30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت ابراہیم سے میں نے اس کا ذکر کیا تو انھوں نے فرمایا : وہ حضرات رومال سے پونچھنے میں حرج نہ جانتے تھے مگر اس کی عادت ڈالنا پسند نہ فرماتے تھے ،
طبری کے الفاظ یہ ہیں : امام اعمش نے کہا : پھر میں نے حضرت ابراہیم سے اس کا تذکرہ کیا تو انھوں نے فرمایا : وہ حضرات وضو کے بعد رومال استعمال کرنے کو ناپسند فرماتے تھے کہ کہیں عادت نہ پڑ جائے ۔ (ت)
پھر نفسِ حدیث میں دلیلِ جواز موجود کہ ہاتھ سے پانی صاف فرمایا اور صاف کرنے میں جیسا کپڑا ویسا ہاتھ ،
ذکرہ الامام النووی فی شرح المہذب واو ردہ فی شرح مسلم عن بعض العلماء
اسے امام نووی نے شرح مہذب میں ذکر کیا اور شرح مسلم میں بعض علماء سے نقل کیا اور برقرار رکھا
فـــــ : ۲۹تطفل علی الامام القسطلانی و ابن التین ۔
مقرا علیہ لکن نقل العلامۃ علی القاری فی المرقاۃ شرح المشکوٰۃ عن بعض علمائنا ان معنی قولھا رضی الله تعالٰی عنھا فانطلق فھو ینفض یدیہ یحرکہما کما ھو عادۃ عــــہ من لہ رجولیۃ قال وقیل ینفضھما لازالۃ الماء المستعمل وھو منہی عنہ فـــــ فی الوضوء والغسل لما فیہ من اماطۃ اثر العبادۃ مع ان الماء مادام علی العضو لایسمی مستعملا فالاول اولی اھ۔ [1]
ثم نقل عن القاضی الامام عیاض ان من فوائد الحدیث جواز النفض والاولٰی ترکہ لقولہ علیہ الصلاۃ والسلام اذا توضأتم فلا تنفضوا ایدیکم ومنھم من حمل النفض علی تحریك الیدین فی المشی
لیکن مُلاّ علی قاری نے مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں ہمارے بعض علماء سے نقل کیا ہے کہ اُمّ المومنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے ارشاد مذکور “ سرکا ر ہاتھوں کو جھاڑتے ہوئے چلے گئے “ کا معنی یہ ہے کہ مردانگی والوں کے طور پر ہاتھوں کوہلاتے ہوئے گئے ۔ آگے لکھا : اورکہا گیا کہ معنی یہ ہے کہ آب مستعمل بدن سے دور کرنے کے لئے ہاتھوں کو جھاڑتے ہوئے گئے اور اس کام سے وضو و غسل دونوں میں ممانعت آئی ہے کیونکہ اس میں عبادت کا اثر اپنے بدن سے دور کرنا ہے باوجودیکہ پانی جب تك بدن سے لگا ہوا ہے مستعمل نہیں کہلاتا تو پہلا معنی اولیٰ ہے ۔ پھر امام قاضی عیاض سے نقل کیا ہے کہ اس حدیث سے جو فوائد ملتے ہیں اس میں سے یہ بھی ہے کہ ہاتھ سے پانی پونچھ کر جھاڑنا اولٰی ہے اور بہتر اس کا ترك ہے کیونکہ حضور علیہ الصلوۃ و السلام کا ارشاد ہے : جب تم وضو کرو تم اپنے ہاتھ نہ جھاڑو اور کسی نے جھاڑنے کا مطلب یہ بتایا ہے : چلنے میں ہاتھوں کو حرکت
عــــہ : ۵۳اقول : الاولی ان یقول کتعبیر غیرہ کما ھوعادۃ الاقویاءمنہ
عـــــہ : اقول : بہتر یوں کہنا ہے کہ “ طاقتوروں کے طور پر “ جیسے بعض دوسرے حضرات کی تعبیر منہ(ت)
فـــــ : مسئلہ وضویا غسل میں پانی سے ہاتھ نہ جھٹکنا بہتر ہے مگرمنع نہیں ، اوراس بارے میں جو حدیث آئی کہ “ وہ شیطان کا پنکھا ہے “ ضعیف ہے۔
وھو تأویل بعید [2] اھ۔ ثم قال اعنی القاری قلت وانکان التاویل بعیدا فالحمل علیہ جمعا بین الحدیثین اولی من الحمل علی ترك الاولٰی[3] اھ
۵۴اقول٥٤ : اولا فـــــ قد اعترفتم ببعد التاویل وھو کذلك ولم یثبت فی النھی عن النفض حدیث صحیح قال الامام النووی فی المنھاج تحت الحدیث المذکورفیہ دلیل علی ان نفض الید بعد الوضوء والغسل لاباس بہ وقد اختلف اصحابنا فیہ علی اوجہ اشھرھا ان المستحب ترکہ ولایقال انہ مکروہ الثانی انہ مکروہ الثالث انہ مباح یستوی فعلہ وترکہ وھذا ھو الاظھر المختار فقد جاء ھذا الحدیث الصحیح فی الاباحۃ ولم یثبت فی النھی شیئ اصلا اھ[4]
و الحدیث دینا اور یہ تاویل بعید ہے۔ ا ھ اس پر علامہ قاری لکھتے ہیں میں کہتا ہوں اگرچہ یہ تاویل بعید ہو مگر دونوں حدیثوں کے درمیان تطبیق دینے کے لئے اس معنٰی پر محمول کرنا ترك اولٰی پر محمول کرنے سے بہتر ہے ۔ ا ھ
[1] مرقاۃ المفاتیح کتاب الطہارۃ باب الغسل تحت الحدیث ۴۳۶ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۲ / ۱۴۰
[2] مرقاۃ المفاتیح کتاب الطہارۃ باب الغسل تحت الحدیث ۴۳۶ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۲ / ۱۴۰
[3] مرقاۃ المفاتیح کتاب الطہارۃ باب الغسل تحت الحدیث ۴۳۶ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۲ / ۱۴۰
[4] شرح صحیح مسلم کتاب الحیض باب صفۃ غسل الجنابۃ تحت الحدیث ۷۱۰ دار الفکر بیروت ۲ / ۶۸۔ ۱۳۶۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع