30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عمامہ پہنے تو اس کے لئے اس پر مسح جائز نہیں ، اور زیادہ ظاہر یہ ہے کہ امام احمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے نزدیك اس کا استیعاب ( پورے عمامہ پر مسح) واجب ہے او راس میں مدت مسح کی تجدید موزے کی طر ح ہے اور عمامہ اتارنے یا سر کھل جانے سے مسح باطل ہوجاتا ہے مگر یہ کہ تھوڑا سا کھل جائے مثلا سر کھجلائے یا وضو کے لئے کچھ اٹھائے ، او راسے طہارت پر پہننے کی شرط ہو نے سے متعلق دو روایتیں ہیں اھ(ت)
چہارم : پاؤں کہ بشرائط شرعیہ موزہ شرعی کے اندر نہ ہو ں انہیں ناخنوں سے پنڈلی اور پاؤں کے جوڑ تك جو وسط قدم میں چار طر ف جدا گانہ تحریر سے ممتاز ہے جہاں عربی نعال کا دوال باندھا جاتا ہے اور نیچے کروٹو ں او رایڑیوں سب پر پانی پہنچنا فر ض اعتقادی اسی قدر ہے او رموزے بشرائط ہوں تو مدت معلوم تك مسح کا فی ، اوریہاں بھی ہاتھوں کی طر ح تین استثناء :
(۱)گٹوں سے تحریر مذکور تك کہ اس قدر کا دھونا بروایت ہشام عن محمد ضرور نہیں اور نفس کعبین مثل مرفقین امام زفر کے نزدیك خارج ہیں کافی میں ہے :
وغسل یدیہ مع مرفقیہ ورجلیہ مع کعبیہ خلافالزفر فی الغایتین۔ [1]
اور دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت اور دو نوں پیروں کو ٹخنوں سمیت دھونا دونوں حدود (کہنیوں او رٹخنوں) میں امام زفر کا اختلاف ہے ۔ (ت)
بحر میں ہے :
الکعبان العظمان الناشزان من جانبی القدم صححہ فی الہدایۃ وغیرھا وروی ھشام عن محمد
کعبین وہ دو ہڈیاں ہیں جو قدم کی دو نوں جانب ابھری ہوئی ہیں ، اسی کو ہدایہ وغیرہا میں صحیح کہا اور ہشام نے امام محمد سے روایت کی ہے کہ
انہ فی ظھر القدم معقد الشراك قالو اھو سھو من ھشام [2] الخ۔
کعب پشت قدم میں عربی جوتو ں کے تسمے باندھنے کی جگہ ہے ، مشائخ نے فرمایا یہ ہشام کا سہو ہے ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قدمنا عن شرح المنیۃ ان غسل المرفقین والکعبین لیس بفرض قطعی بل ھو فرض عملی[3]۔
ہم شرح منیہ کے حوالے سے سابقا لکھ آئے ہیں کہ کہنیوں اور ٹخنوں کا دھونا فرض قطعی نہیں بلکہ فرض عملی ہے ۔ (ت)
(۲) عورتوں کے لئے چھلے وغیرہ جائز گہنوں کے نیچے کہ مالکیہ عفو کرتے ہیں۔
(۳) میل ، مکھی مچھر کی بیٹ کہ سارے ہی بدن میں معاف ہیں او رمہندی ، مٹی ، گارا جس طر ح ہاتھوں میں گزرا۔
۲۵اقــول : وعبرت بوصول الماء لما عبر ولرعایۃ مافی المیزان اتفاق الائمۃ علی ان غسل القدمین فی الطہارۃ مع القدرۃ فرض اذا لم یکن لابسا للخف مع ماحکی احمد والاوز اعی والثوری وابن جریر من جواز مسح جمیع القدمین وان الانسان عندھم مخیربین الغسل والمسح وقد کان ابن عباس یقول فرض الرجلین المسح لاالغسل اھ[4]
اقول : میں نے “ پانی پہنچنا “ کہا اس کی وجہ گزر چکی ( کہ ہمارے نزدیك پہنچانا فر ض نہیں ، اور پانی بہہ جانا کے بجائے صرف پہنچنا )اس کی رعایت کے پیش نظر جو میزان میں ہے کہ ائمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ قدرت کی حالت میں وضو کے اندر دونوں پیروں کا دھونا فرض ہے جبکہ موزہ نہ پہنے ہو ، اس کے ساتھ امام احمد ، اوزاعی ، ثوری اور ابن جریر سے حکایت کی گئی ہے کہ پورے دونوں قدموں پر مسح کرنا جائز ہے اور ان کے نزدیك انسا ن کو اختیار ہے کہ دھوئے یا مسح کرلے۔ او رحضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے تھے کہ پیروں پر مسح فرض ہے دھونا نہیں اھ۔
والله اعلم بصحۃ ھذہ الحکایات فقد فـــــ قال فی البحر الرائق ان الاجماع انعقد علی غسلھما ولا اعتبار بخلاف الروافض اھ[5] وکذا قال الامام النووی اجمع علیہ الصحابۃ والفقہاء اھ ۔
۲۶قلت : واخرج سعید بن منصور فی سننہ عن عبدالرحمٰن بن ابی لیلی قال اجتمع اصحاب رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم علی غسل القدمین[6] نعم روی ابن ماجۃ وغیرہ من طریق عبدالله بن محمد بن عقیل مختلف فیہ کثیرا وقال الحافظ فی التقریب صدوق فی حدیثہ لین ویقال تغیر باٰخرہ[7] عن الربیع رضی الله تعالٰی عنھا قالت اتانی ابن عباس فسألنی عن ھذا الحدیث تعنی
[1] الکافی شرح الوافی
[2] البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی ۱ / ۱۳
[3] ردالمحتار کتاب الطہار ۃ فی معنی الاجتہاد الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۷
[4] المیزان الشریعۃ کتاب الطہارۃ باب الوضوء دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۱۵۲
[5] البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی۱ / ۱۴
[6] الدر منثور بحوالہ سعید بن منصور تحت الآیہ ۵ / ۶ دار احیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۳۰
[7] تقریب التہذیب ، حرف العین ذکر من اسمہ عبداللہ بن محمد عقیل دارا لکتب العلیمہ بیروت ۱ / ۵۳۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع