30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہ ہے کہ وہ جلد جس پر بال اگے ہوئے ہیں اس تك پانی پہنچا نا ضروری نہیں تو جو حصہ اس سے دور ہے اس تك پہنچا بدرجہ اولی ضروری نہ ہوگا۔ اورطرفین کہتے ہیں کہ وہاں اس لئے ضروری نہ ہو اکہ وہ جلد بالوں سے چھپی ہوئی ہے اور یہاں بال نہیں ہیں تو اس کا حکم وہی رہا جو پہلے تھا کہ دھونا ضروری ہے اھ ۔ (ت)
اور امام دارالہجرہ سیدنا امام مالك رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہوا کہ ان کا دھونا مطلقًا ضرور نہیں میزان الشریعہ الکبری للعارف الربانی سیدی عبدالوھاب الشعر انی میں ہے :
قول الائمۃ الثلثۃ ان البیاض الذی بین الشعرا لاذن واللحیۃ من الوجہ مع قول مالك وابی یوسف انہ لیس من الوجہ فلایجب غسلہ مع الوجہ فی الوضوء [1]۔
تینوں ائمہ کا قول یہ ہے کہ جو سپیدی کان او ر داڑھی کے درمیان ہے وہ چہرے میں شامل ہے ، اور امام مالك و امام ابویوسف کا قول یہ ہے کہ وہ چہرے میں نہیں ہے تو وضو میں اسے دھونا واجب نہیں۔ (ت)
اسی طرح رحمۃ الامہ میں اختلاف الامہ میں ہے :
۱۸اقول : اما ابو فـــــ یوسف فقد علمت ان قولہ کقول الجمھور والروایۃنادرۃ عنہ ایضا مفصلۃ لامرسلۃ واھل البیت ادری بما فی البیت واما مالك فالذی رأیتہ من کتب مذھبہ فی شرح
اقول : امام ابو یوسف سے متعلق تو واضح ہوچکا کہ ان کا قول ۔ قول جمہور کے مطابق ہے ۔ اور ان سے جو روایت نادرہ آئی ہے اس میں بھی تفصیل ہے ، اطلاق نہیں اور اہل خانہ کو اشیائے خانہ کا زیادہ علم ہوتا ہے ۔ اب رہا امام مالك کا قول تو ان کے مذہب کی کتابوں میں سے ابن ترکی کی شرح
فـــــ : ۹تطفل علی الامام الشعرانی
المقدمۃ العشما ویۃ لابن ترکی ان الوجہ حدہ طولا من منابت شعرالراس المعتاد الی اٰخرالذقن وحدہ عرضا من الاذن الی الاذن [2] اھ وفی حاشیۃ للسفطی مابین العذارین والاذن وھو البیاض الذی تحت الوتد (ای وتد الاذن) اوالمسامت لہ یجب غسلہ لانہ من الوجہ[3] اھ فالله تعالٰی اعلم۔
مقدمہ عشماویہ میں جو حکم میں نے دیکھا وہ یہ ہے کہ طول میں چہرے کی حد عا دۃ سر کے بال اگنے کی جگہ سے ٹھوڑی کے آخری حصہ تك ہے اور عرض میں اس کی حد ایك کان سے دوسرے کان تك ہے اھ ۔ اس شرح کے حاشیہ سفطی میں ہے کہ جو حصہ دونوں رخساروں او رکان کے درمیان ہے یعنی وہ سپیدی جو جان کی ابھری ہوئی لو کے نیچے یا اس کی سمت مقابل میں ہوتی ہے ، اسے دھونا واجب ہے اس لئے کہ وہ چہرے میں شامل ہے اھ ۔ تو خدائے بر تر ہی کو خوب علم ہے ۔ (ت)
تنبیہ : یہاں ایك ا ستثنائے عام اور بھی ہے کہ فر ض دوم کے استثنا ئے ثانی میں مذکور ہوگا
دوم : دونوں ہاتھ ناخنوں سے کہنیوں تك دھونا ، اس میں تین استثناء ہیں
(۱) خود کہنیاں دھونا ، امام زفر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے نزدیك ضرور نہیں۔
(۲) جس فــــچیز کی آدمی کو عموما یا خصوصا ضرورت پڑتی رہتی ہے اور اس کے ملاحظہ واحتیاط میں حرج ہے اس کا ناخنوں کے اندر یا اوپر یا اور کہیں لگا رہ جانا اگر چہ جرم دار ہو اگر چہ پانی اس کے نیچے نہ پہنچ سکے ، جیسے پکانے گوندھنے والوں کے لئے آٹا ، رنگریز کے لئے رنگ کا جرم ، عورات کے لئے مہندی کا جرم ، کاتب کے لئے روشنائی ، مزدور کے لئے گارا مٹی ، عام لوگو ں کے لئے کوئے یا پلك میں سرمہ کا جرم ، بد ن کا میل مٹی غبار ، مکھی مچھر کی بیٹ وغیرہا کہ ان کا رہ جانا فر ض اعتقادی کی ادا کو مانع نہیں ۔ در مختار میں ہے :
لایمنع الطہارۃ خر ء ذباب وبرغوث
طہارت سے مانع نہیں مکھی اور پسو کی بیٹ جس کے
فـــ : مسئلہ : کن چیزوں کا بدن پر لگارہ جانا وضو و غسل کا مانع نہیں
لم یصل الماء تحتہ وحناء فــــ۱ ولو جرمہ بہ یفتی ودرن ودھن ودسومۃ وتراب وطین ولو فی ظفر مطلقًا ای قرویا اومدنیا فی الاصح بخلاف نحوعجین ولایمنع ماعلی ظفر صباغ۔ [4]
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع