دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 1 | فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

۳۶اقول :   سبحن فـــــ ١ من تنزہ عن النسیان و الخطأ انما عبارۃ المحقق فی شروط الصلاۃ (فی الکلام علی الاستدلال بقولہ تعالٰی خذوا زینتکم عند کل مسجد علی لزوم سترالعورۃ فی الصلاۃ) بھذا القدر الحق ان الاٰیۃ ظنیۃ الدلالۃ فی سترالعورۃ فمقتضاھا الوجوب فی الصلاۃ ومنھم من اخذ منھا قطعیۃ الثبوت ومن حدیث “ لاصلاۃ لحائض الابخمار “ قطعیۃ الدلالۃ فی سترالعورۃ فیثبت الفرض بالمجوع وفیہ مالایخفی بعد تسلیم قطعیۃ الدلالۃ فی الحدیث والا فھو قداعترف فی نظیرہ من نحو “ لاوضوء لمن لم یسم ولاصلاۃ لجار المسجد “ انہ ظنی الدلالۃ ولاشك فی ذلك لان احتمال نفی الکمال قائم[1]

والاوجہ الاستدلال بالاجماع علی الافتراض فی                                                                       

اقول :  پاکی ہے اسے جو خطا ونسیان سے منزہ ہے باری تعالی کا ارشاد ہے ، تم ہر نماز کے وقت اپنی آرائش اختیار کرو “ اس سے نماز کے اندرستر عورت کی فر ضیت کے استدلال پر ، کلام کرتے ہوئے شرا ئط نماز کی بحث میں محقق علی الاطلاق کی عبارت صرف اس قدر ہے ، حق یہ ہے کہ ستر عورت کے بارے میں اس آیت کی دلالت ظنی ہے اس لئے اس کا مقتضابس وجوب ہوگا نماز میں ۔ اور بعض حضرات نے ستر عورت کے بارے میں اس آیت سے قطعیت ثبوت لی اور حدیث “ لا صلوۃ الحائض الا بخمار “ ( بالغہ کے لئے اوڑھنی کے بغیر نماز نہیں )سے قطعیت اثبات ودلالت لی اور دونوں کے مجموعے سے ستر کی فرضیت ثابت کی ، حالانکہ حدیث میں ستر پر دلالت کی قطعیت اگر مان لی جائے تب بھی اس استدلال پر جو کلام ہے وہ محتاج بیان نہیں ، ورنہ اس مستدل نے تو خود حدیث مذکور کی نظیر “ لا وضوء لمن لم یسم “ (جس نے بسم الله نہ پڑھی اس کا وضو نہیں)اور “ لا صلوۃ لجار المسجد الا فی المسجد “ ( مسجدکے پڑوسی کے لئے نماز نہیں مگر مسجد ہی میں) وغیرہ میں یہ اعتراف کیا ہے کہ وجوب پر ان

 

فـــــ ١ : ۱۵معروضۃ١٥علٰی ردالمحتار

الصلاۃ کما نقلہ غیر واحد من ائمۃ النقل الی ان حدث بعض المالکیۃ فخالف فیہ کالقاضی اسمٰعیل وھو لایجوز بعد تقرر الاجماع اھ [2]بلفظہ الشریف۔

ولیس فیہ من قولہ فالحق ماعلیہ وعلماؤنا الخ عین ولا اثر وانما ھومن کلام البحر حیث قال والعجب من الکمال ابن الھمام انہ فی ھذا الموضع نفی ظنیۃ الدلالۃ عن حدیث التسمیۃ بمعنی مشترکھا واثبتھا لہ فی باب شروط الصلاۃ بابلغ وجوہ الاثبات بان قال ولا شك فی                                     

سب کی دلالت ظنی ہے ۔ اور واقعۃ وجوب پر ان سب کی دلالت کے ظنی ہونے میں کوئی شك نہیں ۔ اس لئے کہ یہ احتمال موجود ہے کہ ان سب میں وضو ونماز کے کامل ہونے کی نفی ہو (اور لاصلوۃ ، لاوضوء کہہ کر حقیقت نماز اور حقیقت وضو کی نفی مقصودنہ ہو) اوجہ او رزیادہ مناسب یہ ہے کہ نماز میں فرضیت ستر پر اجماع کو دلیل میں پیش کیا جائے جیسا کہ متعدد ائمہ نقل نے اس پر اجماع نقل کیا ہے یہاں تك کہ مالکیہ میں بعض افراد ، جیسے قاضی اسمعیل ، پیدا ہوئے اور اس اجماع کی مخالفت کی جب کہ اجماع ثابت و مقرر ہوجانے کے بعد اس مخالفت کا کوئی جواز نہیں “ اھ بلفظہ الشریف

اس میں بحر کے حوالے سے شامی کی بیان کردہ عبارت “ فالحق ماعلیہ علما ء و نا الخ “ ( تو حق وہی ہے جس پر ہمارے علماء ہیں کہ وضو میں تسمیہ مستحب ہے ) کا کوئی نام ونشان نہیں دراصل وہ بحر کی عبارت ہے ، ان کے الفاظ اس طرح ہیں “ کمال ابن ہمام پر تعجب ہے کہ یہاں تو انہوں نے حدیث تسمیہ کے ظنی الدلالۃ بمعنی مشترك الدلالۃ ہونے کی نفی کی اور شرائط نماز کے باب میں بڑے شدومد کے ساتھ اس کا اثبات کیااور کہا : ولا شك فی ذالك لان 

ذلك لان احتمال نفی الکمال قائم فالحق ماعلیہ علماؤناالی اٰخر( مانقل الشامی۔ فالعلامۃ الشامی رحمہ الله تعالٰی لم یراجع ھھنا الی الفتح وظن ان الکلام کلہ منقول عنہ “ وانما ھو عنہ الی قولہ قائم وما بعدہ فمن البحر “ ۔ )

ثم ۳۶اقول :   العجب ف کل العجب من المحقق صاحب البحر کیف نسب ھھنا الی المحقق مالم یقلہ ولم یرِدہ فانہ رحمہ الله تعالٰی انما نفی ھھنا عن خبر التسمیۃ الظنیۃ بمعنی الاشتراك اعنی تساوی الاحتمالین کما یتساوی معنیا المشترك مالم تقم علی احدھما قرینۃ ولم یقل مکان قولہ مشترکھا ،  مشکوکہا اذلا شك فی الدلالۃ انما الشك فی تعیین

احتمال نفی الکمال قائم ، “ یعنی واقعۃ “ ان سب کی دلالت کے ظنی ہونے میں کوئی شك نہیں ، اس لئے کہ یہ احتمال موجود ہے کہ ان سب میں وضو ونماز کے کامل ہونے کی نفی ہو ، تو حق وہی ہے جس پر ہمارے علماء ہیں ، اس عبارت کے آخر تك جو علامہ شامی نے نقل کی ، اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ علامہ شامی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے یہاں فتح القدیر کی مراجعت نہ کی اور یہ خیال کرلیا کہ بحر کی ساری عبارت فتح ہی سے منقول ہے ، حالانکہ اس میں فتح سے صرف لفظ “ قائم “ تك نقل ہے اس کے بعد کا کلام خود بحر کا ہے ،

 



[1]   جد الممتار علٰی ردالمحتار  کتاب الطہارۃ   المجمع السلامی مبارك پور انڈیا ۱ / ۹۶

[2]   فتح القدیر باب شروط الصلوۃالتی تتقدمہا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر  ۱ / ۲۲۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن