30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہاں اس کا منہ ناپاك ہوگیا اور اس کے بعد
ذلك الی ثلث نجس وکذلك الیہ التی تمضمض بھا فان قطرت قطرۃ من الید فی الاناء اعنی داخلہ فی الماء قبل تمام الثلث فقد تنجس ماء الاناء والتمضمض بہ بعد ذلك لایزید الفم والیدالا تنجسا ثم اذا توضأ بذلك الماء فقد عمت النجاسۃ اعضاء الوضوء وکل مااصابہ ذلك الماء من بدن اوثوب وکلما توضأ بما ء وقعت فیہ قبل الوضوء قطرۃ من یدہ المتنجسۃ فانہ تنجس والغسل بالنجس لایفید طہرا ولا خفۃ وان غسل الف مرۃ فاعضاؤہ وثیابہ کلہا الی الاٰن علی نجاستھا فانکانت القطرۃ التی قطرت اول مرۃ فی الماء من بقیۃ المضمضۃ الاولی یجب غسل کل مااصابہ ماء شیئ من الوضوءات ثلث مرات وانکانت من المضمضۃ الثانیۃ فمرتین اوالثالثۃ فمرۃ واحدۃ لان النجاسۃ تقبل التشکیك فقبل الغسل نجاسۃ لاتطھر الا بتثلیث الغسل وبعد الغسل بمائع طاھر قالع مرۃ نجاسۃ تطھر بغسلتین تعد الغسل مرتین نجاسۃ تطہر بغسلۃ واحدۃ والماء المصیب
تین کلیوں تك کلی کا پانی ناپاك ہے ، یوں ہی وہ ہاتھ جس سے کلی کی تھی ، تو اگر ہاتھ کی بوند برتن میں یعنی اس کے اندر پانی میں تین کلیاں پوری ہونے سے پہلے ٹپکی تو برتن کا پانی ناپاك ہوگیا۔ اور اب اس سے کلی کرنا ہاتھ اور منہ کی نجاست ہی بڑھائے گا ، پھر جب اس پانی سے وضو کیا تو اب تمام اعضائے وضو اور جس جس بدن یا کپڑے کو پانی پہنچا سب ناپاك ہوگئے اور جتنی بار ایسے پانی سے وضو کیا جس میں پیش از وضو ناپاك ہاتھ کی بوند گری وہ پانی ناپاك ہوگیا اور ناپاك پانی سے دھونا تو پاك کرے نہ ناپاکی کم ہو اگرچہ ہزار بار دھوئے تو اس کے اعضاء اور کپڑے سب اب تك نجس ہیں ، پس اگر وہ قطرہ کہ پہلی بار پانی میں ٹپکا پہلی کلی کے بقیہ سے تھا جب تو کسی بارے میں وضو کا پانی جس چیز کو لگا اُسے تین بار دھونا واجب ہے ، اور اگر دوسری کلی کا تھا تو دوبار ، اور تیسری کا تو ایك بار ، اس لیے کہ نجاست فـــــ کم وبیش ہونے کی قابلیت رکھتی ہے ، دھونے سے پہلے تو وہ نجاست ہے کہ بغیر تین بار دھوئے پاك نہ ہوگی ، اور جب کسی پاك بہتی چیز سے جو لگی ہوئی چیز کو چھڑانے والی ہے ایك بار دھولیں تو اب وہ نجاست ہے کہ دوبار دھونے سے پاك ہوگی ، اور جب دوبار
فـــــ : مسئلہ : نجاست کہ تین پانیوں سے دھوئی جاتی ہے ، پہلا پانی جس چیزکو لگے وہ تین با ر دھونے سے پاك ہوگی اور دوسراپانی لگے تو دوبار ، اور تیسرا تو ایك ہی بار دھونے سے پاك ہی ہو جائے گی ۔
شیئا نجسا انمایکتسب من النجاسۃ قدر مافی المصاب فماء الغسلۃ الا ولی نجس بالنجاسۃ الکاملۃ لایطھر مایصیبہ الابثلث غسلات وماء الغسلۃ الثانیۃ نجس بنجاسۃ تطھرھا غسلتان ، فما یصیبہ یطھر بمرتین وفی ماء الثالثۃ نجاسۃ تطھر بغسلۃ فما اصابہ یطھر بمرۃ ھذا کلہ اذا تحقق وقوع القطرۃ فی الماء ومجرد بقاء شیئ من ماء المضمضۃ فی الید لایقضی بہ جزما لجواز ان لایقع مافیھا الاعلی الاناء من فوق فلا ینجس الاسطحہ الفوقانی اوفی الاناء فوق موضع الماء فلا تنجس الماء مالم یصبہ ر اکد او حنیئذ یطھرہ التوضی الثالث ان مرالماء کل
دھولیا تو اب وہ نجاست ہے کہ ایك ہی بار دھونے سے پاك ہوجائیگی اور جو پانی کسی چیز سے ملے اس میں اسی قدر نجاست آئیگی جو اس چیز میں تھی ، تو پہلی بار کا دھوون پوری نجاست سے نجس ہے کہ جسے یہ پانی لگے گا وہ بغیر تین دفعہ دھوئے پاك نہ ہوگی ، اور دوسرا دھوون اس نجاست سے نجس ہے جسے دوبارہ دھونا پاك کردے گا ، تو جس چیز کو یہ دھوون لگے وہ دو دفعہ دھونے سے پاك ہوجائیگی ، اور تیسرے دھوون میں وہ ناپاکی ہے جو ایك ہی بار دھونے سے پاك ہوجائیگی تو یہ جس چیز پر پہنچے وہ ایك ہی بار دھونے سے طہارت حاصل کرلے گی ، یہ سب اس وقت ہے کہ اس پانی میں بوند کا ٹپکنا تحقیق ہو ، فقط اتنی بات کہ کلی کا کچھ پانی ہاتھ میں رہ جاتا ہے پانی میں قطرہ گرنے کو مستلزم نہیں ، ممکن ہے کہ ہاتھ کی بوند برتن کے اوپر فـــــ گری ہو تو صرف اس کی سطحِ بالا ناپاك ہوگی یا برتن کے اندر جہاں تك پانی ہے اُس جگہ سے اوپر گری ہوتو پانی ناپاك نہ ہوگا جب تك ٹھہرے ہونے کی حالت میں اس بوند کی جگہ سے نہ ملے ، ولہذااگرصرف پہلی بار
فـــــ : مسئلہ : ناپاك بوندیں برتن کے اوپر گریں اوراندر پانی ہے یا اندر ہی بوند گری مگر جہاں پانی تھا اس جگہ سے اوپر گری تو پانی ناپاك نہ ہو گا جب تك ٹھہرے ہوئے ہونے کی حالت میں اندرکی بوند پر نہ گزرے ۔
مرۃ علی کل ما اصابہ الماء للمتنجس اذا تحقق وقوع القطرۃ فی الماء اول مرۃ لافی ھذہ المرات الثلث وان لم یتحقق حتی فی المرۃ الاولی فھوطا ھر من اول مرۃ کما لایخفی وقس علیہ والله تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
ناپاك بوند کاپانی میں گرنا تحقیق ہوا اور اسکے بعد جو تین وضو اور کیے ان میں خاص پانی میں گرنا تحقیق نہ ہو تو پچھلا وضو اسے ناپاك کر دے گا ، اگر تینوں با رآب وضو اس تما م موضع پر گزرا ہو جو اس ناپاك پانی سے نجس ہوا تھا ، اوراگر پہلی ہی باراس بوند کا پانی میں گرنا تحقیق نہ ہو جب تو دوسرے سے پاك ہے کما لا یخفی اوراسی پر اور صورتیں قیاس کر لو۔ والله تعالی اعلم
______________________
رسالہ
لمع الاحکام ان لاوضوء من الزکام ۱۳۲۴ھ
(روشن احکام کہ زکام سے وضو نہیں)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع