30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رات جنتُ البقیع میں اس حال میں پایا کہ آپ صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم مسلمان مَردوں ، عورتوں اور شہیدوں کے لئے دعائے مغفرت فرما رہے تھے۔
(شعب الایمان ، 3 / 384 ، حدیث : 3837 ماخوذا )
صد شکر خدایا تو نے دیا ، ہے رحمت والا وہ آقا
جو امت کے رنج و غم میں ، راتوں کو اشک بہاتا رہے
(وسائلِ بخشش ، ص475)
پیارےاِسلامی بھائیو! ہمیں چاہئےکہ رحمت و مغفرت والی اس مُبارک رات کو عبادت کرتے ہوئے ذکر و دُعا میں گزاریں ، اپنی اورساری اُمت کی مغفرت کی دُعا کے ساتھ ساتھ قبرستان جاکر اپنے مرحومین کے لئے بھی دُعائے مغفرت کریں۔
شبِ براءت میں قبرستان جانا
اللہ پاک کےآخری رسول صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نےارشاد فرمایا : میں نےتمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا اب زیارتِ قبور کیا کرو کہ بے شک یہ دُنیا سے بے رغبت کرتی ہے اور آخرت کی یاد دلاتی ہے۔
(ابن ماجہ ، ، 2 / 252 ، حدیث : 1571 )
معلوم ہوا کہ وقتاً فوقتاً قبرستان جاتے رہنا چاہئےتاکہ قبروں کو دیکھ کر ہمارے دل میں فکرِ آخرت پیدا ہو۔
اپنے مرحومین کو بھی یاد رکھئے
جنّتی ابن جنّتی ، صحابی ابنِ صحابی حضرت٘ عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا سےمروی ہے کہ جب شبِ براءت آتی ہے تو(مومن) مُردے اپنی قبروں سے نکل کر اپنے گھروں کے دروازوں پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور کہتے ہیں : ہم پر صدقہ کرکے رحم کرو اگرچہ روٹی کا ایک لقمہ ہی ہو ، کیونکہ ہم اِس کےضرورت مندہیں۔ اگر وہ (صدقہ کی ہوئی) کوئی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع