30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قولہ مع فقد مانعہ بان لایحصل ناقض فی خلال الطہارۃ لغیر معذور بہ [1]۔
عبارتِ شرح “ کوئی مانع طہارت نہ ہو “ اس طرح کہ درمیان طہارت کوئی ناقض نہ پیدا ہو یہ اس کے لئے ہے جو اسی ناقض کے عذر میں مبتلا نہ ہو۔ (ت)
نیز درمختار میں ہے : ؎
فـــــ: مسئلہ : وضو کرتے میں ناقض وضو واقع ہو تو سرے سے وضو کرے ۔
وشرط لتصحیح الوضوء زوال مایبعد ایصال المیاہ من ادران ، کشمع و رمص ثم لم یتخلل الوضوء مناف یا عظیم ذوی الشان[2]۔
ضو درست کرنے کے لئے شرط ہے ایسی آلودگی کا دور ہونا جس کی وجہ سے پانی عضو تك نہ پہنچ سکے جیسے موم اور آنکھ کا کیچڑ ۔ پھر یہ کہ وضو کے درمیان کوئی منافی نہ پایا جائے اے اہل شان میں باعظمت ! (ت)
حاشیہ علامہ سید احمد مصری طحطاوی پھر ردالمحتار میں ہے :
قولہ مناف کخروج ریح ودم[3] اھ زادالشامی ای لغیر المعذور بذلك[4]۔ اھ
قولہ “ کوئی منافی “ جیسے ریح یا خون نکلنا ، ا ھ علامہ شامی نے اضافہ کیا یعنی اس کے لئے جو اس میں معذور نہ ہو ا ھ۔
جواہر الفتاوٰی فـــــ۱ امام اجل صدر شہید رکن الدین ابو بکر محمد بن ابی المفاخر بن عبدالرشید کرمانی کتاب الطہارۃ باب ثالث فتاوائے امام شیخ الاسلام عطا ء بن حمزہ سغدی میں ہے :
رجل ضرب الید علی الارض للتیمم و رفعھا وقبل ان یمسح بہاوجہہ وذراعیہ احدث بریح اوصوت قال بعضھم یجوز التیمم بمنزلۃ فـــــ۲ من ملأ کفیہ ماء الوضوء فاحدث ثم استعملہ فی بعض الوضوء فانہ
کسی نے تیمم کے لئے زمین پر ہاتھ مار کر اٹھایا اور چہرے یا کلائیوں پر ہاتھ پھیرنے سے پہلے بلاآواز یا آواز کے ساتھ ریح نکلنے سے اس کو حدث ہوا تو بعض نے کہا اس ضرب سے تیمم جائز ہے جیسے کسی نے وضو کا پانی ہتھیلیوں میں لیا کہ اسے حدث ہو گیا پھر اس پانی کو وضو میں استعمال کر لیا تو
فـــــ۱ : مسئلہ : تیمم کے لئے ضرب کی اور ابھی منہ یاہاتھ پر نہ ملنے پایا تھا کہ حدث واقع ہوا تو ازسر نو ضرب کرے ۔
فـــــ۲ : مسئلہ : پانی چلو میں لیا اور ابھی استعمال نہ کیا تھا کہ حدث واقع ہوا بعض کے نزدیك اس پانی کووضو میں استعمال کر سکتا ہے اورمصنف کی تحقیق کہ یہ خلاف صحیح ہے وہ چلو وضو میں کام نہیں دے سکتا ۔
یجوز وقال السید الامام ناصر الدین لایجوز وھو اختیار الامام الشجاع بسمرقند لان الضربۃ من التیمم قال صلی الله تعالٰی علیہ وسلم التیمم ضربتان فقداتی ببعض التیمم ثم احدث فینقض کما اذا حصل الکل وھذہ بمنزلۃ الوضوء اذاحصل فی خلالہ نقض ماوجدکما ینتقض بعد تمامہ اذا حصل قال الامام ظھیر الدین المرغینانی مااختارہ السید الامام حسن بہ ناخذاھ [5]۔
۶۴اقول : وبالله التوفیق فـــــ ماذکر ذلك البعض فی الاستشھادلہ من مسألۃ من ملاء کفیہ وضوء الخ انما یتمشی علی احدی روایتین غیر ماخوذ تین ، الاولی قول الامام الثانی ان شرط الاستعمال الصب والنیۃ وقد فقدافی الصورۃ المذکورۃ
یہ جائز ہے اور سیدنا امام ناصر الدین نے فرمایا کہ ناجائز ہے اسی کو سمرقند کے امام شجاع الدین نے اختیار کیا اس لئے کہ ضرب بھی تیمم کا ایك حصہ ہے ۔ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا ارشاد ہے : “ تیمم دو ضرب ہے “ تو صورت یہ ہوئی کہ کچھ تیمم اس نے کر لیا پھر اسے حدث ہوا تو یہ ناقض ہو گا جیسے اگر کُل تیمم ہو چکا ہوتا تو جاتا رہتا اور یہ ایسے ہی ہے جیسے وضو کے درمیان کوئی ناقض پایا گیا تو جتنا وضو ہو چکا ہے وہ جاتا رہے گا جیسے وضو مکمل ہونے کے بعد وہ ناقض پائے جانے کی صورت میں پورا وضو جاتا رہتا ۔ امام ظہیر الدین مرغینانی نے فرمایا : جو سیّد امام ناصر نے اختیار کیا وہ عمدہ ہے اور ہم بھی اسی کو اختیار کرتے ہیں ا ھ ۔
اقول : وبالله التوفیق۔ ان بعض نے اپنے قول کی شہادت میں ، وضو کے لئے ہتھیلیوں میں جو پانی لینے کا مسئلہ ذکر کیا ہے وہ دو غیر ماخوذ روایتوں میں سے ایك کی بنیاد پر چلنے والا ہے ---- پہلی روایت : امام ابو یوسف کا یہ قول کہ مستعمل ہونے کے لئے بہانا اور نیت شرط ہے اور مذکورہ صورت میں دونوں
[1] ردالمحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۰
[2] الدر المختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۷
[3] حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الطہارۃ المکتبۃ العربیۃ کوئٹہ ۱ / ۵۷
[4] رد المحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۰
[5] جواہر الفتاوی کتاب الطہارۃ الباب الثالث (قلمی نسخہ) فوٹو کاپی ص ۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع