30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
مسئلہ ۷ فــــ : غرہ ذی القعدہ ۱۳۲۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زکام جاری ہونے سے وضو جاتا ہے یا نہیں ۔ بینوا توجروا(بیان کیجیے اجر لیجیے ۔ ت)
الجواب :
تمام تعریف خدا کے لئے ، جس کی حمد نور ہے اور جس کا ذکر ، طہور ہے ، اور درود و سلام ہو ہر طیب و طاہر کے سردار اور ان کی اطیب و اطہر آل و اصحاب پر۔ (ت)
الحمد لله الذی حمدہ نور وذکرہ طہور والصلاۃ والسلام علی سید کل طیب طاہر واٰلہ وصحبہ الاطائب الاطاھر
زکام کتنا ہی جاری ہو اس سے وضو نہیں جاتا کہ محض بلغمی رطوبات طاہرہ ہیں جس میں آمیزش
فــــ : مسئلہ : زکام کتناہی بہے وضو نہیں جاتا۔
خون یا ریم کا اصلًا احتمال نہیں ۔
۶۵اقول : ہمارے علماء تصریح فرماتے ہیں کہ بلغم کی قے فــــ کسی قدر کثیر ہو ، ناقضِ وضو نہیں۔ درمختار میں ہے :
لاینقصہ قیئ من بلغم علی المعتمد اصلا[1]۔
قولِ معتمد کی بنیاد پر بلغم کی قے اصلًا ناقضِ وضو نہیں۔ (ت)
حاشیہ علامہ طحطاوی میں ہے :
شامل للنازل من الرأس والصاعد من الجوف وقولہ علی المعتمد راجع الی الثانی لان الاول بالاتفاق علی الصحیح[2]۔
یہ حکم سر سے اترنے والے اور معدہ سے چڑھنے والے دونوں قسم کے بلغم کو شامل ہے اور ان کا قول “ علی المعتمد “ (قول معتمد کی بنیاد )دوم (معدہ والے ) کی طرف راجع ہے کیونکہ صحیح یہ ہے کہ اول میں وضو نہ ٹوٹنے کا حکم بالاتفاق ہے ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
اصلا ای سواء کان صاعدامن الجوف اوناز لامن الراس ح خلافا لا بی یوسف فی الصاعد من الجوف الیہ اشار بقولہ علی المعتمد ولو اخرہ لکان اولی[3] اھ ای لان تقدیمہ یوھم ان فی عدم النقض بالبلغم خلافا مطلقًا ولیس کذلك فی الصحیح۔
“ اصلًا “ یعنی معدہ سے چڑھنے والا ہو یا سر سے اُترنے والا __ ح__اور معدہ سے چڑھنے والے میں امام ابو یوسف کا اختلاف ہے ۔ اس کی طرف لفظ “ علی المعتمد “ سے اشارہ کیا ہے ، اگر اسے “ اصلًا “ کے بعد رکھتے تو بہتر تھا ا ھ۔ یعنی اس لئے کہ اسے پہلے رکھ دینے سے یہ وہم ہوتا ہے کہ بلغم سے وضو ٹوٹنے میں مطلقًا اختلاف ہے حالاں کہ بر قولِ صحیح ایسا نہیں ہے ۔ (ت)
فــــ : مسئلہ : بلغم کی قے کتنی ہی کثیر ہو وضو نہ جائے گا ۔
نور الایضاح ومراتی الفلاح میں ہے :
عشرۃ اشیاء لاتنقض الوضوء منھا قیئ بلغم ولوکان کثیرالعدم تخلل النجاسۃ فیہ وھو طاھر۔ [4]
دس چیزیں ناقضِ وضو نہیں ہیں ان میں سے ایك بلغم کی قے ہے اگرچہ زیادہ ہو ، اس لئے کہ نجاست اس کے اندر نہیں جاتی اور وہ خود پاك ہے ۔ (ت)
[1] الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۶
[2] حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختارکتاب الطہارۃ المکتبۃ العربیہ کوئٹہ۱ / ۷۹
[3] ردالمحتار کتاب الطہارۃ مطلب فی نواقض الوضوءداراحیاء التراث العربی بیروت۱ / ۹۴
[4] مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی ، کتاب الطہارۃ فصل عشرۃ اشیاء لا تنقض الوضوء ، دارالکتب العلمیہ بیروت ، ص۹۳۔ ۹۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع