30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دُعا قبول کرلى جائے؟ پھر رحمتِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرماىا : اے جبرىل! رحمت کے یہ دروازے کب تک کُھلے رہتے ہىں؟عرض کى : رات کى ابتداء سے طُلُوعِ فجر تک۔ پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرماىا : اِس رات بکرىوں کےبالوں سےبھى زىادہ لوگوں کى مغفرت کى جاتى ہے ، اسی رات لوگوں کے سال بھر کے اعمال (آسمانوں کی جانب) بلند کئے جاتے ہىں اور اسی رات رِزق تقسىم کئےجاتے ہىں۔ ( تاريخ ابن عساکر ، 51 / 72- 73)
رَحمت کا ہے دروازہ کُھلا مانگ اَرے مانگ دیتاہے کرم اُن کا صدا مانگ اَرے مانگ
بھر جائے گا کشکول مرادوں سے ترا بھی بن کر میرے آقا کا گدا مانگ ارے مانگ
سرکار سے سرکار کو مانگوں گا نیازی سرکار نے جس وقت کہا مانگ ارے مانگ
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
فرشتوں کی عید
حضرت سیِّدُناامام ابوحامد محمدبن محمدبن محمدغزالی رَحْمۃُ اللہِ علیہ لکھتے ہیں : کہا گیا ہے کہ آسمان کے فرشتوں کے لئے دو راتیں عید اور خوشی کی ہیں جیسے دنیا میں مسلمانوں کے لئےدو عید کے دن ہیں ، (1)پندرہ شعبان کی رات اور(2) لیلۃُ القدر۔
سال بھر کے گناہوں کا کفارہ
حضرتِ امام تقی الدین سبکی شافعی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ اپنی تفسیر میں فرماتےہیں : یہ رات سال بھر کے گناہوں کا کفّارہ بنتی ہے ، شبِ جمعہ پورے ہفتے کے گناہوں کا کفارہ اور لیلۃُ القدرعمر بھر کے گناہوں کا کفارہ ہوتی ہےیعنی ان راتوں میں اللہ پاک کی عبادت کرنا اور یادِ الٰہی میں ساری رات جاگ کر گزاردینا گناہوں کےکفارہ کا سبب ہوتا ہے اسی لئے ان راتوں کو کفّارے کی رات بھی کہا جاتا ہے۔ ( مکاشفۃ القلوب ، ص303)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع