30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نیچے پانی نہ پہنچا ، اور مہندی اگر چہ جرم دار ہو ، اسی پر فتوی ہے ، اورمیل ، تیل ، چکنائی ، مٹی ، گارا اگر چہ ناخن میں ہو ۔ قول اصح پر مطلقًا یعنی دیہاتی ہو یا شہری ، بخلاف گندھے ہوئے آٹے کے ، اور رنگر یز کے ناخن پر جو رنگ ہوتا ہے وہ مانع نہیں۔
ردالمحتار میں ہے :
لکن فی النھر لوفی اظفارہ عجین فالفتوٰی انہ مغتفر اھ [1]۔
ورأیتنی کتبت فیما علقت علی ردالمحتار علی قولہ وحناء ولوجرمہ بہ یفتی ۱۹اقول : وبہ یظھر بحکم بعض اجزاء فـــــ٢ کحل تخرج فی النوم وتلتصق ببعض الجفون اوتستقر فی بعض الماٰقی و ربما تمر
لیکن النہر الفائق میں ہے کہ اگر ناخنوں کے اندر خمیر رہ گیا ہو تو فتوی اس پر ہے کہ وہ معاف ہے اھ۔
میں نے دیکھا کہ رد المحتار پر جو حواشی میں نے لکھے ہیں ان میں درمختار کی عبارت اور مہندی اگر چہ جرم دار ہو ، اسی پر فتوی ہے پر میں نے یہ لکھا ہے ، اقول اس سے سرمہ کے ان ریزوں کا حکم ظاہر ہوجاتا ہے جو سوتے وقت نکل کر پلك میں چپك جاتے ہیں یا آنکھ کے کوئے میں بیٹھ جاتے ہیں اور کبھی وضووغسل میں ان
فـــــ۱ : مسئلہ : عورت کے ہاتھ پاؤں پر مہندی کا جرم لگا رہ گیا اور خبر نہ ہوئی تو وضو و غسل ہوجائے گا ہاں جب اطلاع ہو چھڑا کر وہاں پانی بہائے ۔
فـــــ۲ : مسئلہ : سرمہ آنکھ کے کوئے یا پلك میں رہ گیااور اطلاع نہ ہوئی تو ظاہرا حرج نہیں اور بعد نماز کوئے میں محسوس ہوا تو اصلاباك نہیں۔
الید علیھما فی الوضوء والغسل ولا یعلم بھا اصلا فلا یکفی فیہ التعاھد المعتاد ایضا الا بتیقظ خاص وتفحص مخصوص فذلك کجرم الحناء لابالقیاس بل بدلالۃ النص فان الحاجۃ الی الکحل اشدو اکثر۔ ولیعلم ان ظھورہ فی مؤق بعدما یمرعلی الطہارۃ شیئ من زمان کما یراہ بعد ما صلی مایلتفت الیہ اصلا فانہ ربما ینتقل بعد التطھر من داخل العین الی الماقی والحادث یضاف الی قرب الاوقات اما الملتزق بالجفن فلعل فیہ الوجہ الاول لاغیرھذا کلہ ماظھر لی ولیحرر[2]۔ والله تعالٰی اعلم۔
و رأیتنی کتبت فیہ علی قولہ لایمنع ما علی ظفر صباغ ۲۰اقول : ویعلم فـــــ ١ منہ حکم المداد
پر ہاتھ بھی گزرتا ہے اور ان کا پتہ نہیں چلتا ، کیونکہ اس کے لئے الگ سے خاص دھیان دئیے اور مخصوص جستجو کئے بغیر معمولی توجہ سے کام نہیں بن سکتا ۔ تو وہ مہندی کے جرم کا حکم رکھتے ہیں ، قیاس سے نہیں بلکہ دلالۃ النص سے اس لئے کہ سرمہ کی حاجت زیادہ شدت وکثرت سے ہوتی ہے او ریہ بھی واضح رہے کہ طہارت پر کچھ دیر گزرجانے کے بعد اگر سرمہ آنکھ کے کوئے میں نمودار ہوا جیسے اسے نماز پڑھنے کے بعد محسوس ہو تو وہ ذرا بھی قابل التفات نہیں اس لئے کہ یہ احتمال ہے کہ وہ طہارت حاصل کرنے کے بعد آنکھ کے اندر سے کوئے میں آگیا ہو ایسا ہوتا رہتا ہے ، اور نو پیدا چیز قریب تر وقت کی جانب منسوب ہوتی ہے لیکن جو پلك سے چپکا ہوا ہو تو امید یہ ہے کہ اس میں مناسب وہی پہلی صورت ہے دو سری نہیں ( یعنی وہ وضو کے پہلے سے لگا ہوا ہے او رگرفت میں نہ آیا ) یہ سب وہ ہے جو مجھ پر ظاہر ہوا ، اس کی تنقیح کرلی جائے ، والله تعالی اعلم
اور میں نے دیکھا کہ اس میں درمختار کی عبارت “ رنگریز کے ناخن پر جو رنگ ہوتا ہے وہ مانع نہیں “ کے تحت میں نے یہ لکھا ہے اقول : اس سے اس
فـــــ : مسئلۃ : کاتب کے ناخن پر روشنائی کا جرم رہ گیا اور خبر نہ ہوئی تو ظاہرا حرج نہیں ۔
علی ظفرا لکاتب فانہ یضع القلم علی ظفر ابھامہ الیسری ویغمزہ لینفتح فیصیب الظفر جرم من المداد و ربما ینسی فیتو ضأ ویمر الماءفوق المداد ولا یزیلہ فمفاد ماھنا الجواز و رأیت التنصیص بہ فی حاشیۃ العشماویۃ من کتب السادۃ المالکیۃ حیث قال تجب ازالۃ مایمنع من وصول الماء کعجین وشمع وکذلك الحبر المتجسد لغیر کاتبہ ونحوہ کبائعہ وصانعہ واما الکاتب ونحوہ ان راٰہ بعد ان صلی فلا یضراذا مریدہ علی المداد لعسر الاحتراز منہ لاان راٰہ قبل الصلاۃ وامکنہ ازالتہ اھ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وھو کلہ واضح موافق لقواعدنا الا قولہ اذا مریدہ علی المداد فانما شرطہ لان الدلک
روشنائی کا حکم معلوم ہوجاتا ہے جوکاتب کے ناخن پرلگی ہوتی ہے ، اس لئے کہ وہ اپنے بائیں انگوٹھے کے ناخن پر قلم رکھ کر دباتا ہے تا کہ اس کا شگاف کشادہ ہوجائے اس طر ح سے روشنائی کا جرم ناخن پر لگ جاتا ہے اوربسا اوقات اسے بھول جاتا ہے اور وضوکرتا ہے تو رو شنائی کے اوپر سے پانی گزاردیتا ہے اسے چھڑاتا نہیں ہے تو یہاں جو حکم ہے اس کا مفادیہ ہے کہ وضو ہوجائے ۔ اور اس کی تصریح میں نے حضرات مالکیہ کی کتابوں میں سے حاشیہ عشماویہ میں دیکھی ، اس میں لکھا ہے اس چیز کو دور کرنا ضروری ہے جو پانی کے پہنچنے سے مانع ہو جیسے خمیر ، موم ، اور ایسے ہی جرم دارروشنائی اس کے لئے جو کاتب اور اس کے مثل ، جیسے روشنائی بیچنے یا بنانے والا نہ ہو ، رہاوہ جو کاتب ہے یااس کے مثل ہے تو اس نے اگر نماز
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع