وہ چیز جو کسی بیماری کی وجہ سے نکلے اگرچہ کان یا پستان یا ناف سے ہو ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ رمدای ولیسیل منہ
قولہ “ آشوب ہو “ یعنی اس سے پانی بھی
فــــ۱ : ۴۱معروضۃ علی العلامۃ ط۔
فــــ۲ : مسئلہ : آنکھیں دکھنے یا ڈھلکے میں جو آنسو ہے یا آنکھ ، کا ن ، چھاتی ، ناف وغیرہ سے دانے ناسور خواہ کسی مرض کے سبب پانی بہے وضو جاتا رہے گا۔
الدمع قولہ عمش ضعف الرؤیۃ مع سیلان الدمع فی اکثر الاوقات ، قولہ غرب ، قال المطرزی ھو عرق فی مجری الدمع یسقی فلا ینقطع مثل الباسور عن الاصمعی بعینہ غرب اذا کانت تسیل ولا تنقطع دموعھا والغرب بالتحریك ورم فی الماٰقی اھ [2]
بہتا ہو ----- قولہ عمش یعنی اکثر اوقات پانی بہنے کے ساتھ ، بصارت کی کمزوری ہو----- قولہ غرب -----مطرزی نے کہا : یہ آنسو بہنے کی ایك رگ ہوتی ہے جو بہنے لگتی ہے تو بند نہیں ہوتی جیسے بواسیر---- اصمعی سے منقول ہے : “ بعینہ غرب “ اس وقت بولتے ہیں جب آنکھ بہتی رہتی ہو اور اس کے ساتھ آنسو تھمتے نہ ہوں۔ اور غَرَب----- را پر حرکت کے ساتھ ---- آنکھ کے کویوں میں ایك ورم ہوتا ہے ۔ (ت)
اس پر علامہ طحطاوی نے فرمایا :
ظاھرہ یعم الانف اذا زکم [3]۔
یعنی ظاہرًا یہ مسئلہ ناك کو بھی شامل ہے جب زکام ہو ۔
علامہ شامی نے اُس پر اعتراض کیا کہ ہمارے علما ء تصریح فــــ۱فرما چکے ہیں کہ سوتے آدمی کے مُنہ سے جو رال بہے اگرچہ پیٹ سے آئے اگرچہ بدبودار ہو پاك ہے ، قول سید طحطاوی نقل کرکے فرماتے ہیں :
لکن صرحوا بان ماء فم النائم طاھر ولو منتنا فتأمل۔ [4]
لیکن ہمارے علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ سونے والے کے منہ کی رال اگرچہ بدبو دار ہے ، پاك ہے۔ تو تأمل کرو ۔ (ت)
۶۶اقول : علامہ طحطاوی کی طرف سے اس پر دو۲ شبہے وارد ہوسکتے ہیں :
اوّل : کلام فــــ۲ اس پانی میں ہے کہ مرض سے بہے اور سوتے میں رال نکلنا مرض نہیں ، نہ اس کی
فــــ۱ : مسئلہ : سوتے میں جو رال بہے اگرچہ پیٹ سے آئے اگرچہ بدبودار ہوپاك ہے۔
فــــ۲ : ۴۲معروضۃ علی العلامۃ ش
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع