30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فـــــ ۲ : تطفل تاسع۔
المحقق۔
وثالثا : فـــــ قولہ بہ تثبت السنۃ ذھول عما حقق المحقق من ان الظنیۃ ولو فی جانبی الثبوت والاثبات لایقعد الطلب الجازم عن افادۃ الایجاب کما قدمنا تحقیقہ ھذا مامست الحاجۃ الیہ للاحقاق والانتصار للمحقق علی الاطلاق ولنرجع الی ماکنا فیہ۔
محقق کی تصریحات کے بر عکس ہے ۔
ثالثا : صاحب بحر نے کہا ، اس سے (یعنی ظنی الدلالۃ حدیث سے ) سنت ہونا ثابت ہوتا ہے اس میں اس تحقیق سے ذہول ہے جو حضرت محقق نے رقم فرمائی کہ ظنیت طلب جزمی کو افادہ وجوب کے مرتبے سے نیچے نہیں لاتی اگرچہ ثبوت اور اثبات دونوں ہی جانب ظنیت ہو ، جیسا کہ ہم اس کی تحقیق پہلے بیان کر آئے ہیں ۔ یہ وہ کلام تھا جو احقاق حق اور حضرت محقق علی الاطلاق کی حمایت اور دفاع کی حاجت کے با عث قلم بند ہوا ۔ اب پھر ہم اپنی سابقہ گفتگو پر لوٹ آئیں ۔ (ت)
ثالثا : اگر اس بحث محقق پر لحاظ بھی ہو تو بسم لله واجب للوضوء ہوگی نہ کہ فی الوضوء ، اور ہمارا کلام افعال داخلہ فی الوضوء میں ہے کما علمت (جیسا کہ واضح ہوا۔ ت)
ھذا والکلام وان افضی الی قلیل تطویل فقد اتی بحمد لله بجزیل تحصیل و الحمد لله علی ما علم وصلی الله تعالٰی علی سیدنا واٰلہ وصحبہ وسلم والله سبحانہ وتعالٰی اعلم ، واذ خرجت العجالۃ فی صورۃ الرسالۃ سمیتھاالجود الحلو فی ارکان الوضوء ۱۳۲۴ھ ، والحمد
یہ بحث تمام ہوئی ، اور کلام اگرچہ ذرا طویل ہوگیا مگر بحمدہ تعالی بہت مفید ہوا______اور تمام تعریف خدا ہی کے لئے ہے اس پر جو اس نے علم دیا اور ہمارے آقا اور ان کی آل واصحاب پر خدائے بر تر کا درودو سلام ہو_____اور خدائے پاك وبر تر کو ہی خوب علم ہے ______اور جب یہ عجالہ (عجلت میں لکھا جانے والا مضمون) ایك رسالہ کی صورت اختیار کر گیا تو میں نے اس کا نام یہ رکھا ۔ الجود الحلو فی ارکان الوضوء ۱۳۲۴ھ
فـــــ : ۲۵تطفل٢٥ عاشر
لله رب العٰلمین۔
( ارکان وضو کے بیان میں باران شیریں) اور تمام ستائش خدا کے لئے جو سارے جہانوں کا رب ہے ۔
(رسالہ الجود الحلوفی ارکان الوضوء ختم ہوا )
مسئلہ۲فـــــ : از بلگرام ضلع ہردو ئی محلہ میدان پورہ مرسلہ حضرت سید ابراہیم صاحب از صاحبزادگان مار ہر ہ شریف ۸جمادی الاولی۱۳۱۱ ھ
ماقولکم دام فضلکم (آپ کی فضلیت قائم ودائم رہے آپ کیا فرماتے ہیں ۔ ت) کہ مسواك کتنی طول میں ہونا چاہئے ؟ “ سنا ہے کہ غایۃ السواك فی مسائل المسواك “ مولفہ مولوی وحافظ شوکت علی سندیلی میں بیان ہے کہ اگر بالشت بھر سے زائد مسواك ہے تو وہ مرکب شیطان (شیطان کی سواری ۔ ت )ہے ، امید کہ اس کی سند لکھی جائے ، بینوا تو جروا (بیان فرمائیے آپ کو اجر وثواب دیا جائے گا ۔ ت)
الجواب :
یہ قول امام عارف بالله حکیم الامہ سیدی محمد بن علی ترمذی قد س سر ہ سے منقول ہے ، درمختار میں ہے ۔
لایزاد علی الشبر والا فالشیطان یرکب علیہ[1]
(مسواك ایك بالشت سے زیادہ نہ ہو ورنہ اس پر شیطان بیٹھتا ہے ۔ ت)
حاشیہ طحطاویہ علٰی مراقی الفلاح میں ہے :
یکون طول شبر عـــــہ مستعملہ
مسواك جو استعمال کرنے والاہے اس کی بالشت بھر
فـــــ : مسئلہ : مسواك کا طول بالشت بھر سے زیادہ نہ چاہئے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع