30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رسالہ
تَنْوِیرُ الْقِنْدِیلِ فِیْ اَوْصَافِ الْمِنْدِیلِ ۱۳۲۴ھ
(رومال کے اوصاف بیان کرنے میں قندیل کا روشن کرنا۔ ت)
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
مسئلہ ۳ فــــ : ۶ شعبان معظم ۱۳۲۱ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کہتا ہے کہ بعد وضو منہ کپڑے سے پونچھنا نہیں چاہیے اس میں ثواب وضو کا جاتا رہتا ہے بینوا توجروا ۔
الجواب :
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
الحمد لله الذی ثقل میزاننا بالوضوء وجعلنا غرا محجلین من اثار الوضوء والصلوۃ
تمام تعریفیں الله کے لئے جس نے ہماری میزانِ عمل ، آبِ وضو سے گراں بار فرمائی اور ہمیں آثارِ وضو سے تابندہ رو ، روشن دست وپا والا بنایا اور
فــــ : مسئلہ وضو کے بعد کپڑے سے اعضاء پونچھنے کا حکم
والسلام علی من کان مندیل سعدہ احسن و انفس من کل حریر ماسحین بقبولہ عن وجوھنا و قلوبنا کل درن وسخ للتنویر۔
جن کا رومالِ سعادت ہر ریشم سے زیادہ حسین و نفیس تھا ان پر ایسے درود و سلام جو ان کے قبول کے باعث ہمارے چہروں اور دلوں کو تابندگی بخشنے کے لئے ہر میل کچیل سے صاف کر دیں ۔ (ت)
الله تعالٰی ثواب عطا فرمائے ، وضو کا ثواب جاتا رہنا محض غلط ہے ۔ ہاں بہتر ہے کہ بے ضرورت نہ پُونچھے ، امراء و متکبرین کی طرح اُس کی عادت نہ ڈالے اور پُونچھے تو بے ضرورت بالکل خشك نہ کر لے قدرے نم باقی رہنے دے کہ حدیث فــــ۱ میں آیا ہے :
ان الوضوء یوزن رواہ الترمذی [1]عن ابن شھاب الزھری من اواسط التابعین و علقہ عن سعید بن المسیب من اکابرھم و افضلھم ۔
۴۶اقول : والمعلق فـــــ۲ عندنا فی الاستناد کا لموصول وقد وصلہ ابو بکر بن ابی شیبۃ انہ قال اکرہ المندیل بعد الوضوء وقال ھو یوزن[2]
وما لا یقال فـــــ۳ بالرأی فعلی
یہ پانی روزِ قیامت نیکیوں کے پلّے میں رکھا جائے گا ( اسے ترمذی نے درمیانی طبقہ کے تابعی حضرت ابنِ شھاب زہری سے روایت کیا اور بزرگ طبقہ اور افضل درجہ کے تابعی حضرت سعید بن مسیّب سے تعلیقاً بیان کیا ۔ ت)
اقول : (حدیثِ معلّق بھی ہمارے نزدیك استناد میں موصول ہی کا حکم رکھتی ہے اور اسے تو ابو بکر بن ابی شیبہ نے ان الفاظ میں موصولاً بھی روایت کیا ہے ۔ سرکار نے فرمایا : میں وضو کے بعد رومال کا استعمال پسند نہیں کرتا اور فرمایا : وضو کا پانی وزن کیا جائے گا ۔ اور
فـــــ۱ـ : وضو کا پانی روز قیامت نیکیوں کے پلے میں رکھا جائے گا ۔
فـــــ۲ : المعلق عندنا کا لموصول ۔
فـــــ۳ : مالا یقال بالرأ ی یحمل علی الرفع اذالم یکن صاحبہ اخذا عن الاسرائیلیات ۔
الرفع محمول مالم یکن صاحبہ اٰخذ اعن الا سرائیلیات بل قدروی تمام فی فوائدہ وابن عساکر فی تاریخہ عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالٰی عنہ عن النبی صلی الله علیہ و سلم من توضأ فمسح بثوب نظیف فلا باس بہ و من لم یفعل فھو افضل لان الوضوء یوزن یوم القیامۃ مع سائر الاعمال[3]۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع