30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقول : اوّلاً آپ کو اعتراف ہے کہ یہ تاویل ، بعید ہے اور یہ واقعۃً وہ ایسی ہی ہے اور ہاتھ سے پانی پونچھ کر جھاڑنے سے ممانعت کے بارے میں کوئی حدیث صحیح ثابت نہیں ۔ امام نووی منہاج (شرح مسلم) میں حدیث مذکور کے تحت فرماتے ہیں : اس میں دلیل موجود ہے کہ وضو اور غسل کے بعد ہاتھ سے پانی جھاڑنے میں کوئی حرج نہیں اور اس بارے میں ہمارے علماء کے مختلف اقوال ہیں ، سب سے مشہور یہ ہے کہ مستحب اس کا ترك ہے اور اسے مکروہ نہ کہا جائے گا ، دوسرا یہ مکروہ ہے ، تیسرا یہ کہ مباح ہے ، کرنا نہ کرنا یکساں اور برابر ہے ۔ یہی اظہر اور مختار ہے کیونکہ اباحت کے بارے میں یہ صحیح حدیث موجود ہے اور نہی کے بارے میں سرے سے کچھ ثابت ہی نہیں ۔ ا ھ اور جو حدیث ذکر ہوئی
فـــــ : ۳۰تطفل علی العلامۃ القاری۔
المذکور رواہ ابو یعلی فی مسندہ وابن عدی فی الکامل من طریق البختری بن عبید عن ابیہ عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالٰی عنہ عن النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اشربوا اعینکم من الماء عند الوضوء ولا تنفضوا ایدیکم فانھا مراوح الشیطان[1]ونحوہ عندالدیلمی فی مسند الفردوس و اخرجہ ایضا ابن حبان فی الضعفاء وابن ابی حاتم فی العلل والبختری فـــــ ضعیف متروك کما فی التقریب [2]وقال المناوی فی شرحہ الکبیر للجامع الصغیر المسمّی بفیض القدیر ان البختری ضعفہ ابو حاتم وترکہ غیرہ وقال ابن عدی روی عن ابیہ قدر عشرین حدیثا عامتھا مناکیر ھذا منھا اھ ومن ثم قال العراقی سندہ ضعیف وقال النووی کابن الصلاح لم نجدلہ اصلا اھ [3]
اسے ابو یعلی نے اپنی مسند میں اور ابنِ عدی نے کامل میں بطریقِ بختری بن عبید عن ابیہ ، حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے انھوں نے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے روایت کیا کہ سرکار نے فرمایا : اپنی آنکھوں کو بھی وضو کے وقت کچھ پانی پلاؤ اور اپنے ہاتھوں کو نہ جھاڑو کیوں کہ ا س طرح وہ شیطان کے پنکھے ہیں ۔ اسی کے ہم معنی مسند الفردوس میں دیلمی نے روایت کی اور ابنِ حبان نے بھی کتاب الضعفاء میں اور ابنِ ابی حاتم نے کتاب العلل میں ا س کی تخریج کی اور بختری ضعیف ، متروك ہے جیسا کہ تقریب التہذیب میں ہے ۔ علامہ مناوی نے جامع صغیر کی شرح کبیر فیض القدیر میں لکھا ہے کہ : بختری کو ابو حاتم نے ضعیف کہا اور دوسرے حضرات نے اسے ترك کر دیا ۔ ابنِ عدی فرماتے ہیں کہ اس نے اپنے والد سے بیس حدیثیں روایت کی ہیں جن میں زیادہ تر منکر ہیں یہ بھی انہی میں سے ہے یہی وجہ ہے کہ عراقی نے فرمایا : اس کی سند ضعیف ہے اور ابنِ الصلاح کی طرح امام نووی نے فرمایا : ہمیں اس کی کوئی اصل نہ ملی۔ ا ھ
فـــــ : تضعیف البختری بن عبید
۵۵قلت : وبعض اصحابنا وان عدوا عدم النفض من اٰداب الوضوء کما فی الدر وغیرہ فلا غروفان امثال الحدیث فی امثال المقام تقوم بافادۃ الادبیۃ اما ان ینتہض معارضا لحدیث صحیح فکلا۔
و۵۶ثانیا٥٦ ترك الاولی فـــــ۱ لافادۃ فـــــ۲ الجواز واقع عنہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلّم بحیث تجاوز حدالاحصاء وذلك ھوالاولی منہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم لکونہ من مشارع تبلیغ الشرائع والبیان بالفعل اقوی کما شہد بہ حدیث ام سلمۃ رضی الله تعالٰی عنھا فی واقعۃ الحدیبیۃ۔
و۵۷ثالثا : لفظ الحدیث فـــــ۳ عند مسلم والنسائی فی طریق اخری عن مخرج الحدیث الاعمش اعنی بطریق عبدالله بن ادریس عن الاعمش عن سالم ھو ابن ابی الجعد عن کریب عن ابن عباس عن میمونۃ رضی الله
قلت : ہمارے بعض علماء نے پانی نہ جھاڑنے کو اگرچہ آدابِ وضو سے شمار کیا ہے جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کیوں کہ ایسی حدیث ایسی جگہ اتنی صلاحیت رکھتی ہے کہ کسی چیز کے ایك ادب اور مستحب ہونے کا افادہ کر دے ۔ رہا یہ کہ کسی حدیث صحیح کے معارض ہو جائے تو ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا ۔
ثانیاً : کسی چیز کا جواز بتانے کے لئے حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے ترك اولٰی بے شمار مقامات میں واقع ہے اور یہ عمل ( ترك اولٰی افادہ جواز کے لئے ) حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے ہونا اولٰی ہے اس لئے کہ سرکار قوانین واحکام کی تبلیغ کا مصدر و منبع ہیں۔ اور فعل کے ذریعہ بیان زیادہ قوی ہوتا ہے جیساکہ اس پر واقعہ حدیبیہ میں حضرت امّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی حدیث شاہد ہے ۔
ثالثا : ( کچھ اور طرق سے جو الفاظِ حدیث وارد ہیں وہ بالکل فیصلہ کن ہیں ) امام مسلم و امام نسائی کے یہاں مخرج حدیث حضرت اعمش سے ایك طریق اور ہے وہ یوں ہے : عبدالله بن ادریس __ عن الاعمش __ عن سالم __ یہ ابن ابی الجعد ہیں __ عن کریب __ ابن عباس __ عن
فـــــ ۱ : ۳۱تطفل اٰخر علی القاری
[1] کنز العمال بحوالہ ع وعدعن ابی ھریرۃحدیث ۲۶۲۵۶ موسسۃالرسالہ بیروت۹ / ۳۲۶ ، الجامع الصغیر بحولہ ع وعدعن ابی ھریرۃ حدیث ۱۰۶۴ دارالکتب العلمیہ بیروت۱ / ۷۰
[2] تقریب التہذیب ترجمہ البختری بن عبید ۶۴۲ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۱۲۲
[3] فیض القدیر شرح الجامع الصغیر تحت الحدیث ۱۰۲۴ دارالکتب العلمیہ بیروت۱ / ۶۶۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع