30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جائے اور خدائے پاك و برتر ہی خوب جانتاہے اور چاہئے کہ ہم اس روشن تحریر کا نام یہ رکھیں : “ تَنْوِیرُ الْقِنْدِیلِ فِیْ اَوْصَافِ الْمِنْدِیلِ(۱۳۲۴ھ) (رومال کے اوصاف بیان کرنے میں قندیل کی تنویر ۔ ت) اور تمام ستائش خدا کیلئے جو سارے جہانوں کا رب ہے ۔
مسئلہ ۴ : مرسلہ شیخ شوکت علی صاحب ۱۲ ربیع الآخر شریف ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس صورت میں کہ شرع محمدی فصل بست وہشتم دربیان مکروہات وضو میں ہے ؎
تیسرے تانبے کے برتن سے اگر
ہے وضو ناقص کرے گا جو بشر
یہ نہ معلوم ہوا کہ تانبے کے برتن سے کیوں وضو ناقص ہے آج کل بہت شخص تانبے کے برتن لوٹے سے وضو کرتے ہیں کیا ان سب کا وضو ناقص ہوتا ہے بینوا توجروا( بیان کرواجر دیے جاؤگے ۔ ت)
الجواب :
تانبے کے برتن سے وضو کرنا ، اُس میں کھانا پینا ، سب بلاکراہت جائز ہے ، وضو میں کچھ نقصان نہیں آتا۔ ہاں قلعی کے بعد چاہیے بے قلعی برتن میں کھانا پینا مکروہ ہے کہ جسمانی ضرر کا باعث ہے اور مٹی کا برتن تانبے سے افضل ہے۔ علماء نے وضو کے آداب ومستحبات سے شمار فرمایا کہ مٹی کے برتن سے ہو اور اس میں کھانا پینا بھی تواضع سے قریب تر ہے۔ ردالمحتار میں فتح القدیر سے ہے :
(منھا) ای من اٰداب الوضو( کون اٰنیتہ من خزف) [1]
(ان ہی میں سے) یعنی آدابِ وضو میں سے (یہ ہے کہ وضو کا برتن پکی مٹی کا ہو ) ۔ (ت)
اُسی میں اختیار شرح مختار سے ہے ۔
(اتخاذھا) ای اوانی الاکل والشرب (من الخزف افضل اذلا سرف فیہ ولا مخیلۃ وفی الحدیث من اتخذ اوانی بیتہ خزفا زارتہ الملٰئکۃ ویجوز اتخاذھا من نحاس او رصاص[2]
کھانے پینے کے برتن مٹی کے ہونا افضل ہے کہ اُس میں نہ اسراف ہے نہ اِترانا ، اور حدیث میں ہے : جو اپنے گھر کے برتن مٹی کے رکھے فرشتے اس کی زیارت کریں۔ اور تانبے اور رانگ کے بھی جائز ہیں۔
اُسی میں ہے :
یکرہ الاکل فی النحاس بالغیر المطلی بالرصاص لانہ یدخل الصداء فی الطعام فیورث ضررا عظیما واما بعدہ فلا [3] اھ ملخصا والله تعالٰی اعلم
بغیرقلعی کیے ہوئے تانبے کے برتن میں کھانا مکروہ ہے ، کیونکہ اُس کا زنگ کھانے میں مل کر ضررِ عظیم پیدا کرتا ہے اور قلعی ہو جانے کے بعد ایسا نہیں ا ھ ملخصاً۔ (ت) والله تعالٰی اعلم ۔
مسئلہ ۵ : فـــــ ۲۴ ربیع الاول ۱۳۱۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر درمیان وضو کرنے کے ریح خارج ہوجائے یعنی دو عضو یا تین عضو دھولیے ہیں اور ایك یا دوباقی ہیں تو اس شخص کو ازسرِ نو وضو کرنا چاہیے یاجو عضو باقی رہا ہے صرف اسی کو دھولینا کافی ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
ازسرِنو وضو کرے اتنے اعضاء کا غسل باطل ہوگیا مسئلہ بدیہیہ ہے کہ ناقضِ کامل ناقضِ ناقص بدرجہ اولٰی ہے معہذا جزئیہ کی بھی تصریح ہے۔ درمختار میں ہے :
شرط صحتہا ای الطہارۃ (صدور الطہر من اھلہ فی محلہ مع فقد مانعہ) [4]۔
صحتِ طہارت کی شرط یہ ہے کہ طہارت کے اہل سے اس کی جگہ پر واقع ہو اور کوئی مانع طہارت نہ ہو (ت)
ردالمحتار میں ہے :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع