30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
معراج الدرایہ میں ہے کہ عورت نے اگر دوپٹے پر مسح کیا اور تری نفوذ کر کے سر تك پہنچی یہاں تك کہ سر کا چوتھائی حصہ نم ہو گیا تو جائز ہے ۔ ہمارے مشائخ فرماتے ہیں ، جب دو پٹہ نیا ہو تو جائز ہے اس لئے کہ نئے کپڑے کے سوارخ استعمال کی وجہ سے بند نہ ہوئے ہوں گے تو تری نفوذ کر جائیگی ، لیکن اگر نیانہ ہو تو جائز نہیں کیونکہ اس کے سوارخ بند ہوچکے ہوں گے ۔ (ت)
فــــــ ۱ : مسئلہ : وضو میں انگوٹھی چھلوں چوڑیوں وغیرہ گہنوں کا حکم۔
فــــــ ۲ : مسئلہ : سر کے نیچے جو بال لٹکتے ہیں ان کا مسح کا فی نہیں۔
فـــــ ۳ : مسئلہ : ٹوپی یا دو پٹہ اگر ایسا ہو کہ اس پر سے نم سر کے چوتھائی حصہ پر یقینا پہنچ جائے تو کافی ہے ورنہ نہیں۔
۲۹اقــول : جرت فـــــ عادتہم رحمہم الله باحالۃ الامور علی مظانھا الا غلبیۃ کقولھم فی شرب الجنب ماء یجزیئ عن المضمضۃ ان جاھلا لعبہ لاعالما لمصہ وفی عض الکلب علی ثوب ینجس فی الرضا لسیلان لعابہ دون الغضب لجفافہ ووقوع الفارۃ حیۃ فی البئر ینجس لوھاربۃ من ھرۃ لبولہ والا لاونظائرہ لاتحصی والذی یعرف المناط یعرف المقصود فالمناط نفوذ البلۃ الی قدر الفرض فان علم اجزأ ولو الثوب خلقا والا لاولو جدیدا کما لایخفی۔
اقول : حضرات مشائخ رحمہم الله تعالی کی عادت یہ ہے کہ معاملات کو غالب گمان کی جگہوں کے حوالے کرتے ہیں جیسے جنب کے پانی پینے سے متعلق کہتے ہیں کہ اگر وہ جاہل ہے تو اس کا پینا کلی کی جگہ کام دے گا کیونکہ وہ منہ بھر کر بڑے بڑے گھونٹ پئے گا اور عالم ہے تو کافی نہ ہوگا کیونکہ وہ چوس چوس کر پئے گا ، اورکپڑے پر کتے کے دانت کاٹنے سے متعلق کہتے ہیں کہ اگر وہ رضا کی حالت میں ہو توکپڑا نا پاك ہوجائے گا کیونکہ اس کا لعاب بہتا ہوگا اور غصے میں ہو تو ناپاك نہ ہوگا کیونکہ اس کاتھوك خشك ہوچکا ہوگا اور کنویں میں چوہے کے زندہ گر نے سے متعلق کہتے ہیں اگربلی سے بھاگتے ہوئے گر ا تو کنواں ناپاك ہوجائے گا کیونکہ اس کا پیشاب نکلتا ہوگا ، ورنہ ناپاك نہ ہوگا ، اور اس کی بے شمار نظیریں ہیں جو مدار کا ر سے آشنا ہے وہ مقصد پہچان لیتا ہے تو یہاں مدار اس پر ہے کہ تری مقدار فرض تك نفو ذ کر جائے اگر نفوذ معلوم ہے تو یہ کافی ہے اگرچہ کپڑا پرانا ہے ورنہ کافی نہیں اگر چہ کپڑا نیا ہو ، جیسا کہ واضح ہے۔ (ت)
(۱۰) نم کم ازکم چوتھائی سرکو استیعاب کرلے
ھوا لصحیح المفتٰی بہ الماخوذ وان قیل وقیل وقداشتھرت
(یہی صحیح ، مفتی بہ ، ماخوذ ہے ۔ اگر چہ ضعیف اقوال متعدد ہیں اور یہ مسئلہ متون وشروح میں معروف
فـــ : مسئلہ : عادۃ الفقہاء بناء الامر علی المظنۃ الغالیۃ ویعرف المراد من عرف المناط ۔
المسألۃ متونا وشروحا
ومشہورہے (ت)
(۱۱) کعبین گٹوں یعنی ٹخنوں کا نام ہے اُن کے بالائی کناروں سے ناخنوں کے منتہی تك ہر حصے پرزے ذرّے ذرّے کا دُھلنا فرض ہے اُس میں سے سرِ سوزن برابر اگر کوئی جگہ پانی بہنے سے رہ گئی وضو نہ ہوگا ، ہاں پاؤں میں تیسرا استثناء جو گزرا اپنے محل پر مسلم ہے جس کی تحقیق فقیر کے فتاوٰی بیان غسل میں ملے گی ، چھلّے اور سب گہنے کہ گٹوں پر یا اُن سے نیچے ہوں اُن کا حکم وہی ہے جو فرض ہشتم میں گزرا ۔
(۱۲) مُنہ ، فـــــ ہاتھ ، پاؤں تینوں عضوؤں کے تمام مذکور ذرّوں پر پانی کا بہنا فرض ہے فقط بہے گا ہاتھ پھر جانا یا تیل کی طرح پانی چُپڑ لینا تو بالاجماع کافی نہیں اللھم الامامر فی الرجلین (مگر وہ جو پیروں سے متعلق گزار۔ ت)اور صحیح مذہب میں ایك بوند ہرجگہ سے ٹپك جانا بھی کافی نہیں کم سے کم دو بوندیں ہر ذرہ ابدان مذکورہ پر سے بہیں۔ درمختار میں ہے :
غسل الوجہ ای اسالۃ الماء مع التقاطر ولو قطرۃ وفی الفیض اقلہ قطرتان فی الاصح اھ[1]
قــال ح ثم ط ثم ش کلھم فی حواشی الدر یدل علیہ صیغۃ التفاعل اھ[2] اماما عن ابی یوسف ان الغسل مجرد بلّ المحل بالماء سال اولم یسل[3] ولاجلہ جعل فی البحر الاسالۃ مختلفا فیھا بینہ وبین الطرفین و
چہرے کا دھونا یعنی “ تقاطر “ کے ساتھ پانی بہانا اگر چہ ایك ہی قطرہ ٹپکے ، اور فیض میں ہے کہ اصح یہ ہے کہ کم از کم دو دو قطرے ٹپکیں اھ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع