30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شرح کی عبارت “ بھووں کے بالوں کی جڑیں الخ “ اس صورت پر محمول ہے جب بھووں کے بال گھنے ہوں اور اگر جِلد دکھائی دیتی ہو تو جِلد دھونا ضروری ہے جیسا کہ آگے شرح ہی میں برہان کے حوالہ سے آ رہا ہے ۔ اسی طرح داڑھی اور مونچھ کے بارے میں بھی کہا جائے گا اور اسے حلبی نے عصام الدین شارح ہدایہ سے نقل کیا ہے ۔ طحطاوی ۔ (ت)
اُسی میں ہے :
قـولہ لاخلاف ای بین اھل المذھب
عبارت نہر “ کوئی اختلاف نہیں “ یعنی اہلِ مذہب
علی جمیع الروایات ط اھ [1]
۲۸اقـــول : فلا ینافی ما قدمنا لثبوت الخلاف من غیرنا۔
کے درمیان تمام روایات پر کوئی اختلاف نہیں ، طحطاوی ، ا ھ ۔ (ت)
اقول : تو اس کے منافی نہیں جو پہلے ہم نے ذکر کیا کیونکہ غیر حنفیہ کا اس میں اختلاف موجود ہے ۔ (ت)
اُسی میں ہے :
قولہ المسترسل ای الخارج عن دائرۃ الوجہ وفسرہ ابن حجر فی شرح المنہاج بما لومد من جہۃ نزولہ لخرج عن دائرۃ الوجہ[2]۔
عبارتِ نہر “ داڑھی کے لٹکے ہوئے بال “ یعنی وہ جو چہرے کے دائرے سے خارج ہیں اور ابنِ حجر نے شرح منہاج میں اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ وہ حصہ جسے نیچے کو پھیلایا جائے تو دائرہ رخ سے باہر ہو جائے ۔ (ت)
اُسی میں ہے :
قــولــہ بل یسن ای المسح لکونہ الاقرب لمرجع الضمیر وعبارۃ المنیۃ صریحۃ فی ذلك ح[3]
عبارتِ نہر “ بلکہ مسنون ہے “ یعنی مسح ، اس لئے کہ ضمیر کا قریب تر مرجع وہی ہے ، اور منیہ کی عبارت اس بارے میں صریح ہے ۔ حلبی ۔ (ت)
(۶) کنپٹیاں فـــــ ، کان اور رخسار کے بیچ میں جو حصّہ ہے اس کا دھونا واجب ہے جتنا حصہ داڑھی اور کان کے بیچ میں ہے وہ مطلقًا اور جتنا بالوں کے نیچے ہے اگر بال چھدرے ہوں تو وہ بھی ، ہاں گھنے ہوں تو اس کا فرض بالوں کی طرف منتقل ہو جائے گا ، و قد تقدم ما یکفی لافادتہ ( اس کے افادہ کے لئے بقدرِ کفایت عبارتیں گزر چکی ہیں ۔ (ت)
فــــــ : مسئلہ : وضو میں کنپٹیوں پر بھی پانی بہانا فرض ہے ۔
(۷) دونوں کہنیاں تمام و کمال ۔ (۸) انگوٹھی فـــــ۱ ، چھلّے وغیرہا جائز ، ناجائز ہر قسم کے گہنے مرد ، عورت سب کے لئے جب کہ تنگ ہوں کہ بے اُتارے اُن کے نیچے پانی نہ بہے گا اُتار کر دھونا فرض ہے ورنہ ہلا ہلا کر پانی ڈالنا کہ ان کے نیچے بَہہ جائے مطلقًا ضرور ہے ۔ در مختار میں ہے :
لو خاتمہ ضیقا نزعہ اوحرکہ وجوبا[4]۔
اگر انگوٹھی تنگ ہو تو ضروری ہے کہ اُسے اتار دے یا حرکت دے ۔ (ت)
(۹) مسح کی نم سر کی کھال یا خاص سر پر جو بال ہیں ( نہ وہ کہ سر فـــــ۲ سے نیچے لٹکے ہیں) اُن پر پہنچنا فرض ہے ، عمامے ، دوپٹے وغیرہ پر مسح ہرگز کافی نہیں مگر جب کہ کپڑا فـــــ۳ اتنا باریك اور نم اتنی کثیر ہو کہ کپڑے سے پھوٹ کر سر یا بالوں کی مقدار شرعی پر پہنچ جائے ۔ بحر میں ہے :
فـی معراج الدرایۃ لومسحت علی خمارھا و نفذت البلۃ الی رأسھا حتی ابتل قدر الربع منہ یجوز قال مشائخنا اذا کان الخمار جدیدا یجوز لان ثقوب الجدید لم تسد بالاستعمال فتنفذ البلۃ اما اذا لم یکن جدید الا یجوز لانسداد ثقوبہ[5] اھ۔
[1] رد المحتار کتاب الطہار ۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۸
[2] رد المحتار کتاب الطہار ۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۶
[3] رد المحتار کتاب الطہار ۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۹
[4] الدر المختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۹
[5] البحرالرائق کتاب الطہارۃ باب المسح علی الخفین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۸۳ و۱۸۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع