30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ارشاد ہے “ اور اسے پورا ایك مثقال نہ کرو “ جیسا کہ اسے ہم نے اپنے فتاوی میں اس کے مقام پر بیان کیا ہے ۔ (ت)
سوم : سرکا مسح یعنی اس کے کسی جز کھال یا بال یا نائب شرعی پر نم پہنچ جانا ، فرض اعتقادی اسی قدر ہے کتاب الانوار لاعمال الابرار امام یوسف ارد بیلی شافعی میں ہے :
الفرض الرابع مسح الرأس بما شاء اما علی البشرۃ ولو قدر ابرۃ اوعلی شعر ولو واحد ان لم یخرج الممسوح من حدہ [1]۔
چوتھا : فر ض سرکا مسح جس قدر چاہے ، یا تو جلد پر ہواگر چہ سوئی برابر ، یا بال پر ہوا گر چہ ایك ہی بال پر بشرطیکہ بال کے جس حصے پر مسح ہو وہ سر کی حد سے باہر نہ ہو ۔ (ت)
قرۃ العین علامہ زین تلمیذ امام ابن حجر مکی شافعی میں ہے :
ولـو شعر ۃ واحدۃ اھ [2]
۲۳اقـول : وعبرت انا بوصول البلل لانہ فــــ الفرض عندنا دون الایصال حتی لواصابہ مطر اجزأہ [3] کما فی الدر المختار وزدت النائب الشرعی لقول الامام احمد بن حنبل رضی الله تعالٰی عنہ
اگر چہ ایك بال کے کسی حصے پر ہواھ ۔
اقول : میں نے “ نم پہنچ جانا “ کہا اس لئے کہ ہمارے نزدیك یہی فرض ہے ، پہنچا نا فرض نہیں ، اگر بارش سے بھیگ گیا تو بھی کافی ہے جیساکہ درمختار میں ہے اور میں نے “ نائب شرعی “ کا اضافہ کیا اس لئے کہ امام احمد بن حنبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا قول ہے کہ “ عمامہ پر بھی مسح ہوسکتا ہے ،
فــــــ : مسئلہ : وضو وغسل میں پانی پہنچنا فر ض ہے اگر چہ اپنے فعل سے نہ ہو مثلاپھوہار بر سی اور چوتھائی سرکو نم پہنچ گئی مسح سرکا فرض اتر گیا۔
علی ما فی میزان الشعرانی حیث قال قول الائمۃالثلثۃ ان المسح علی العمامۃ لایجزیئ مع قول احمد بانہ یجزیئ لکن بشرط ان یکون تحت الحنك منھا شیئ روایۃ واحدۃ وعنہ فی مسح المرأۃ علی قناعھا المستدیر تحت حلقھا روایۃ وھل یشترط ان یکون لبس العمامۃ علی طھرروایتان اھ[4]۔
قلت : وکلامہ شیخہ الذی صحبہ الامام الشعرانی عشر سنین وقال لم ارہ یغضب فی سفر ولا حضرا عنی محقق عصرہ العلامۃ زین بن ابراھیم بن نُجَیم المصری رحمھما الله تعالٰی فی البحر الرائق اتم وانفع حیث قال اما علی العمامۃ فاجمعوا علی عدم جوازہ الا احمد فانہ اجازہ ، بشرط ان تکون ساترۃ لجمیع الرأس الاماجرت العادۃ بکشفہ وان یکون تحت الحنك منھا شیئ سواء کانت لھا ذؤابۃ اولم تکن وان لا تکون عمامۃ محرمۃ فلا یجوز المسح علی
جیسا کہ میزان امام شعرانی میں یہ لکھا ہے کہ “ تینوں ائمہ کا قول ہے کہ عمامہ پر مسح کافی نہیں ، جبکہ امام احمد کا قول ہے کہ کافی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ اس عمامہ کا کچھ حصہ ٹھوڑی کے نیچے بھی ہو ۔ اس بارے میں ان سے یہی ایك روایت ہے اور عورت کا دوپٹہ جو اس کے گلے کے نیچے گھیرے ہوئے ہو اس پر عورت کے مسح سے متعلق ان سے ایك روایت ہے ۔ عمامہ کا طہارت پر پہنے ہونا شرط ہے یا نہیں اس بارے میں دو روا یتیں ہیں۔ “
قلت : امام شعرانی کے شیخ جن کی صحبت میں وہ دس سال تك رہے اور بتایاکہ میں نے انہیں سفر یا حضرمیں کبھی غصہ ہوتے نہ دیکھا یعنی محقق عصر علامہ زین بن ابراہیم بن نجیم مصری رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی، بحر الرائق میں ان کا کلام اس سلسلہ میں زیادہ کامل ونافع ہے وہ فرماتے ہیں اور عمامہ پر مسح کے عدم جواز پر سوا امام احمد کے تمام ائمہ کا اجماع ہے امام احمد نے اسے جائز کہا ہے بشرطیکہ اس سے پورا سر چھپاہوا ہو مگر اس قدر جو عادۃ کھلا رہتا ہے اور ٹھوڑی کے نیچے بھی اس کا کچھ حصہ ہو خواہ اس میں شملہ ہو یا نہ ہو او روہ عمامہ حرام نہ ہو تو غصب کئے ہوئے عمامہ پر مسح جائز نہیں ، اور عورت اگر مرد کا
العمامۃ المغصوبۃ ولا یجوز للمرأہ اذا لبست عمامۃ للرجل ان تمسح علیھا والاظھر عند احمد وجوب استیعابھا والتوقیت فیھا کالخف ویبطل بالنزع والانکشاف الا ان یکون یسیرا مثل ان یحك رأسہ اویرفعھا لاجل الوضوء فی اشتراط لبسھا علی طھارۃ روایتان اھ [5]
[1] الانوار لاعمال الابرار کتاب الطہارۃ فصل فروض الوضوء مطبع جمالیہ مصر۱ / ۲۳
[2] فتح المعین شرح قرۃ العین فروض الوضوء عامر الاسلام پریس کیبرص ص ۱۴
[3] الدر المختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹
[4] المیزان الشریعۃ الکبری کتاب الطہارۃ باب الوضوء دار الکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۱۵
[5] البحرالرائق کتاب الطہار ۃ باب مسح علی الخفین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۸۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع