30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایراث کراھۃ المسح قد قدمناہ وان سلم فـــــ۱ فالنقل فی الوضوء نقل فی الغسل بالقیاس الجلی فـــــ۲ ، بل بدلالۃ النص ، فان الغسل حسنۃ کالوضوء فان کان یوزن ماء الوضوء فکذا ماؤہ بل ھو اولی لانھا طہارۃ کبرٰی وماؤہ اکثر واوفی ، وانما الامر عندی والله تعالٰی اعلم ان حبر الامۃ رضی الله تعالٰی عنہ رأی فی منعہ فی الغسل حرجا کما اسلفنا۔
کئے جانے کی فضیلت اسے پونچھنے میں کراہت لانے سے قاصر ہے----- اور اگر اسے مان ہی لیں تو ( وہی حکم غسل میں بھی ہونا چاہئے اگرچہ خاص لفظ غسل کے ساتھ حدیث واردنہیں ہے کیونکہ ۱۲ م ) وضو میں منقول ہونا قیاس جلی ، بلکہ دلالۃ النص کی رُو سے غسل میں بھی منقول ہونا ہے اس لئے کہ وضو کی طرح غسل بھی ایك نیکی ہے تو اگر وضو کا پانی تولا جائے گا تو غسل کا پانی بھی ایساہی ہوگا بلکہ وہ بدرجہ اولٰی ہو گا اس لئے کہ وہ طہارتِ کبرٰی ہے اور اس کا پانی زیادہ وافر بھی ہوتا ہے ، ------ میرے نزدیك اس کی وجہ----- والله تعالٰی اعلم ------ یہی ہے کہ حبرامت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے غسل کے اندر اس سے ممانعت میں حرج دیکھا جیسا کہ پہلے ہم بیان کر آئے ہیں ۔
بالجملہ تحقیق مسئلہ و ہی ہے کہ کراہت اصلاً نہیں ، ہاں حاجت نہ ہو تو عادت نہ ڈالے اور پُونچھے بھی تو حتی الوسع نم باقی رکھنا افضل ہے ۔ فتاوٰی امام قاضی خان میں ہے :
لاباس للمتوضئ والمغتسل ان یتمسح بالمندیل روی عن رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم انہ کان یفعل ذلك ومنھم من کرہ ذلك ومنھم من کرہ للمتوضی دون
وضو و غسل کرنے والے کے لئے رومال سے بدن پونچھنے میں حرج نہیں ، رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے مروی ہے کہ وہ ایسا کرتے تھے ۔ بعض نے اسے مکروہ کہا ہے ، اور بعض نے وضو کرنے والے کے لئے مکروہ کہا ہے غسل والے
فـــــ۱ : ۳۷تطفل آخر علیہا
فـــــ۱ : غسل کاپانی بھی نیکیوں کے پلے میں رکھاجانا ظاہر ہے
المغتسل والصحیح ماقلناہ الاانہ ینبغی ان لایبالغ ولایستقصی فیبقی اثر الوضوء علی اعضائہ۔ [1]
کے لئے نہیں اور صحیح وہی ہے جو ہم نے کہا مگر چاہئے کہ اس میں مبالغہ نہ کرے اور پانی بالکل خشك نہ کر دے اعضاء پر کچھ اثر باقی رہنے دے ۔ (ت)
حلیہ میں ہے :
وکذا وقع ذکر التنشیف بلفظ لاباس فی خزانۃ الاکمل و غیرہ و عزاہ فی الخلاصۃ الی الاصل بھذا للفظ ایضاً [2] اھ
اسی طرح خزانۃ الاکمل وغیرہ میں پانی سُکھانے کا ذکر “ لا باس “ (حرج نہیں ) کے لفظ کے ساتھ آیا ہے اور ان ہی الفاظ کے ساتھ خلاصہ میں اسے اصل ( مبسوط) کے حوالہ سے بیان کیا ہے ۔ (ت)
یہاں سے ظاہر ہوا فـــــ کہ وہ جو درمختار میں واقع ہوا کہ وضو کے بعد رومال سے اعضاء پونچھنا مستحب ہے ۔
حیث قال من الاٰداب التمسح بمندیل وعدم نفض یدہ[3] اھ
اس کے الفاظ یہ ہیں کہ : آدابِ وضو میں یہ بھی ہے کہ رومال سے پانی پونچھ لے اور ہاتھ سے نہ جھاڑے ا ھ ۔ (ت)
اور منیہ میں واقع ہوا کہ غسل کے بعد مستحب ہے حیث قال ویستحب ان یمسح بمندیل بعد الغسل[4] اھ
(اس کے الفاظ یہ ہیں : مستحب ہے کہ غسل کے بعد کسی رومال سے بدن پونچھ لے۔ اھ ت ) دونوں سہوِ قلم ہیں ،
لااعلم لہما سلفا فی ذلك فی المذھب فان الخلاف کما علمت فی الکراھۃ فضلا عن الاستحباب۔
مجھے اس بارے میں علمائے مذہب میں سے کوئی بھی ان دونوں حضرات کا پیش رَو معلوم نہیں اس لئے کہ اس میں اختلاف ہے کہ مکروہ ہے یا نہیں ، مستحب کہاں سے ہو گا (ت)
فـــــ : تنبیہ علی مافی المنیۃ والدرالمختار۔
ولہٰذا ردالمحتار میں قولِ دُر پر فرمایا :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع