30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عــــہ : ھل المراد شبر المستعمل اوالوسط تر دد فیہ ط فی
استعمال کرنے والے کی بالشت مراد ہے یا متوسط بالشت ؟ اس بارے میں سید طحطاوی نے
لان الزائد یرکب علیہ الشیطان[1]
ہونی چاہئے اس لئے کہ جو زیادہ ہو اس پر شیطان بیٹھتا ہے ۔ (ت)
شرح نقایہ علامہ قہستانی میں ہے :
قال الحکیم الترمذی لایزاد علی الشبر والا فالشیطان رکب علیہ [2]
(حکیم ترمذی نے فرمایا : مسواك ایك بالشت سے زیادہ نہ کی جائے ورنہ اس پر شیطان بیٹھتا ہے)
۴۴اقول : شك نہیں فـــــ کہ ظاہر حقیقت ہے جب تك کوئی صارف نہ ہو ولا مانع منھا فالشیطان موجود ورکوبہ ممکن والله اعلم بحقیقۃ الحال۔
(اوراس سے کوئی مانع نہیں اس لئے کہ (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
حاشیۃ الدرر وقال یحرر[3] اھ وقال ش الظاھر الثانی لانہ محمل الاطلاق غالبا[4] اھ
۴۳اقول : نقل العلامۃ نفسہ فی حاشیہ المراقی ھذا الذی نراہ لکنہ نسبہ الی بعضہم فان کان ذالك البعض ممن یعتمد علی قولہ فہذا نص فی الباب والافالظاھر مع ش والله تعالی اعلم ۱۲منہ دام فیضہ ۔
حاشیہ درمختار میں تر د د ظاہر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ اس کی تنقیح کی ضرورت ہے اھ اور علامہ شامی نے کہا ہے کہ ظاہر ، ثانی ہے اس لئے کہ مطلق بولنے کے وقت عموما وہی مراد ہوتا ہے اھ ۔
اقول : خود علامہ طحطاوی نے مراقی الفلاح کے حاشیہ میں یہ عبارت نقل کی ہے جو پیش نظر ہے لیکن اسے “ بعض “ کی طرف منسوب کیا ہے اور “ بعض “ اگر کوئی ایسی شخصیت ہے جس کے قول پر اعتماد کیا جاتا ہے جب تو یہ اس باب میں نص ہے ورنہ ظاہر علامہ شامی کے ساتھ ہے ، اور خدائے بزرگ و بر تر ہی کو خوب علم ہے ۱۲منہ فیضہ ( ت)
فـــــ : ۲۶معروضۃ علی العلامۃ ط۔ )
شیطان موجود ہے اور اس کا بیٹھنا ممکن ہے اور حقیقت حال خدا ہی خوب جانتا ہے ۔ ت )اگر چہ علامہ طحطاوی نے حاشیہ در میں فرمایا :
لعل المراد من ذلك انہ ینسیہ استعمالہ او یوسوس لہ اھ [5]
۴۵اقول : ظاھرہ فـــــ انہ فھم رجوع ضمیر علیہ الی المستاك وانما ھو الی السواك کما یفصح عنہ مانقل ھو نفسہ فی حاشیۃ المراقی والله تعالٰی اعلم۔
شاید اس سے مرادیہ ہے کہ وہ اسے استعمال کرنا بھلادیتا ہے یا اسے وسوسہ میں مبتلا کرتا ہے اھ ۔
اقول : اس عبارت سے ظاہر یہ ہوتا ہے کہ “ علیہ “ (اس پر )کی ضمیر کا مرجع انہوں نے مسواك کرنے والے کو سمجھاہے حالانکہ وہ ضمیر مسواك کی طر ف لوٹ رہی ہے جیسا کہ حاشیہ مراقی کی وہ عبارت اسے صاف بتارہی ہے جو انہوں نے خود نقل کی ہے ۔ اور خدائے بر تر ہی کو خوب علم ہے ۔ ت)
فــــ : ۲۷معروضۃ اخری علیہ
_______________________
[1] حاشیۃ طحطاوی علی مراقی الفلاح ، کتاب الطہارۃ ، فصل فی سنن الوضوء ، دار الکتب العلمیہ بیروت۱ / ۴۰
[2] جامع الرموز کتاب الطہارۃ مکتبہ اسلامیہ گنبدقابوس ایران ۱ / ۲۹
[3] حاشیہ طحطاوی علی الدر المختار کتاب الطہارۃ مکتبہ العربیہ کوئٹہ ۱ / ۷۰
[4] ردالمحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۷۸
[5] حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الطہارۃ مکتبۃ العربیۃ کوئٹہ ۱ / ۷۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع