دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Noriya Jild 01 Kay Manhaj-o-Usloob Ka Tajziyati Mutala | فتاوی نوریہ (جلد اول) کے منہج واسلوب کا تجزیاتی مطالعہ

mufti noor ullah baseer poori ka taruf aur seerat ka bayan

book_icon
فتاوی نوریہ (جلد اول) کے منہج واسلوب کا تجزیاتی مطالعہ
            

الباب الاول

الفصل الاول:مفتی نور اللہ بصیر پوری علیہ الرحمۃ کا شخصی تعارف الفصل الثانی: مفتی نور اللہ بصیر پوری علیہ الرحمۃ کا علمی تعارف الفصل الثالث: فتاوی نوریہ، جلد اول کا مختصر تعارف

الباب الاول

(شخصی تعارف)

فقیہ اعظم ،مولانا مفتی نور اللہ بصیر پوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام:

فقیہِ اعظم حضرت مولانا الحاج ابو الخیر محمد نور اللہ نعیمی بن حضرت مولانا الحاج ابو النور صدیق چشتی علیہ الرحمۃ بن حضرت مولانا احمد دین علیہ الرحمۃ

ولادت:

دیپالپور (ساہیوال) کے ایک مشہور قصبے سو جیکے میں 16رجب المرجب 1332ھ /22جون 1914ء کو پیدا ہوئے۔

قوم:

آپ کا تعلق ارائیں خاندان کے ایک علمی و روحانی گھرانے سے ہے۔

تعلیم:

آپ نے قرآن پاک، فارسی، صرف اور نحو کی تعلیم اپنے والد ماجد اور جد امجد سے حاصل کی۔ پھر علوم متداولہ کی تحصیل کے لیے 1345ھ میں مدرسہ عربیہ مفتاح العلوم گھمنڈ پور میں داخل ہوئے۔ جہاں چھ سال کا عرصہ محقق دوراں حضرت مولانا الحاج فتح محمد صاحب محدث بہاولنگری علیہ الرحمۃ سے اکتسابِ فیض کر کے متعدد علوم و فنون میں مہارت حاصل کی۔ 1351ھ میں مرکزی دار العلوم حزب الاحناف لاہور میں داخل ہوئے، جہاں حضرت مولانا الحاج سید ابو محمد، محمد دیدار علی شاہ محدثِ اعظم الوری رحمہ اللہ اور مفتی اعظم پاکستان ،حضرت مولانا ابو البرکات سید احمد قادری رحمہ اللہ سے علمِ حدیث کی تعلیم پائی۔ 23نومبر 1933ء /16شعبان المعظم1352ھ کو آپ نے مرکزی دار العلوم حزب الاحناف لاہور سے سندِ فراغت اور دستارِ فضیلت حاصل کی اور سید دیدار علی شاہ صاحب نے آپ کو خصوصی سندات بھی عطا فرمائیں اور ’’ابو الخیر‘‘ کی کنیت سے نوازا ،جبکہ مفتی اعظم پاکستان ،حضرت مولانا ابو البرکات سید احمد قادری علیہ الرحمۃ نے بعد میں آپ کو فقیہ اعظم کے لقب سے نوازا۔

درس و تدریس:

آپ نے اپنی عملی زندگی کا آغاز درس و تدریس سے فرمایا۔ 1352ھ سے 1356ھ تک موضع واسو سالم میں تدریسی خدمات انجام دیں، البتہ 1354ھ میں تقریباً ایک سال کے لیے مولانا محمد اکبر چشتی بصیر پوری کے مدرسہ میں بصیر پور میں مسندِ تدریس پر فائز رہے، چونکہ آپ کی خدا داد صلاحیتیں اعلیٰ تعمیری کام کی متقاضی تھیں، اس لیے آپ نے دیپالپور جیسے غیر معروف علاقے میں مدرسہ فریدیہ کے نام سے 1357ھ / 1938ء میں ایک دار العلوم کی بنیاد رکھی، جہاں علمی ذوق رکھنے والے افراد آمدورفت کی سہولتوں کے فقدان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے بھی جوق در جوق آنا شروع ہوئے ۔چنانچہ آپ کی قابلیت اور شہرت کی بناء پر روز بروز طلباء کی تعداد بڑھتی گئی۔1363ھ / 1944ء میں آپ نے اسی مقام پر بخاری شریف سے دورہ حدیث کا آغاز فرمایا۔چونکہ طلباء کی تعداد دن بدن بڑھتی جارہی تھی، اس لیے آپ نے مدرسہ کو عظیم الشان دار العلوم کی شکل میں منتقل کرنے کا ارادہ فرماتے ہوئے ساہیوال کے ایک مشہور قصبہ بصیر پور کا انتخاب کیا۔ 1364ھ / 1945ء میں دار العلوم فریدیہ، فرید پور سے بصیر پور منتقل ہوگیا اور یہاں یہ دارالعلوم ’’دار العلوم حنفیہ فریدیہ‘‘کے نام سے مشہورہوا۔ دار العلوم کی تعمیر و تاسیس سے عروج و ارتقاء کے مرحلے طے کرنے میں آپ کو بڑے صبر آزما امتحان سے گزرنا پڑا، مگر آپ نے صبر و استقامت سے ہر آزمائش کا مقابلہ کیا اور دار العلوم کو نازک ترین لمحات میں ترقی کی راہ پر ہی چلاتے ہوئے نظر آئے۔ ابتدا میں چار کچے کمرے بنائے گئے اور نماز کے لیے ایک قطعہ زمین پر چھپر ڈال کر مسجد بنائی گئی۔ بعد ازاں مختلف مراحل طے کرتا ہوا دار العلوم اس مقام پر پہنچ چکا ہے کہ آج پاکستان کے عظیم الشان مرکز کی حیثیت سے اپنا نام پیدا کر چکا ہے۔ پچاس سے زائد پختہ کمرے، متعدد بر آمدے اور درس گاہیں ،دوسری منزل پر چند کمروں کے علاوہ وسیع و عریض ہال کی صورت میں دار الحدیث آپ کی علمی کاوشوں کا مظہر ہے اور اب ایک خوبصورت جامع مسجدجس کی تعمیر کا کام 1368ھ / 1949ء سے 1377ھ / 1958ء تک مسلسل جاری رہا، اپنی دل آویز خوبصورتی میں ایک منفرد شان رکھتی ہے۔

سیاسی سرگرمیاں:

حضرت فقیہ اعظم نے باوجود تدریسی انہماک کے سیاسی طور پر اہم خدمات انجام دیں ،تحریکِ پاکستان میں اہلسنت و جماعت کے تمام مشائخ و اکابر علماء کے ہمراہ مسلم لیگ کی بھر پور حمایت کی۔اپنے پیر و مرشد حضرت صدر الافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمۃ کے مشن کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کی خاطر نمایاں کردار ادا کیا۔ یہاں تک کہ بزرگانِ دین اور علمائے اہلسنت کی مساعی جمیلہ سے دُنیا کے نقشے پر ایک نظریاتی اسلامی ملک کا قیام عمل میں آگیا۔جہادِ کشمیر میں غازی کشمیر حضرت مولانا علامہ ابو الحسنات قادری علیہ الرحمۃکا ساتھ دیا۔ تحریکِ ختم نبوت 1953ء اور 1974ء میں خصوصیت سے حصہ لیا اور قید و بند کی صعوبتوں کو خندہ پیشانی سے قبول کرتے ہوئے ساہیوال جیل میں اپنے والد ماجد حضرت مولانا ابو النور محمد صدیق اور اپنے اکابر تلامذہ حضرت مولانا ابو الضیاء محمد باقر نوری اور حضرت مولانا ابو النصر منظور احمد ہاشمی وغیرہما کے ساتھ قید ہوئے۔ آپ کو ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی، مگر تین ماہ بعد رہا کر دیے گئے۔ 1974ء میں جب سانحہ ربوہ کے باعث تحریکِ ختم نبوت کا آغاز ہوا، تو آپ نے تحفظ نا موسِ رسالت کا نعرہ بلند کرتے ہوئے تحریک میں ناقابلِ فراموش کردار کا مظاہرہ کیا۔ 7مارچ 1977ء میں ہونے والے انتخابات میں جمیعت علماپاکستان کے نمائندہ کی حیثیت سے قومی اتحاد کے ٹکٹ پر آپ نے نظامِ مصطفی کے نفاذ اور مقامِ مصطفی کے تحفظ کی خاطر انتخابات میں حصہ لیا۔ اس کے بعد تحریکِ نظامِ مصطفی میں آپ نے بھر پور حصہ لیا۔ 23مارچ 1977ء کو ایک جلوس کی قیادت کرتے ہوئے آپ نے گرفتاری پیش کی۔ آپ کو رہا کرنے کی متعدد کوششیں ہوئیں، مگر آپ نے رہا ہونے سے انکار کردیا، چنانچہ جب تک تحریک جاری رہی آپ سینٹرل جیل ساہیوال میں رہے اور جیل کے اندر بھی اپنے مشن کو جاری رکھتے ہوئے درس قرآن کریم کے علاوہ متعدد قیدی طلباء و علماء کو بخاری شریف بھی پڑھاتے رہے۔

سفر ِحج:

1960ء میں آپ نے پہلی بار حج و زیارت کی سعادتِ عظمیٰ حاصل کی اور پھر بارگاہِ رسالت سے ایسا کوئی کرم ہوا کہ بار بار حج و زیارت کی نعمت سے سرفراز ہوتے رہے۔ آٹھ مرتبہ حج و زیارت اور دو مرتبہ عمرہ شریف اور مدینہ طیبہ حاضری کی سعادت حاصل کرچکے ہیں۔ اس طرح آپ دس مرتبہ حرمین شریفین (زادہما اللہ شرفا) حاضر ہو چکے ہیں۔ دورہ حدیث کے دوران آپ نے اکثر گنبد خضراء کے سائے میں احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پڑھانے کی آرزو کا اظہار کیا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس آرزو کو پورا فرمایا۔ دو تین مرتبہ آپ روضہ پاک کے سامنے درسِ قرآن دینے اور بخاری شریف پڑھانے کی نعمت حاصل کر چکے ہیں۔

بیعت طریقت:

آپ کوصدر الافاضل حضرت علامہ مولانا نعیم الدین مراد آبادی رحمہ اللہ سے بیعت کا شرف حاصل ہوا اور مرشد نے عین آپ کی خواہش کے مطابق درس و تدریس اور خدمتِ قرآن و حدیث کا وظیفہ دیا۔

آپ کی تصانیف :

درس و تدریس، وعظ و تبلیغ اور سیاسی مصروفیات کے باوجود آپ نے میدانِ تحریر میں معتد بہ حصہ لیا، چنانچہ آپ کی تصانیف مندرجہ ذیل ہیں: 1۔ فتاویٰ نوریہ 2۔ مکبّر الصوت 3۔ حدیث الحبیب 4۔ فئی الزوال (عربی) 5۔ نعمائے بخشش (نعتیہ دیوان) 6۔ نور القوانین (مجموعہ قواعد منظوم بزبان پنجابی) 7۔ حُرمتِ زاغ 8۔ مسئلہ سایہ 9۔ روزہ اور ٹیکہ 10۔ابداء بشری بقبول الصلوۃ فی الضحوۃ الکبری 11۔ نورِ نعیمی (یہ تمام مطبوعہ ہیں) غیر مطبوعہ میں ایک نعتیہ دیوان عربی، فارسی، پنجابی اور اُردو پر مشتمل ہے ،اس کے علاوہ بخاری شریف اور مسلم شریف پر حواشی لکھے۔

اولاد:

فقیہِ اعظم حضرت مولانا محمد نور اللہ نعیمی کی چار صاحبزادیاں اور تین صاحبزادے ہیں۔ صاحبزادوں کے اسماء گرامی یہ ہیں۔ (1)حضرت مولانا الحاج ابو الفضل محمد نصر اللہ نوری۔ (2) مولانا الحاج ابو العطاء محمد ظہور اللہ نوری۔ (3) حضرت مولانا الحاج محمد محب اللہ۔

تلامذہ:

آپ کے تلامذہ کا حلقہ کافی وسیع ہے، تاہم چند مشہور تلامذہ یہ ہیں: (1) مولانا محمد باقر نوری، مدرس جامعہ حنفیہ فریدیہ بصیر پور (2) مولانا صاحبزادہ محمد نصر اللہ (3) مولانا عبد العزیز، مہتمم دار العلوم غوثیہ، حویلی لکھاں، ساہیوال (4) مولانا محمد شریف نوری علیہ الرحمۃ (5) مولانا احمد علی قصوری، جمعیت علماء پاکستان (6) مولانا ابو النصر منظور احمد شاہ، مہتمم جامعہ فریدیہ ساہیوال (7) مولانا شبیر احمد ہاشمی، بورے والا (8) مولانا علی محمد نوری، وہاڑی (9)مولانا محمد منشا تابش قصوری، ناظم شعبۂ تصنیف و تالیف جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور الفصل الثانی (علمی تعارف)

مفتی نور اللہ بصیر پوری کا علمی تعارف

مفتی نور اللہ بصیر پوری علیہ الرحمۃ کی بلند پایہ ،قابل قدر اور ہمہ جہت شخصیت کسی تعارف وتبصرے کی محتاج نہیں ،آپ کی ذات بلا شبہہ برہان الٰہی ہے ،وہبی علوم وفنون کا ایک ایسا بحر زخار ہے ، جس کی گہرائی ،وسعت اور گِیرائی کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا ،حکمت ودانائی کا ایک بیش بہا خزانہ ہے ، جس کی قیمت نہیں لگائی جا سکتی ،علم ومشاہدہ، فقہ وتدبر کا ایسا عمیق سمندر ہے ،جس میں غوطہ لگانے والا مزید کا نعرہ بلند کرتا دکھائی دیتا ہے اور ایسے نادر ونایاب موتی لے کر نکلتا ہے،جس سے آنکھیں خیرہ ہوتیں ،قلوب اذہان کو روشنی ملتی ،اہل اسلام کے ایمان وایقان کو جِلا ملتی اور عقائدو اعمال کی تزئین کاری ہوتی ہے۔اللہ عز وجل نے آپ کو حرارت ایمانی ،استقامت علی الدین ،تصلب فی الدین اور عشق رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ایسا وافر وبیش بہا خزانہ عطا فرمایا ،بلا شبہہ جو تائید ربانی اور خالص عطائے الٰہی کا مظہر اتم ہے ۔ مفتی نور اللہ بصیر پوری علیہ الرحمۃ بلا شبہہ اپنے دور میں پوری دنیا کے لیے مرجع فتاویٰ تھے ۔ آپ کے دارالافتاء میں پاکستان ، انڈیا ، بنگلہ دیش اور دیگر کئی ممالک سے استفتا ءآتے تھے اور ایک وقت میں کئی کئی فتاوی جمع ہو جاتے تھے اور سب کے جواب اسی شرح وبسط کے ساتھ عالمانہ شان سے دیے جاتے ۔آپ کے فتاوی میں امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تقلید سے انحراف نہ ہوتا ،بلکہ فقہِ حنفی پر شدت سے کار بند رہتے ۔ آپ کے فتاویٰ سے عوام وخواص ،علما وصلحا اور مفتیا ن دین متین وقاضیان عدالت سبھی مستفید ہوتے تھے ،آپ کی اس شان فقاہت اور تبحر علمی سے متاثر ہو کر ہی علمائے اسلام نے آپ کی تحقیقات پر اعتماد فرمایا اور آپ کو فقیہ اعظم کا لقب عطا فرمایا۔

جدید مسائل پر تحقیقات :

آپ علیہ الرحمۃ نے اپنے دور کے جدید مسائل پر جو کام کیا ہے ،وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ، مجتہدانہ انداز فکر کے حامل درویش صفت انسان فقیہ اعظم مفتی نور اللہ بصیر پوری علیہ الرحمۃ وہ عظیم انسان تھے، جنہوں نے آج سے 50سال پہلے امام ابو حنیفہ کا جانشین ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے، انتقال و عطیہ خون، اعضاء کی پیوندکاری، ٹیسٹ ٹیوب بے بی، بچیوں کی تعلیم ، تصویر کا بنانا، روزہ میں انجيکشن ، لاؤڈ اسپیکر کا استعمال، انگریزی اور ہومیوپیتھی میڈیسن کا استعمال، ریل گاڑی اور ہوائی جہاز میں نماز، رویت ہلال کمیٹی کا چاند دیکھنا، بلغاریہ اور ڈنمارک میں نمازیں، قطب شمالی اور قطب جنوبی سے متعلق عبادات کےلیے شرعی حل بتایا ۔جب جدید مسائل پربات کرنے سے علماء ضعف و عجز محسوس کرتے، تو فقیہ اعظم اپنی’’اجتہادی علمیت‘‘ کے ساتھ پوری قوت و جرأت سے جواب دیتے۔ جدید مسائل پر کام ہمیشہ ہوتا رہے گا اور اس کے اہل افراد کی قابلیت کیا ہو گی ؟ اس بارے میں اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن ارشاد فرماتے ہیں:” اے عزیز! اس زمانہ فتن میں لوگوں کو احکامِ شرع پر سخت جرأت ہے ،خصوصاً ان مسائل میں جنہیں حوادثِ جدیدہ سے تعلق و نسبت ہے ،جیسے تار برقی وغیرہ، سمجھتے ہیں کہ کتبِ ائمہِ دین میں ان کا حکم نہ ملے گا ،جو مخالفت شرع کا ہم پر الزام چلے گا ،مگر نہ جانا کہ علمائے دین شکر اللہ تعالی مساعیھم الجمیلۃ (اللہ تعالی ان کی مساعیِ جمیلہ کو قبول فرمائے۔) نے کوئی حرف ان عزیزوں کے اجتہاد کو اٹھانہیں رکھا ہے ، تصریحاً،تلویحاً، تفریعاً، تاصیلاً سب کچھ فرمادیا ہے ،زیادہ علم اسے ہے ،جسے زیادہ فہم ہے اور ان شاء اللہ العزیز زمانہ بندگانِ خدا سے خالی نہ ہوگا ،جو مشکل کی تسہیل ،معضل کی تحصیل، صعب کی تذلیل، مجمل کی تفصیل سے ماہر ہوں۔ بحر سے صدف ،صدف سے گوہر، بذر سے درخت، درخت سے ثمر نکالنے پر باذن اللہ تعالی قادر ہوں۔لاخلاالکون عن افضالھم وکثر ﷲفی بلادنا من امثالھم ، آمین ، آمین برحمتک یا ارحم الراحمین ۔زمانہ ان فضلاء سے خالی نہیں اور اﷲتعالیٰ ایسے لوگوں کو ہمارے علاقوں میں زیادہ کرے آمین آمین برحمتک یا ارحم الراحمین۔“(1) اس عبارت میں اعلی حضرت علیہ الرحمۃ نے جدید مسائل پر کام کرنے والے افراد کے بارے میں جو ارشاد فرمایا ہے کہ ’’زمانہ ایسے افراد سے خالی نہ ہو گا جو مشکل کی تسہیل ،معضل کی تحصیل، صعب کی تذلیل، مجمل کی تفصیل کرنے کے ماہر ہوں گے اور بحر سے صدف ،صدف سے گوہر، بذر سے درخت، درخت سے ثمر نکالنے پر باذن اللہ تعالی قادر ہوں‘‘یہ عبارت سامنے رکھ کر اگر مفتی نور اللہ بصیر پوری علیہ الرحمۃ کی شخصیت اور ان کے کاموں کو دیکھا جائے، تو ایسا لگتا ہے کہ شاید امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کی یہ عبارت فقیہ اعظم کے زمانے میں انہی پر صادق آتی تھی، کیونکہ آپ کے فتاوی میں ان تمام چیزوں کا لحاظ رکھا جاتا ہے اور جب کسی نئے مسئلے پر تحقیق کرتے ہیں ،تو اس میں ان تمام چیزوں کی جھلک نظر آتی ہے ، جس سے امام اہلسنت علیہ الرحمۃ کی یہ عبارت آپ کی ذات پر منطبق کی جا سکے۔ ایک مفتی کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ جدید مسائل کا حل تلاش کرے اور اس میں مخلص ہو، تحقیق ِمسائل میں نفسانیت سے بالاتر ہو کر حق کی جستجو میں لگا رہے ،صاحب فتاوی نوریہ اس پہلو میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں ،چنانچہ خود ایک جگہ علماء کو دعوت فکر و عمل دیتے ہوئے اور انہیں جدید مسائل پر کلام کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:”کیا تازہ حوادثات و نوازل کے متعلق احکام شرعی موجود نہیں کہ ہم بالکل صم بکم بن جائیں اور عملا اغیار کے ان کافرانہ مزعومات کی تصدیق کریں کہ معاذ اللہ اسلام فرسودہ مذہب ہے ، اس میں روزمرہ ضروریات زندگی کے جدید ترین ہزارہا تقاضوں کا کوئی حل نہیں ،ولا حولا ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔ یہ حقیقت بھی اظہر من الشمس ہے کہ کسی ناجائز اور غلط چیز کو اپنے مفاد و منشا سے جائز و مباح کہنا ہرگز ہرگز جائز نہیں ،مگر شرعی اجازت ہو ،تو عدم جواز کی رٹ لگانا بھی جائز نہیں ۔ غرض یہ کہ ضد اور نفس پرستی سے بچنا نہایت ضروری ہے، کیا ہی اچھا ہو کہ ہمارے ذمہ دار علمائے کرام اہل اللہ کے لیے نفسانیت سے بلند و بالا ہو کرسر جوڑ کر بیٹھیں اور ایسے جزئیات کے فیصلے کریں۔ مگر بظاہر یہ توقع تمنا کے حدود طے نہیں کر سکتی اور یہی انتشار آزاد خیالی کا باعث بن رہا ہے۔فانا للہ و انا الیہ رٰجعون ۔‘‘ (2)

علمی طرزِ عمل:

مفتی صاحب کا طرز عمل جمود علی الجزئیات اور اخذ بالاقوال الصوریۃ نہیں تھا ، بلکہ حالات وزمانہ کے تقاضوں اور امت کی معروضی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے پوری علمی دیانت،اعتدال ، اور فقہی توسع کے ساتھ قول ضروری کی صورت میں امت کے لیے سہولتیں پیدا کرنے اور اصول کے دائرے میں رہتے ہوئے حالات کی ضروریات کو ایڈجسٹ کرنے کا رہا ہے اور یہی روایت ہم سب کے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔

فتوی نویسی کا انداز:

بلا شبہ حضرت فقیہ اعظم فتوی نویسی میں غیر معمولی مہارت رکھتے تھے اور آپ کی ذات مرجع خلائق تھی ،ملک اور بیرون ملک کے لوگ شرعی مسائل کے حل کےلیے آپ کی طرف رجوع کرتے ۔فقہ میں آپ کو ایک اعلیٰ مقام حاصل تھا ۔ ایک فقیہ اور مفتی کےلیے جن خصوصیات کا ہونا ضروری ہے، وہ تمام آپ میں بدرجہ اتم پائی جاتی تھیں۔ عام طور پر مفتی کے لیے چار چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ (1)علمی وسعت (2)ایمانی فراست (3)دیانت (4)تزکیہ نفس ۔ یعنی طہارتِ ظاہر و باطن ۔ یہ چار چیزیں اگر مفتی میں ہیں ،تو وہ صحیح معنوں میں رہنمائی کرسکتا ہے ،حضرت فقیہ اعظم میں یہ چاروں بتمام و کمال پائی جاتی ہیں ۔ کثرتِ مراجعت: فتاوی نوریہ کی چھ ضخیم جلدوں کے مطالعہ سے آپ کے تبحر علمی ، وسعت نظر، قوت استدلال ، صلابت رائے اور فقہی بصیرت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ اکثر و بیشتر فتاوی اعلیٰ ترین تحقیقی مقالات کے معیار پر پورے اترتے ہیں ، جن میں سے بیسیوں مآخذ سے رجوع کیا گیا ہے ، ایک استفتاء کے جواب میں ضمنا آپ نے خود تحریر فرمایا ”بفضلہ تعالیٰ مجھے التزام ہے کہ جب کوئی مسئلہ پیش آئے ،تو متعدد معتمدات مذہب ضرور دیکھ لیا کرتا ہوں۔‘‘(3)

فتویٰ میں احتیاط:

ایک عالم اور فقیہ پر یہ بھی لازم ہے کہ وہ بلا تحقیق جواب نہ دے اور اگر کسی مسئلے میں تحقیق نہ ہو، تو اس کی وضاحت کرنے اور اصل صورت حال کے برملا اظہار میں اپنی توہین محسوس نہ کرے ، جیسا کہ امام دارالہجرہ حضرت مالک بن انس رضی اللہ عنہ سے ایک بار 40 سوال دریافت کیے گئے ،مگر آپ نےباوصف اپنی جلالت علمی صرف چار کا جواب دیا اور چھتیس سوالات کے بارے میں فرمایا :’’لا ادری ‘‘ان کا جواب میری سمجھ میں نہیں آتا ۔ حضرت فقیہ اعظم کی خدمت میں بھی ان سے مولانا عبدالعزیز صاحب مہتمم مدرسہ احیاءالعلوم بورے والا نے تین سوالات کے جوابات طلب کیے ،پہلے دو سوالوں کے جواب دیے ، مگر تیسرا سوال نماز میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کے بارے میں تھا ،تو جواب سے انکار کرتے ہوئے حضرت نے فرمایا واللہ تعالیٰ اعلم ۔بعد میں جب تحقیق کامل ہوئی ،تو اس مسئلہ پر ایک مستقل کتاب تحریر فرمادی۔

مرجعِ علماء:

فقیہ اعظم سے عام لوگوں کے علاوہ خواص جن میں مولانا عبدالغفور ہزاروی، جسٹس شجاعت علی قادری، صاحبزادہ فیض الحسن، مولانا غلام علی اوکاڑوی، مفتی غلام سرور قادری اور دیگر نے سوال لکھ کر فتاویٰ لیے، جبکہ 1976میں حج کے موقع پرعرفات میں مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری اور پیرسید حسین الدین نے آپ کے فتویٰ کی روشنی میں ظہر و عصر کی نمازیں جمع کر کے پڑھیں۔ اکثر شاگردوں کو فرماتے: ’’آپ نے دین کے لیے کیا کیا ہے؟‘‘ طلباء کی دستار بندی کے موقع پر فرماتے:’’ معاشرے میں مشکلات نہیں آسانیاں پیدا کرنا‘‘ شرعی سزاؤں کے نفاذ میں حکومت کی رہنمائی ضرور کرتے ، لیکن ’’سزا دینا‘‘ ذاتی نہیں، بلکہ اسلامی حکومت کا فریضہ قرار دیتے تھے۔ فرماتے :’’بے علم صوفی شیطان کا مسخرہ ہوتا ہے۔‘‘

علمی خزانہ:

فقاہت و ذہانت کے اعلیٰ مقام پر فائز اس ہستی نے1944 میں دورہ حدیث کی کلاس شروع کی، تو علم کی پیاس بجھانے والوں میں ان کے بنیادی استاذ اور والد گرامی مولانا محمد صدیق بھی کلاس میں تشریف فرما ہوتے۔ فقیہ اعظم اپنے فتاوی میں اکثر جدید مسائل کو اپنے علم سے حل کر دیتے، اس کی دلیل فتاویٰ نوریہ کی 6جلدیں ہیں۔ فتویٰ جاری کرتے وقت قرآن، سنت، حدیث کے علاوہ بعض اوقات حاجت کی صورت میں دیگر مذاہب کی الہامی کتب کا ضرور مطالعہ کرتے۔ فتاویٰ نوریہ میں 926فتاویٰ جات ہیں، جن میں 3600صفحات، ایک صفحہ میں 20لائنیں، فی لائن24الفاظ، ایک صفحہ میں تقریباً 480الفاظ، یوں تقریباً1728000(سترہ لاکھ اٹھائیس ہزار) الفاظ کا مجموعہ ہے، فتاویٰ میں 655عوام الناس، 271علماء ودانش ور طبقہ کو جوابات دیے ہیں یعنی ایک تہائی حصہ فتاویٰ نوریہ علماء کی رہنمائی کرتا ہے ،جس میں سینکڑوں آیات احادیث حوالہ جات کے ساتھ موجود ہیں۔ صحیح بخاری، صحیح مسلم اور دیگر کتب پر حواشی کے چھ سو سے زائدصفحات اور تین لاکھ سے زائد الفاظ اور دیگر 28کتابیں ہیں۔ آپ کی علمیت پر علمائے کرام کے تاثرات: (1)جسٹس مفتی سید شجاعت علی قادری ، جج وفاقی شرعی عدالت آپ کی اجتہادی بصیرت کا یوں تذکرہ کرتے ہیں: ”حضرت کا علم و حلم ، ورع و تقوی ، فقاہت و اجتہاد مسلمہ امور ہیں ، لیکن جس امر نے مجھے فکری اعتبار سے ہمیشہ ان کے قریب رکھا ہے ،وہ حالات حاضرہ کے جدید تقاضوں کا گہرا شعور اور مسائل عصریہ کا مجتہدانہ حل پیش کرنے کی اعلیٰ ترین صلاحیت کا ان میں موجود ہونا ہے۔ایک مرتبہ پچیس سے زائد مسائل پر مشتمل ایک سوالنامہ فقیر نے پاکستان کے اکابر علماء کی خدمت میں ارسال کیا ، جس میں انتقال خون، اعضاء کی پیوند کاری ،ٹیسٹ ٹیوب بے بی وغیرہ جدید مسائل کے بارے میں رائے طلب کی گئی، حضرت مفتی صاحب ان چند بزرگوں میں سے تھے ، جنہوں نے جواب کی زحمت برداشت کی، بلکہ صحیح یہ ہے کہ پوری دلچسپی سے معقول و مدلل جوابات صرف آپ ہی کے تھے۔“(4) (2)شیخ القرآن ،حضرت علامہ ابو الفضل و البیان مولانا غلام علی اشرفی اوکاڑوی علیہ الرحمۃ نے حضرت کی جلالت علمی کا یوں تذکرہ کیا ہے۔ ”لوگ فقیہ اعظم کہتے ہیں ، لیکن میں یہ کہنے میں کوئی باک نہیں سمجھتا کہ اگر دیگراں فقہاء اند او افقہ الفقہاء بود ،فتوی کے اندر اگر میں یہ کہوں کہ وہ اصحاب ترجیح سے تھے ،تو مبالغہ نہیں ہو گا، ان کے فتوؤں کے اندر اجتہادی شان ہے ، مجتہدانہ بصیرت ان کو حاصل تھی ، ویسے تو لابد للمفتی ان یکون مجتہدا ،ہر مفتی کےلیے مجتہد ہونا ضروری ہے ، لیکن حضرت فقیہ اعظم کے فتاوی کی اپنی شان ہے ، ان کی بعض تحقیقات سے کسی کو اختلاف ہو ، تو الگ بات ہے ، لیکن ان کی فقاہت اور ثقاہت کے بارے میں کوئی شک و شبہ نہیں ۔“(5) (3) شیخ القرآن ،علامہ عبد الغفور ہزاروی نے آپ کو ’’آیت من آیات اللہ ‘‘کہا ۔ (4)صاحبزادہ سید فیض الحسن شاہ نے آپ کو دور حاضر کا امام ابو حنیفہ قرار دیا۔(6)
(1)(فتاوی رضویہ، جلد 10 ، صفحہ 366 تا 367 ، رضا فاؤنڈیشن، لاھور) (2)(فتاوی نوریہ، جلد3، صفحہ470، دار العلوم حنفیہ فریدیہ، اوکاڑہ) (3)(فتاوی نوریہ، جلد1، صفحہ691، دار العلوم حنفیہ فریدیہ، اوکاڑہ) (4)(فتاوی نوریہ، جلد1، صفحہ81، دار العلوم حنفیہ فریدیہ، اوکاڑہ) (5)(فتاوی نوریہ، جلد1، صفحہ82، دار العلوم حنفیہ فریدیہ، اوکاڑہ) (6)(فتاوی نوریہ، جلد1، صفحہ82، دار العلوم حنفیہ فریدیہ، اوکاڑہ)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن