دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 1 | فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

ذکرہ صاحب المنیۃ فی الغسل وقال فی الحلیۃ ولم ارمن ذکرہ غیرہ وانما وقع الخلاف فی الکراھۃ [1] الخ فاشارالی ان نقلہ الی الوضوء تفرد علی تفرد۔

اسے صاحبِ منیہ نے غسل کے بیان میں ذکر کیا اور حلیہ میں اس پر لکھا کہ صاحبِ منیہ کے سوا کسی اور کے یہاں میں نے اس کا ذکر نہ دیکھا بلکہ یہاں تو کراہت میں اختلاف ہے الخ ۔ اس سے علامہ شامی نے اشارہ کیا کہ اس استحباب کو غسل سے نکال کر وضو میں لانا صاحبِ درمختار کا تفرد پر تفرد ہے (ت)

ہاں علامہ طحطاوی نے قولِ دُر کو بعد استنجاء آبِ استنجاء فـــــ رومال سے پونچھنے پر حمل کیا اور وہ محمل حسن ہے متعدد کتب میں اس کا  استحباب مصرح ہے ،

قال ط قولہ والتمسح ای مسح موضع الاستنجاء بخرقۃ کذافی فتح القدیر[2] اھ   سیّد طحطاوی نے کہا : قولہ والتمسح یعنی مقام استنجاء کو کسی کپڑے سے پونچھ لینا ، ایسا ہی فتح القدیر میں ہے ا ھ (ت)

منیہ کے آداب الوضو میں ہے :  

وان یمسح موضع الاستنجاء بالخرقۃ بعد الغسل قبل ان یقوم وان لم یکن معہ خرقۃ یجففہ بیدہ ۔[3]

مقام استنجاء کو دھونے کے بعد کھڑے ہونے سے پہلے کپڑے سے پونچھ لے --- اور پا س میں کپڑا نہ ہو تو ہاتھ سے خشك کر لے ۔ (ت)

حلیہ میں ہے :

یعنی الیسری مرۃ بعد اخری حتی لایبقی البلل علی ذلك المحل ومنھم

یعنی بائیں ہاتھ سے بار بار پُونچھ لے کہ اس جگہ تری نہ رہ جائے اور بعض نے استنقاء (صفائی)

 

فـــــ : مسئلہ پانی سے استنجے کے بعد کپڑے سے خوب صاف کرلینا مستحب ہے کپڑا نہ ہو تو باربار بائیں ہاتھ سے یہاں تك کہ خشك ہو جائے ۔

من فسر الاستنقاء بھٰذا[4]۔

کی یہی تفسیر کی ہے ۔ (ت)

غنیہ میں ہے :

لیزول اثر الماء المستعمل بالکلیۃ[5] الخ ثم قال ط وفی الہندیۃ ولایمسح فـــــ۱ سائر اعضائہ بالخرقۃ التی یمسح بھا موضع الاستنجاء فلاینا فی انہ یمسح بغیرھا[6] اھ ونحوہ فی ردالمحتار۔

 اقول٦٠ :  نعم وکرامۃ فـــــ۲ ولکن لایقتضی ایضا استحباب مسح غیرہ بغیرھا کمالا یخفی فلا یفید کلام الشارح رحمہ الله تعالٰی۔

تاکہ ماءِ مستعمل کا اثر بالکل ختم ہو جائے الخ ----- آگے سید طحطاوی نے فرمایا : اور ہندیہ میں ہے کہ جس کپڑے سے مقامِ استنجاء کو پونچھے اس سے دیگر اعضائے بدن کو نہ پونچھے تو یہ دوسرے کپڑے سے  پُونچھ لینے کے منافی نہیں ا ھ ---- اور اسی کے ہم معنی ردالمحتار میں بھی ہے ،

اقول : ہاں منافی نہیں اور دیگر اعضاء کی عزت کا لحاظ بھی ہے لیکن اس کا تقاضا یہ بھی نہیں کہ باقی بدن کو دوسرے کپڑے سے پونچھ لینا مستحب ہے ۔ جیساکہ واضح ہے۔ تو یہ کلامِ شارح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے لئے مفید بھی نہیں ۔ (ت)

تنبیہ : علماء میں مشہور ہے کہ اپنے دامن فـــــ۳  آنچل سے بدن نہ پونچھنا چاہئے اور اسے بعض سلف سے نقل کرتے ہیں اور ردالمحتار میں فرمایا : دامن سے ہاتھ منہ پونچھنا بھول پیدا کرتا ہے۔ لمعات باب الغسل میں ہے :

الاولی ان لا ینشف بذیلہ وطرف

اولٰی یہ ہے کہ اپنے دامن یا لباس کے کنارے

 

 



[1]   ردالمحتار  کتاب الطہارۃمطلب فی التمسح بمندیل  داراحیاء التراث العربی بیروت۱ / ۸۹

[2]   حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الطہارۃ  المکتبۃ العربیہ کوئٹہ  ۱ / ۷۶

[3]   منیۃالمصلی کتاب الطہارۃ مستحبات الوضوء  مکتبہ قادیہ لاہور  ص۲۷

[4]   حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی

[5]   غنیۃ المستملی کتاب الطہارۃ آداب الوضوء سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۱

[6]   حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الطہارۃ  المکتبۃ العربیہ کوئٹہ  ۱ / ۷۶

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن