30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چیز نہیں پاتے تو حسرت سے واپس لوٹ جاتے ہیں۔ ( فتاوی رضویہ ، 14 / 694- الدر رالحسان فی البعث و نعیم الجنان ، ص 33)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
نواسَۂ رسول کا شبِ براءت میں معمول
جنّتی ابنِ جنّتی ، نواسۂ رسول حضرتِ امام حسن مجتبیٰ رَضِیَ اللہُ عَنْہ شبِ براءَتکے تین حصے فرماتے۔ ایک تہائی حصے میں اللہ پاک کےاس فرمان “ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۵۶) ( ترجمۂ کنز الایمان : اے ایمان والو! ان پر دُرود اور خوب سلام بھیجو۔ ) “ پرعمل کرتےہوئےاپنے نانا جان صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرودِ پاک پڑھتے ، ایک تہائی حصے میں توبہ و استغفار کرتےاورآخری تہائی حصے میں اللہ پاک کے فرمان پرعمل کرتے ہوئے رُکوع و سجودفرماتے۔ آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے ارشاد فرمایا : میں نے اپنے ابوجان (حضرتِ علیُّ المرتضیٰ رَضِیَ اللہُ عَنْہ ) سے سنا ہےکہ نبیِ کریم صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : جو نصف شعبان(یعنی شبِ براءَت) کی رات کو زندہ کرے گا (یعنی اُس رات عبادت کرے گا) وہ مُقَرَّبِیْن میں لکھا جائے گا۔ )القول البدیع ، ص396(
شبِ براءت میں عبادت کرنا مستحب ہے
حضرت ِ خالد بن معدان ، حضرتِ لقمان بن عامر اور دیگر بزرگانِ دین رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہم شعبانُ المعظم کی پندرہویںرات(یعنی شبِ براءَت)کواچھا لباس پہنتے ، خوشبو سُلگاتے ، سُرمہ لگاتے اور رات مسجد میں جمع ہو کرعبادت کیا کرتےتھے۔ حضرتِ اسحاق بن رَاہُوَیْہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ بھی اسی بات کی تائید کرتےاور اِس رات مسجدوں میں اِکٹھےہوکر نفلی عبادت کرنے کے بارے میں فرماتے ہیں : “ یہ کوئی بدعت(یعنی بُراکام)نہیں ہے ۔ “ ( ماذا فی شعبان ، ص75)حضرتِ علّامہ شہاب الدین احمدبن حجازی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتےہیں : شبِ براءت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع