30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
درمختار کے حواشی میں حلبی پھر طحطاوی پھر شامی لکھتے ہیں ، اس پر تفاعل کا صیغہ (تقاطر) دلالت کر رہا ہے اھ لیکن وہ جو امام ابو یوسف سے روایت ہے کہ دھونا ، اعضاء وضو کو پانی سے صرف تر کر لینے کا نام ہے پانی بہے یا نہ بہے ، او راسی وجہ سے بحر میں بہانے کو امام ابو یوسف اور طر فین کے درمیان مختلف فیہ ٹھہرایا ہے اور ان کا
فـــــ : مسئلہ ضروریہ : منہ ، ہاتھ ، پاؤں کے ذرے ذرے پر پانی بہنا فرض ہے فقط بھیگا ہاتھ پہنچنا کافی نہیں کم از کم ہر پرزے پر سے دو قطرے ٹپکے ۔
زعم ان اشتراطھا ھو ظاھر الروایۃ
فالحق الذی لامحید عنہ ولا یحل المصیر الا الیہ ان تأویلہ مافی حلیۃ عن الذخیرۃ انہ سال من العضو قطرۃ اوقطرتان ولم یتدارك[1] کیف ولولا ذلك لکان ھذا والعیاذ بالله تعالٰی انکار اللنّص وتبدیلا للشرع فان الله تعالٰی امر بالغسل وھذا لیس بغسل لالغۃ ولا عرفا وقد قال فی البحر نفسہ الغسل بفتح الغین ازالۃ الوسخ عن الشیئ ونحوہ باجراء الماء علیہ لغۃ اھ [2] وھل الاجراء الا الاسالۃ وقد فرق المولی سبحنہ وتعالٰی بین الاعضاء فجعل وظیفۃ بعضھا الغسل وبعضھا المسح فانہ اذالم یسل الماء لم یکن الا اصابۃ بلل وھو المسح۔
۳۰اقــول : فما کان فـــــ ینبغی لمثل
خیال ہے کہ بہانے کا شرط ہونا یہ ظاہر الروایہ ہے۔
تو حق جس سے انحراف نہیں اور جس کی طر ف رجوع کے سوا کچھ روا نہیں وہ یہ ہے کہ اس روایت کی تا ویل وہ ہے جو حلیہ میں ذخیرہ سے منقول ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ عضو سے قطرہ دو قطرہ بہ جائے اور تسلسل کے ساتھ نہ گرے ۔ یہ حق کیوں نہ ہو اگر اس کا یہ مطلب نہ لیں تو معاذالله یہ نص کا انکار اور شر ع کی تبدیلی ہوگی اس لیے کہ الله تعالٰی نے دھونے کا حکم دیا ہے اور یہ لغۃ عرفا کسی طر ح بھی دھونا نہیں ۔ اور خود بحر میں لکھا ہے کہ غسل بفتح غین (دھونا)لغت میں کسی پر پانی بہاکر اس سے میل وغیرہ دو ر کرنے کا نام ہے اھ۔ اجرا ، اسالہ ، بہنا ایك ہی چیز ہے مولی سبحنہ وتعالی نے اعضاء کے درمیان فر ق رکھا ہے کہ کسی میں دھونے کا عمل مقرر فرمایا ہے او رکسی میں مسح رکھا ہے ، اگریہ مان لیں کہ بہنا ضروری نہیں تو تمام اعضاء میں مسح ہی کا عمل رہ جائے گا ، اس لئے کہ پانی جب بہے گا نہیں تو صرف یہ ہوگا کہ تری پہنچ گئی اور یہی مسح ہے
اقول : تو محقق بحر جیسی شخصیت کو
فـــــ : ۱۰تطفل علی البحر
ھذا المحقق البحران یجعلہ مختلفا فیہ کی یجترئ علیہ الجاھلون کما نشاھد الاٰن من کثیر منھم انہ لایزید فی جبہتہ وعارضیہ وغیرھا علی اصابۃ ید مبتلۃ من دون سیلان ولا تقاطر اصلا واذا اخبران قد بقی لمعۃ مثلا فی مرفقہ او ا خمصہ اوعقبہ امر علیہ یدہ الباقی فیھابلل الماء من دون ان یأخذ ماء جدیدا فضلا عن الاسالۃ فالی الله المشتکی ولاحول ولا قوۃ الا بالله العلی العظیم۔
یہ نہ چاہئے تھا کہ اسے مختلف فیہ ٹھہرائیں کہ جاہلوں کو اس کی جسارت ہو جیسا کہ اس وقت ہم دیکھتے ہیں کہ ان میں کتنے ایسے ہیں کہ پیشانی اور رخسار وغیرہ میں اس سے زیادہ نہیں کرتے کہ بھیگا ہوا ہاتھ لگادیتے ہیں نہ پانی بہتا ہے نہ کوئی قطرہ ٹپکتا ہے اگر کسی کو بتا یا جائے کہ دیکھو کہنی یا تلوے یا ایڑی میں تھوڑی سی جگہ خشك رہ گئی تو بس ہاتھ اس جگہ پھیر دے گا اور اس میں پانی کی باقیماندہ تری کو کافی سمجھے گا از سر نو دو سرا پانی بھی نہ لے گا ، پانی بہانا تو دور کی بات ہے ، تو خدا ہی کی بارگاہ میں شکایت ہے اور کوئی طاقت وقوت نہیں مگر عظمت والے خدائے بر ترہی سے ۔ (ت)
تنبیہ جلیل : متعدد کتب فـــــمعتمد ہ مثلا خلاصہ وجوہر ہ نیرہ وحلیہ وغنیہ ودر مختار وغیرہا میں وہ استثنا کہ ہاتھوں میں دوسرا اور پاؤں میں تیسرا تھا اس میں یہ قید لگائی کہ وہ چیز ایسی نرم ہو جس میں پانی سرایت کر سکے جیسے مٹی گار انہ سخت اور نفوذ کو مانع جیسے آٹا ، موم ، چربی ، جما ہو اگھی ، مچھلی کا سنا ، چبائی ہوئی روٹی ، درمختار سے گزرا۔
بخـلاف نحوعجین[3]
گندھے ہوئے آٹے جیسی چیز کے بر خلاف(ت)
ردالمحتار میں قول شارح لایمنع دھن (مانع نہیں تیل ، ت) کے تحت میں ہے :
ای کزیت وشیرج بخلاف نحوشحم وسمن جامد[4]
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع