30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
واجب دھونا ہے اور وہ تقاطر کے ساتھ پانی بہانے کا نام ہے جیسا کہ ارکان وضو میں گزرا اور ظاہر یہ ہے کہ یہ چیزیں پانی بہنے سے مانع ہیں تو زیادہ ظاہر ضرورت سے بیان علت ہے ۔ (ت)
قول مذکور خلاصہ لان الماء شیئ لطیف الخ ( اس لئے کہ پانی لطیف چیز ہے الخ۔ ت)نقل کر کے فرمایا :
یرد علیہ ماقد مناہ اٰنفا[1]
اس پر وہ اعتراض وارد ہوتا ہے جو ہم ابھی بیان کرچکے ہیں۔ (ت)
لاجرم بعض مشائخ نے کہ ناخنوں کے میل میں فر ق کیا کہ دیہاتی کے لئے اجازت ہے کہ اس کا میل خاك مٹی سے ہوگا اس میں پانی سرایت کرجائے گا اور شہری کو نہیں کہ اس کا میل چکنائی سے ہوگا ، انہیں اکابر نے اس تفرقہ کو رد کردیا ، اور فرمایا ، اصح یہ کہ دنوں یکساں ہیں ۔ درمختار سے گزرا
قرویا اومدنیا فی الاصح [2]
خواہ دیہاتی ہو یا شہری ، یہی اصح قول ہے۔ (ت)
جب یہی قضیہ نظراور یہی مفتی بہ تو اسی پر عمل اور یہی معول۔
۳۱اقول : وکانّ مراد العلامۃ الشامی بقولہ بخلاف نحوشحم وسمن جامد [3]حیث لاحرج ولا ضرورۃ فان مسألۃ الدھن والشبرج عامۃ لاتقتصر علی الضرورۃ فافادان الشحم لیس کمثلہ لکن فــــــ العجب انہ ذکرمامر عن الجوھرۃ ثم استدرك علیہ بالفتویٰ المذکورۃ فی النھر ثم عقبھا بقولہ نعم وذکر الخلاف فی شرح المنیۃ فی العجین واستظھر المنع لان فیہ لزوجۃ وصلابۃ تمنع نفوذ الماء اھ ٣[4] وکانہ سکت علیہ اکتفاء بما قدمہ والله تعالٰی اعلم۔
اقول : “ بخلاف چربی اور جمے ہوئے گھی کے مثل “ کہنے سے غالبا علامہ شامی کی مراد یہ ہے کہ جہاں حرج اور ضرورت نہ ہو ۔ اس لئے کہ رو غن اور تلوں کے تیل کا مسئلہ عام ہے صرف ضرورت پر محدود نہیں تو یہ افادہ کیا کہ چربی اس طر ح کی نہیں ۔ لیکن تعجب یہ ہے کہ انہوں نے پہلے جوہرہ سے گزشتہ عبارت نقل کی پھر النہر الفائق میں مذکورہ فتوی سے اس پر استدراك کیا (کہ لیکن نہر میں ہے کہ ناخنوں میں خمیرہو تو فتوی یہ ہے کہ وہ معاف ہے ) پھرا س کے بعد یہ لکھا کہ ہاں شرح منیہ میں خمیرسے متعلق اختلاف ذکر کیا ہے اور مانع ہونے کو ظاہر کیا ہے کیونکہ اس میں لزوجت اور صلابت ہوتی ہے جو پانی کے نفو ذ سے مانع ہوتی ہے اھ ، شاید انہوں نے ما سبق پر اکتفا کرتے ہوئے یہاں سکوت کیا ۔ والله تعالی اعلم( ت)۔
فــــــ : ۱۲معروضۃعلی رد المحتار
رہا واجب عملی فــــــ۱ وہ وضو میں کوئی نہیں ، بحرالرائق سے گزرا
ا تفق الاصحاب انہ لاواجب فی الوضوء [5]
( ہمارے ائمہ کا اتفاق ہے کہ وضو میں کوئی واجب نہیں ۔ ت)
درمختار میں ہے
افاد انہ لاواجب للوضوء ولا للغسل[6]
(وضو وغسل میں ارکان کے بعد واجب چھوڑکر سنتوں کا ذکر لاکر یہ افادہ فرمایا کہ وضو وغسل میں کوئی واجب نہیں۔ ت)
اسی طرح کتب کثیرہ میں ہے اور خود بعد نقل اتفاق اصحاب کیا حاجت اطناب واسہاب مگر محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں اپنی بحث سے وضو کیلئے بسم الله فــــــ۲ وذکر الٰہی سے ابتدا کرنا برخلاف مذہب واجب ٹھہرایا اور اس مسئلہ متفق علیہا کے جواب میں فرمایا :
[1] ردالمحتار فرائض الغسل دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۰۴
[2] الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۹
[3] ردالمحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۰۴
[4] ردالمحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۰۴
[5] بحرالرائق قبیل سنن الوضو ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۱ / ۱۱
[6] الدرالمختار کتاب الطہارۃ ، مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع