دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 1 | فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

خدا جانے یہ حکایات کہاں تك صحیح ہیں ۔ البحر الرائق میں تو یہ کہا ہے کہ دونوں پیروں کے دھونے پر اجماع ہوچکا ہے اور روافض کے اختلاف کا کوئی اعتبار نہیں اھ ، اور اسی طر ح امام نووی نے فرمایا ہے کہ اس پر صحابہ اور فقہاء کا اجماع ہے اھ ۔

قلت : (میں نے کہا) سعید بن منصور نے اپنی سنن میں عبدالرحمن بن ابی لیلی سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا ، دونوں پیر دھونے پر اصحاب رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا اجماع ہے ہاں ابن ماجہ وغیرہ نے بطریق عبدالله بن محمد بن عقیل ، روایت کیا کہ ان کے بارے میں بہت زیادہ اختلاف ہے اور حافظ ابن حجر نے تقریب میں کہا کہ صدوق (راست گو) ہیں ان کی حدیث میں کچھ لین(نرمی) ہے اور کہا جاتا ہے کہ آخر عمر میں ان کے اندر تغیر آگیا تھا حضرت ربیع رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت کی ہے کہ وہ فرماتی ہیں میرے یہاں ابن عباس آئے تو میں نے ان سے اس حدیث کے بارے میں

 

فـــــ :  تحقیق ان غسل الرجلین مجمع علیہ و انہ لم یقل بالمسح الا شرذمۃ قلیلۃ قد رجعو ا عنہ۔

حدیثھا الذی ذکرت ان رسول الله صلی الله علیہ وسلم توضّأ وغسل رجلیہ فقال ابن عباس رضی الله تعالٰی عنھما ان الناس ابوا الا الغسل ولا اجد فی کتاب الله الاالمسح[1]۔

۲۷اقـول :  وکفٰی حجۃ لنا قول نفسہ ان الناس ابوا الاالغسل فابی الحق الا ان یکون مع الجماعۃ وقد ثبت عنہ رضی الله تعالٰی عنہ ما یعارضہ اخرج سعید بن منصور وابن ابی شیبۃ و عبدالرزاق وعبد بن حمید والطبرانی فی الکبیر و ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم و النحاس عن ابن عباس رضی الله تعالٰی عنھما انہ قرأھا وارجلکم بالنصب یقول رجعت الی الغسل[2] وقـد اخرج ابن جریر عن عطاء قال لم ار احدا یمسح علی القدمین[3] فھٰذا               

پوچھا ، اس سے اپنی وہ حدیث مراد لے رہی ہیں جس میں انہوں نے ذکر کیا ہے کہ رسول الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے وضو کیا اوردونوں قد م مبارك دھوئے ، تو ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا ، لوگ تو دھونے کے سوا کچھ مانتے نہیں میں کتا ب الله میں مسح کے سوا کچھ پاتا نہیں ۔

اقول : (میں کہتا ہوں ) ہماری دلیل کے لئے خود انہی کا یہ کہنا کافی ہے کہ “ ان الناس ابواالاالغسل “ لوگو ں کو دھونے کے سوا کچھ منظور نہیں “ اور حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے اس کے معارض بھی ثابت ہے سعید بن منصور ، ابن ابی شیبہ ، عبدالرزاق ، عبد بن حمید ، معجم کبیر میں طبرانی ، ابن جریر ، ابن المنذر ، ابن ابی حاتم اور نحاس ، ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے راوی ہیں کہ انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ میں نے دھونے کی جانب رجوع کرلیا ، آیت کریمہ میں “ وارجلکم “ نصب کے ساتھ پڑھا اور ابن جریر نے عطا سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا ، میں نے کسی کو پیروں پر مسح

من اخص تلامذۃ ابن عباس یقول ماتسمع فلا جرم رجع ابن عباس عن ھذا کمارجع عن قولہ فی المتعۃ وتلا الایۃ الا علی ازواجھم اوما ملکت ایمانھم وقال کل فرج سواھما حرام ١[4] وکذلك ثبت الرجوع عن کل من نقل عنہ المسح وھم شرذمۃ قلیلۃ فلا شك فی استقرارا لاجماع علی الغسل کما قال التابعی الجلیل الکبیر الشان عبدالرحمٰن بن ابی لیلٰی رضی الله تعالٰی عنھما والله الھادی ،                

کرتے نہ دیکھا ، یہ حضرت ابن عباس کے مخصوص ترین تلامذہ سے ہو کر یہ بات فرمارہے ہیں تو قطعی بات ہے کہ حضرت ابن عباس قول مسح سے رجوع کر چکے ہیں جیسے متعہ کے بارے میں اپنے قول سے انہوں نے رجوع کرلیا اور آیت کریمہ “اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ  (مگراپنی بیویوں یا اپنی باندیوں پر) تلاوت کی اور فرمایا : ان دو نوں کے سوا ہر فرج حرام ہے ، اسی طر ح جن سے بھی مسح منقول ہے ان میں ہر ایك سے رجوع ثابت ہے اور وہ محض چند افراد ہیں تو اس میں کوئی شك نہیں کہ دھونے پر اجماع ہوچکا ہے جیسا کہ جلیل الشان تا بعی بزرگ عبدالرحمن بن ابی لیلٰی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا اور خداہی ہدایت دینے والا ہے ۔

فر ض عملی : فــــ۱ ہر مذہب میں جدا ہوتے ہیں ، ہمارے مذہب صحیح معتمد مفتی بہ پر وضو میں فر ض عملی بمعنی مذکور اعنی ارکان عملیہ کہ یہاں وہی واجب اعتقادی ہیں بارہ۱۲ ہیں جن میں اکثر کا استخراج متامل پر ہمارے بیان سابق سے دشوار نہیں کہ مفتی بہ کی غیر ماخوذ سے تمیز صریح اور اپنے کم علم بھائیوں کی تفہیم کے لئے صاف تصریح بہتر ہے ۔

 



[1]    سنن ابن ماجہ ، ابواب الطہارۃ وسننہا باب ماجاء فی غسل القدمین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۶

[2]    الدر منثور بحوالہ سعید بن منصور تحت الآیہ ۵ / ۶ دار احیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۲۹ ، جامع البیان (التفسیر الطبری ) بحوالہ سعید بن منصور تحت الآیہ ۵ / ۶ دار احیاء التراث العربی بیروت ۶ / ۱۵۴

[3]    جامع البیان (التفسیر الطبری ) بحوالہ سعید بن منصور تحت الآیہ ۵ / ۶ دار احیاء التراث العربی بیروت ۶ / ۱۵۵

[4]   الدر منثور بحوالہ ابن عباس تحت الآیہ ۴ / ۲۴ دار احیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۵۳

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن