دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 1 | فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

یہ پہلوبھی لائق توجہ ہے کہ عام طورپر مفتیان کرام کی طرف عوام الناس رجوع کرتے ہیں اور احکام شرعیہ دریافت کرتے ہیں ، فتاوٰی رضویہ کے مطالعہ سے یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ امام احمدرضابریلوی کی طرف رجوع کرنے والوں میں بڑی تعداد اُن حضرات کی ہے جو بجائے خود مفتی تھے ، مصنّف تھے ، جج تھے یا وکیل تھے ، مولانا خادم حسین فاضل جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور نے ایك مقالہ لکھا ہے جس کاعنوان ہے :

 “ امام احمدرضابریلوی بحیثیت مرجع العلماء “

اس مقالہ میں انہوں نے فتاوٰی رضویہ کی نوجلدوں(پہلی سے ساتویں اور دسویں گیارہویں جلد)کامطالعہ پیش کیا ہے ، ان کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق ان جلدوں میں چار ہزار پچانوے(۴۰۹۵)استفتاہیں ، جن میں سے تین ہزار چونتیس(۳۰۳۴)عوام الناس کے استفتاء ہیں اور ایك ہزار اکسٹھ(۱۰۶۱)استفتاء علماء اور دانشوروں کے پیش کردہ ہیں۔ اس کامطلب یہ ہوا کہ استفتاء کرنے والوں میں ایك چوتھائی تعداد علماء اور دانشوروں کی ہے ، یہی وجہ ہے کہ عموماً امام احمدرضابریلوی جواب دیتے وقت ہاں یانہیں میں نہیں کرتے بلکہ دلائل وبراہین کے انبار لگادیتے ہیں۔ مولانا خادم حسین کایہ مقالہ فتاوٰی رضویہ کی پیشِ نظر جلد ثانی میں شائع کیاجارہاہے۔

امام احمدرضابریلوی کی جلالت علمی کایہ عالم تھا کہ انہیں جوعالم بھی ملاعقیدت واحترام سے ملااور ہمیشہ کے لئے ان کامدّاح بن گیا ، حضرت علامہ مولاناوصی احمدمحدث سورتی ، عظیم محدث اور عمرمیں بڑے ہونے کے باوجود امام احمدرضابریلوی سے اس قدروالہانہ تعلق رکھتے تھے کہ دیکھنے والوں کوحیرت ہوتی تھی۔ حضرت علامہ مولانا سراج احمدخانپوری اپنے دور کے جلیل القدر فاضل تھے اور علم میراث میں توانہیں تخصّص حاصل تھا ، الزبدۃ السراجیہ لکھتے وقت ذوی الارحام کی صنف رابع کے بارے میں مفتٰی بہ قول دریافت کرنے کے لئے دیوبند ، سہارنپور اور دیگر علمی مراکز کی طرف رجوع کیا ، کہیں سے تسلی بخش جواب نہ آیا ، پھرانہوں نے وہی سوال بریلوی بھجوادیا ، ایك ہفتے میں انہیں جواب موصول ہوگیا جسے دیکھ کر ان کادماغ روشن ہوگیا اور وہ تازیست امام احمدرضابریلوی کے فضل وکمال اور تبحرعلمی کے گن گاتے رہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ امام احمدرضابریلوی سے شدید اختلاف رکھنے والے بھی انکی فقاہت اور تبحرعلمی کے قائل ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ امام احمدرضابریلوی نے ندوۃ العلماء کی صلح کلیت کاسخت تعاقب اور رد کیاتھا ، اس کے باوجود ندوہ کے ناظم اعلٰی علامہ ابوالحسن علی ندوی لکھتے ہیں؛

 “ ان کے زمانے میں فقہ حنفی اور اس کی جزئیات پر آگاہی میں شاید ہی کوئی ان کاہم پلہ ہو ، اس حقیقت پران کافتاوٰی اور ان کی کتاب کفل الفقیہ شاہد ہے جوانہوں نے ۱۳۲۳ھ میں مکہ معظمہ میں لکھی۔ “ [1]

گزشتہ سال مولانا کوثرنیازی ہندوستان گئے تو ندوۃ العلماء لکھنؤبھی گئے واپسی پر انہوں نے اپنے تاثرات میں ندوہ کے بارے میں لکھا کہ اس کے ہال میں ہندوستان کے ممتازعلماء کاامتیازی مقام واضح کرنے کے لئے چارٹس آویزاں کئے گئے تھے ، چنانچہ علمِ فقہ میں ممتازشخصیت کی حیثیت سے حضرت مولانااحمدرضاخاں کانام لکھاہواتھا[2]۔ تذکرہ وتاریخ کی کتابوں کامطالعہ کئے بغیر یہ حقیقت آفتاب سے زیادہ روشن ہے کہ اس دور میں بڑے بڑے فقہاء ہوگزرے ہیں ان سب میں ممتازفقیہ کے طور پر امام احمدرضابریلوی کانام منتخب کرنا اور وہ بھی ان کے مخالفین کی طرف سے ، ان کے فضل وکمال کی بہت بڑی دلیل ہے۔     ع  

اَلْفَضْلُ مَاشَھِدَتْ بِہِ الْاَعْدَاءُ

(فضیلت وہ ہے جس کی گواہی مخالفین بھی دیں)

امام احمدرضابریلوی میں بہت سی مجتہدانہ خصوصیات پائی جاتی ہیں اور ان کے بیان واستدلال میں واضح طور پراجتہاد کی جھلك دکھائی دیتی ہے۔ اس کے باوجود وہ تکبّراور عُجب کی زد میں نہیں آتے ، وہ یہ دعوٰی نہیں کرتے کہ میں مجتہد ہوں اور براہ راست کتاب وسنت سے استدلال کرتاہوں ، بکلکہ وہ امام اعظم ابوحنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے مقلد کی حیثیت سے فتوٰی دیتے ہیں اور مذہب حنفی کی تائید وحمایت میں ہی دلائل فراہم کرتے ہیں۔ ذراملاحظہ فرمائیں وہ اپنے فتاوٰی کی حیثیت کاتعین کس انداز میں کرتے ہیں ، فرماتے ہیں :

 “ فتوے کی دو قسمیں ہیں(۱)حقیقیہ(۲)عرفیہ ، فتوائے حقیقیہ تویہ ہے کہ تفصیلی دلیل کی معرفت کی بناپر فتوٰی دیاجائے ، ایسے حضرات کو اصحابِ فتوٰی کہاجاتاہے ، چنانچہ کہاجاتاہے فقیہ ابوجعفر اور فقیہ ابواللیث اور ان جیسے دیگرفقہاء رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰینے یہ فتاوٰی دیا ، فتوائے عرفیہ یہ ہے کہ ایك عالم امام کی تقلید کرتے ہوئے اس کے اقوال بیان کرے اور اسے تفصیلی دلیل کاعلم نہ ہو ، جیسے کہ کہاجاتاہے ابن نجیم ، غزی ، طوری کے فتاوٰی اور فتاوٰی خیریہ ، اسی طرح زمانے اور مرتبے میں مؤخرفتاوٰی کو فتاوٰی رضویہ تك گنتے چلے جائیے ، الله تعالٰی اس فتاوٰی کو باعثِ خوشنودی اور پسندیدہ بنائے۔ آمین۔ [3](ترجمہ)

 



[1]   ابوالحسن علی ندوی : نزہۃ الخواطر(نورمحمدکراچی)  ج۸ ، ص۴۱

[2]   کوثرنیازی : مشاہدات وتاثرات ، روزنامہ جنگ ، لاہور ، ۱۱ دسمبر۱۹۸۹ء

[3]   احمدرضابریلوی ، امام : فتاوٰی رضویہ(رضااکیڈمی ، بمبیئ)ج۱ ص۳۸۵

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن