30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ماقیل انہ لامدخل للوجوب فی الوضوء لانہ شرط تابع فلوقلنا بالوجوب فیہ لساوی التبع الاصل غیر لازم اذا شتراکہما بثبوت الواجب فیھما لایقتضیہ لثبوت عدم المساواۃ بوجہ اٰخرنحو انہ لایلزم بالنذر بخلاف الصلاۃ مع انہ لامانع
کہا گیا کہ وضو میں ثبوت واجب کا کوئی دخل نہیں اس لئے کہ وضو نماز کی ایك شرط تابع ہے اگراس میں بھی ہم وجوب کے قائل ہوں تو تا بع واصل میں برابری ہوجائے گی ، مگر ہم کہتے ہیں کہ برابر ہونا لازم نہ آئے گا اس لئے کہ اگر نماز و وضو دونوں میں واجب کا ثبوت ہو تو اس کا مقتضایہ نہیں کہ دونوں میں مساوات ہو کیوں کہ عدم مساوات دوسرے طریقہ سے ثابت ہوسکتی
فــــــ۱ : مسئلہ : وضو وغسل میں ایسا واجب کوئی نہیں جس کے نہ کرنے سے گناہگا ر ہو مگرطہارت ادا ہو جائے۔
فــــــ۲ : مسئلہ : ہمارے مذہب میں بسم الله سے وضو کی ابتدا صرف سنت ہے واجب نہیں اگرچہ امام ابن الہمام کا خیال وجوب کی طرف گیا۔
من الحکم بان واجبہ احط رتبۃ من واجب الصلاۃ کفرضہ بالنسبۃ الی فرضھا [1] اھ کلامہ الشریف۔
۳۲اقول : لم یأت فـــــ١ المستدل بشیئ حتی سمع ماسمع واذا لم یمنع تبعیۃ الوضوء ثبوت الفرائض فیہ فلم یمنع ثبوت الواجبات و الرواتب توابع للفرائض انماشرعت مکملات لا محصلات لہا فلیست فی مرتبۃ الوضوء ایضا ثم لا یقعدھا ذلك عن ان یکون لھا کل من الفروض والواجبات والسنن والمستحبات کما للاصول۔ ولم نعن ان الوضوء لایستاھل فی نفسہ ان یکون لہ واجب حتی نحتاج الٰی ماذکر المستدل وانما عنینا ان لیس فی مذھبنا واجب فی الوضوء لایجوز ترکہ و
ہے مثلا یہ کہ نذر ماننے سے وضو لازم نہیں اور نماز لازم ہے اور برابری دفع کرنے کے لئے یہ حکم بھی کیا جاسکتاہے کہ واجب وضو ، واجب نماز سے کم رتبہ ہوگا جیسے فر ض وضو ، فر ض نماز سے کم رتبہ ہے اھ ان کا کلام ختم ہوا ۔ (ت)
اقول : مستدل نے کوئی مضبو ط بات نہ کی جس کے نتیجے میں اسے یہ سب سننا پڑا ۔ مزید ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ جب وضو کا تا بع نماز ہونا وضو میں فرائض کے ثبوت سے مانع نہ ہوا تو واجبات ثابت ہونے سے مانع کیوں ہوگا ؟ سنن رواتب ، فرائض کے تابع ہیں ، وہ فرائض کو حاصل کرانے والی اور ان کے وجود وثبوت کا ذریعہ بھی نہیں صرف ان کی تکمیل کرنے والی ہو کر مشروع ہوئی ہیں تو یہ وضو کے درجہ میں بھی نہیں مگر ان کی یہ تبعیت اس سے مانع نہ ہوئی کہ ان میں بھی فرائض و واجبات او رسنن ومستحبات ہوں جیسے ان کی اصل یعنی فرائض میں ہیں “ وضو میں کوئی واجب نہیں “ سے یہ مراد نہیں کہ وضو اس قابل نہیں کہ اس کے اندر کوئی واجب ہوا ور ہمیں وہ بات کہنے کی ضرورت ہو جو مستدل نے ذکر کی ، اسی سے ہماری مراد صرف یہ ہے کہ ہمارے مذہب میں وضو کا کوئی
فـــــ : ۱۳تطفل ١٣ علی الفتح وعلی ۱۴ من نقل عنہ فی الفتح۔
یصح بدونہ وھذا ظاھر لایفتاق الی اظھار وثابت لایصلح للانکار۔
واجب نہیں ، جس کا ترك جائز نہ ہو اور جس کے بغیر نفس وضو کی صحت حاصل ہوجائے او ریہ بالکل واضح ہو جس کے اظہار کی ضرورت نہیں ، اور ثابت ہے جس کے انکار کی گنجائش نہیں۔ ت)
اور مسئلہ تسمیہ اولًا تنہا محقق کی اپنی بحث ہے کہ نہ ائمہ مذہب سے منقول نہ محققین مابعد میں مقبول ، خود ان کے تلمیذ علاّمہ قاسم بن قطلو بغا نے فـــــ فرمایا : ہمارے شیخ کی جو بحثیں خلافِ مذہب ہیں اُن کا اعتبار نہ ہوگا۔
۳۳اقول : یعنی جب کہ خلاف ، اختلافِ زمانہ سے ناشی نہ ہو ،
کماافتو بجواز الا جارۃ علی التعلیم والاذان والامامۃ وباخذ صاحب الحق من خلاف جنسہ اذظفر الی نظائر کثیرۃ۔
جیسے علماء نے تعلیم ، اذان اور امامت پر اجارہ کے جواز کا فتوی دیااور یہ فتوی دیا کہ صاحب حق اپنے حق سے مختلف جنس پاجائے تو اسے لے سکتا ہے (یعنی لینے والامثلا ظالم ہے اور صاحب حق کو ا پنی چیز ملنے کی امید نہیں تو اس کی قیمت کے مساوی ظالم کے مال سے جو ہاتھ لگے لے کر رکھ سکتاہے۔ ) اس کی بہت سی نظیریں ہیں۔ (ت)
ردالمحتار جنایات الحج میں ہے :
قد قال تلمیذہ العلامۃ قاسم ان ابحاثہ المخالفۃ للمذھب لاتعتبر[2]
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع