30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ثم اقول : سخت تعجب محقق صاحب بحر پر ہے کہ انہوں نے یہاں محقق علی الاطلاق کی جانب ایك ایسی بات کیسے منسوب کردی جو نہ انہوں نے کہی ، نہ ہی وہ ان کا مقصود ہے اس لئے کہ حضرت محقق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِعلیہ نے یہاں جس بات کا انکار کیا ہے وہ یہ ہے کہ حدیث تسمیہ میں ظنیت اثبات بمعنی اشتراك ہو ۔ اشتراك کا مطلب یہ کہ دونوں احتمال برابر ہوں جیسے مشترك کے دونوں معنی برابر ہوتے ہیں جب تك کہ کسی ایك پر کوئی قرینہ نہ قائم ہو ، اور انہوں نے لفظ مشترك الدلالۃ کے بجائے مشکوك الدلالۃ نہ کہا ، اس کی وجہ
فـــــ : تطفل علی البحر الرائق
المدلول ولم یعترف بھذا فی شروط الصّلاۃ انما اعترف بقیام الاحتمال ولم ینکرہ ھھنا بل قدصرح بہ( حیث قال نفی الکمال فیھما احتمال یقابلہ الظہور اھ[1] ولاجل کونہ مرجوحًا لم یستنزل الحدیث عن افادۃ الوجوب کما قدمنا نقل کلامہ وھو بمرأی منك فلاتعارض بین کلامیہ اصلًا وبالله التوفیق۔ [2]
ثمّ اشد فـــــ العجب العجب علی العجب ان المحقق صاحب البحر فھم من کلام المحقق حیث اطلق رحمہما الله تعالی انہ یدعی قطعیۃ دلالۃ الحدیث علی
یہ ہے کہ ( دلالت تو دونوں معنوں پر موجود ہے ۱۲م) دلالت میں کوئی شك نہیں ، صرف مدلول کی تعیین میں شك ہے ، اورشرائط نماز میں اعتراف اس بات کا نہیں ، وہاں انہوں نے بس احتمال موجود ہونے کا اعتراف کیا ہے اس کا انکار یہا ں بھی نہیں ، بلکہ اس کی تو صراحت فرمائی ہے ، ان کے الفاظ یہ ہیں “ ان دونوں حدیثوں میں نفی کمال ایك ایسا احتمال ہے کہ ظاہر اس کی مخالفت کر رہا ہے اھ “ یعنی احتمال ہے مگر چونکہ مرجوع ہے اس لئے وہ حدیث کو افادہ وجوب کے درجے سے نیچے نہ لاسکے گا ، جسیا کہ ہم ان کی پوری عبارت پہلے نقل کر آئے ہیں ، اور وہ آپ کے سامنے ہے اس سے ثابت ہوا کہ ان کی دونوں مقام کی عبارتوں میں بالکل کوئی تعارض نہیں وبالله التو فیق۔
پھر سخت حیرت بالائے حیرت یہ ہے کہ محقق صاحب بحر نے محقق علی الاطلاق رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیکے کلام سے یہ سمجھ لیا کہ وہ اس بات کے مدعی ہیں کہ وضو کے لئے وجوب تسمیہ پر حدیث
فـــــ : ۱۷تطفل ١٧آخرعلی البحر الرائق
ایجاب التسمیۃ للوضوء حیث قال وقد اجاب (ای فی الفتح) عن قولھم لاواجب فی الوضوء بما حاصلہ ان ھذا الحدیث لما کان ظنی الثبوت قطعی الدلالۃ ولم یصرف صارف افاد الوجوب اھ [3]
۳۷ اقول : ھذا نقیض ماصرح بہ المحقق فانہ انما قرر ان الحدیث ظنی الثبوت والدلالۃ جمیعا وحقق ان الثابت بمثلہ الوجوب دون الاستنان ا ذاکان احتمال الخلاف مرجوحا وقال ان الظن واجب الاتباع فی الادلۃ الشرعیۃ الاجتھادیۃ وھو متعلق بالاحتمال الراجح فیجب اعتبار متعلقہ [4] اھ
کما تقدم وقد نقلہ المحقق صاحب البحر بقولہ ان ارید بظنیھا مافیہ احتمال ولو مرجوحا فلا نسلم انہ لایثبت بہ الوجوب لان الظن
کی دلالت قطعی ہے ، بحر کے الفا ظ یہ ہیں فقہا نے فرمایا کہ وضو میں کوئی واجب نہیں ، اس کا فتح القدیر میں جو جواب دیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ حدیث جب ثبوت میں ظنی ، دلالت میں قطعی ہے اور اسے اس معنی سے پھیرنے والی کوئی چیز نہیں تو وہ وجوب کا افادہ کرے گی اھ ( اور وضو میں یہ واجب ( تسمیہ) اس حدیث کے پیش نظر ثابت ہوجائے گا ۱۲م)
اقول : یہ اس کے بالکل بر عکس ہے جس کی حضرت محقق نے صراحت فرمائی ، کیونکہ انہوں نے تو یہی تقریر فرمائی ہے کہ حدیث ، ثبوت اور دلالت دونوں میں ظنی ہے اور یہ تحقیق کی ہے کہ ایسی حدیث سے سنیت نہیں ، وجوب ثابت ہوتا ہے بشرطیکہ احتمال مخالف مرجوح ہو۔ اور انہوں نے فرمایا ہے کہ شریعت کی اجتہادی دلیلوں میں ظن کا اتباع واجب ہے اور ظن (احتمال راجح )کو ماننا واجب ہے اھ ،
جیسا کہ پہلے ان کی یہ عبارت گزری ، اور اسے صاحب بحر نے بھی اپنے ان الفاظ میں نقل کیا ہے اگر ظنی الدلالۃ کا یہ مطلب لیا گیا ہے کہ وہ دلیل جس میں کوئی بھی دوسرا احتمال ہو اگر چہ مرجوح سہی ، تو ہم یہ نہیں مانتے کہ ایسی دلیل سے وجوب ثابت
واجب الاتباع وانکان فیہ احتمال [5] اھ فسبحن من لایزل ولا ینسٰی۔
[1] فتح القدیر کتا ب الطہارات مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۱
[2] جد الممتار علی ردالمحتار کتاب الطہارۃ المجمع الاسلامی مبارکپور(الہند) ۱ / ۹۶
[3] البحرا لرائق کتا ب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۹
[4] فتح القدیر ، کتاب الطہارات ، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھ ۱ / ۲۱
[5] بحرالرائق کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع