30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
.....سننے والوں کے رُونگٹے کھڑے ہو جاتے
حضرت مفتی احمد یار خان رَحْمَۃُ اللہِ علیہ اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : یہ حدیث اُن تمام اَحادیث کی شرح ہے جس میں اچھی آواز ، اچھی تلاوت کا حُکم دیا گیا یعنی دَرْدِ دِل والی اَدَا اور خوف ِخدا والی قرائَ تْ اچھی ہے ،نفس آواز(یعنی پڑھنے والے کی اصل آواز) باریک ہو یا موٹی۔ بعض بُزُرْگوں کو دیکھا گیا کہ اُن کی آواز موٹی تھی مگر اُن کی تِلاوَت سے خود اُن کے اور سننے والوں کے رُوْنگٹے کھڑے ہوجاتے تھے ،دِل کانپ جاتے تھے، اللہ پاک ایسی تلاوَ ت نصیب کرے۔ آمین۔(مراٰ ۃ المناجیح ج ۳ص ۲۷۴)
تلاوت قراٰن کرنا یقینا بہت بڑی سعادت ہے ،قراٰنِ کریم کا ایک حرف پڑھنے پر 10نیکیوں کا ثواب ملتا ہے، چنانچِہ فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: ’’جو شخص کتابُ اللّٰہ کا ایک حَرف پڑھے گا، اُس کو ایک نیکی ملے گی جو دس کے برابر ہوگی۔ میں یہ نہیں کہتا الٓمّٓ ایک حَرف ہے، بلکہ اَلِف ایک حَرف، لام ایک حَرف اور میم ایک حَرف ہے۔‘‘(ترمذی ج ۴ص ۴۱۷حدیث ۲۹۱۹)
ہر حرف کے بدلے 100نیکیاں
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جو نماز میں کھڑے ہو کر قراٰن کی تلاوت کرے اس کے لئے ہر حرف کے بدلے 100 نیکیاں ہیں اور جو نماز میں بیٹھ کر تلاوت کرے اس کے لئے ہر حرف کے بدلے 50نیکیاں ہیں اور جو نماز کے علاوہ باوضو تلاوت کرے اس کے لئے 25 نیکیاں ہیں اور جو بغیر وضو تلاوت کرے اس کے لئے10 نیکیاں ہیں اور رات کا قیام افضل ہے کیونکہ اس وقت دل زیادہ فارغ ہوتا ہے۔ (احیاء العلوم ج ۱ص ۳۶۶) (احیاء العلوم (اردو ) ج ۱ص ۸۳۱)
بعض اسلامی بھائی نہایت تیز رفتاری سے قراٰنِ کریم پڑھتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ تِلاوت کی سعادت حاصِل کر لیں مگر دورانِ تِلاوت قواعد تجوید کی رعایت نہیں کرتے اور غلط سَلَط پڑھ جاتے ہیں ، حالانکہقراٰنِ کریم کے حُرُوف کی دُرُست ادائیگی اور غَلَط پڑھنے سے بچنا فرضِ عین ہے،چنانچہ اعلیٰ حضرت، امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں : ’’بِلاشُبہ اتنی تجوید جس سیتَصحِیحِ (تَص۔حِی ۔ حِ ) حُروف ہو(یعنی حُرُوف دُرُست ادا ہوں )، اورغَلَط خوانی(یعنی غلط پڑھنے) سے بچے، فرضِ عَین ہے۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ مُخَرَّجَہ ج۶ ص۳۴۳ )
قراٰنِ پاک ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا چاہیے
پارہ 29 سُوْرَۃُ الْمُزَّمِّل کی چو تھی آیت میں اِرشا د ِرباّنی ہے:
وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًاؕ(۴)
ترجَمۂ کنزالایمان : اور قراٰن خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔
میرے آقا اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ علیہ ’’ ترتیل ‘‘ کی وضاحت کرتے ہوئے نقل کرتے ہیں : ’’قراٰنِ مجید اِس طرح آہستہ اور ٹھہر کر پڑھو کہ سننے والا اِس کی آیات و الفاظ گن سکے۔‘‘ (فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج ۶ص۶ ۲۷)نیزفرض نماز میں اس طرح تلاوت کرے کہ جدا جدا ہر حرف سمجھ آئے، تراویح میں مُتَوَسِّط (یعنی درمیانے )طریقے پر اور رات کے نوافل میں اتنی تیز پڑھ سکتا ہے جسے وہ سمجھ سکے۔ (دُرِّ مُختَار ج ۲ ص ۳۲۰) ’’مَدارِک ‘‘ میں ہے: ’’ اطمینان کے ساتھ، حروف جدا جدا، وقف (یعنی ٹھہرنے وغیرہ کی علامات) کی حفاظت اور تمام حرکات (یعنی زیر، زبر وغیرہ) کی ادائیگی کا خاص خیال رکھنا ہے۔’’ تَرْتِیْلًا ‘‘ (یعنی خوب ٹھہر ٹھہر کر) اس مسئلے میں تاکید پیدا کر رہا ہے کہ یہ بات تلاوت کرنے والے کے لئے نہایت ہی ضروری ہے۔‘‘(مدارکُ التّنزیل ص ۱۲۹۲، فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج ۶ ص ۲۷۸ ، ۲۷۹) ( ترتیل کے اَحکام جاننے کیلئے فتاوٰی رضویہ جلد6 صفحہ 275تا282 کا مطالعہ فرمائیے)
عوام درمیانہ درجے کی جلد والی تلاوت کریں
فتاوٰی رضویہ جلد7 صفحہ478تا479 پر آہستہ اور درمیانی رفتار سے پڑھنے کے حوالے سے بہت خو ب صورت کلام کیا گیا ہے یہاں اس کا خلاصہ آسان لفظوں میں عرض کرنے کی کوشش کی جاتی ہے: جو لوگ قراٰنِ کریم پڑھنے میں غور فکر کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اُن کیلئے تلاوت کرنے میں درمیانہ دَرَجے کی جلدی ہی افضل ہونا چاہئے کہ جس قَدَر جلدی پڑھیں گے اُسی قدر تلاوت زیادہ ہو گی اور قراٰنِ کریم کے ہر حرف پر 10نیکیاں ہیں ، 100 کی جگہ 500حروف پڑھیں گے تو ہزار کی جگہ پانچ ہزار نیکیاں ملیں گی۔ اور ہر ثواب سمجھنے ہی پر منحصر نہیں ۔حکایت: حضرتِ سیِّدُنا امام احمد حنبل رَحْمَۃُ اللہِ علیہ نے اللہ پاک کی خواب میں زیارت کی تو عرض کی:اے میرے رب! کیا چیز تیرے بندوں کو تیرے عذاب سے چھڑانے والی ہے ؟ فرمایا: میری کتاب (یعنی قرانِ کریم)۔ عرض کی: اسے سمجھ کرپڑھنا یا بغیر سمجھے؟ فرمایا: (دونوں طرح یعنی) سمجھ کر (پڑھنا ) اور بغیر سمجھے (پڑھنا)۔ (تفصیل کیلئے دیکھئے: فتاوٰی رضویہ جلد7 صفحہ478،479)
تلاوت کی توفیق دیدے الٰہی
گناہوں کی ہو دور دل سے سیاہی
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب صلَّی اللہُ علٰی محمَّد
نماز کے ضَروری مسائل جاننا ضَروری ہے
نماز کے ضروری مَسائل جاننا ضروری ہے کیونکہ جو نماز کے فرائض، واجبات، سنتیں اور نماز کو فاسد کرنے(یعنی توڑنے) والی چیزوں وغیرہ کا علم رکھتا ہے وہ اچھی طرح نماز پڑھ سکتا ہے جبکہ جو نماز کے ضروری مسائل سے ناواقِف ہے وہ درست نماز کیوں کر ادا کر سکے گا! یاد رہے ! جس پر نماز فرض ہے اُس پر نماز کے ضروری مسائل جاننا بھی فرض ہے۔
دولھے کی نماز(حکایت)
اے عاشقانِ رسول! انتہائی نازک دور آ گیا ہے، ہمارے یہاں ایسے مسلمانوں کی بھی ایک تعداد مل سکتی ہے جن کو نماز پڑھنا بالکل بھی نہیں آتا، جیسا کہ دعوتِ اسلامی کے ایک مدنی اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ میں کراچی کی ایک مسجد میں امام ہوں ۔ایک رات عشا کی نماز کے بعد مدرسۃ المدینہ ( برائے بالغان) کے سلسلے میں ہم کچھ اسلامی بھائی مسجد میں موجود تھے کہ ایک دولھا اپنے چنددوستوں سمیت مسجد میں آیااورمجھ سے کہنے لگا کہ مجھے نماز پڑھا دیجئے ۔ میں نے جوابا ًکہا کہ نماز تو میں نے پڑھا دی ہے آپ اپنی پڑھ لیجئے ۔اُس نے پھر کہا کہ نہیں مجھے آپ نماز پڑھا دیجئے۔تو اب میں اس کی بات سمجھا کہ وہ کہہ رہا ہے: مجھے سرے سے نماز پڑھنا ہی نہیں آتی لہٰذاآپ مجھے اس کا طریقہ بتا دیجئے ۔میں نے ایک سلجھے ہوئے اسلامی بھائی کو کہا کہ آپ انہیں طریقہ بتا دیجئے۔ انھوں نے طریقہ بتایا مگر اس 34سالہ دولہے کو رکوع، سجود، التحیات وغیرہ کے متعلق کچھ بھی پتا نہیں تھا کہ یہ کس کو کہتے ہیں اور کیسے کرتے ہیں ! حتّٰی کہ اسے ایک ایک چیز بتانی پڑی کہ ہاتھ کانوں تک اٹھا کر ناف کے نیچے باندھیں ، رکوع و سجدہ اس طرح کریں ، یوں شروع سے آخر تک انہیں ایک ایک چیز بتائی گئی اورہاں ، وہ دولہا نمازِ عشا پڑھنے کیلئے نہیں بلکہ اس لیے آیا تھاکہ ان کی برادری میں شادی کے موقع پر دولہا کو دو رکعت نفل ادا کرنے کی رسم ہوتی ہے۔
مسجد تو بنادی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنا پُرانا پاپی ہے، برسوں میں نمازی بن نہ سکا
’’قبر کی پہلی رات‘‘ نامی بیان نے زندگی بدل دی
اے عاشقانِ نماز!نمازوں میں جلد بازی کی علامت مِٹانے ، نمازوں کے ضروری احکام سے آگاہی پانے اور نمازوں میں خشوع وخضوع کا جذبہ بڑھانے کیلئے مَدَنی قافلوں میں سفر کا معمول بنایئے۔آپ کی ترغیب کیلئے ایک ’’مَدَنی بہار‘‘ پیش کی جاتی ہے: چنانچِہڈہرکی (ضلع گھوٹکی، سندھ) کے اسلامی بھائی (عمر تقریباً 24سال) دنیادار قسم کے نوجوان تھے جو دینی معلومات سے کوسوں دور تھے۔ نمازوں کی پابندی نہ روزوں کا خیال! کچھ بھی تو نہ تھا۔ بُرے دوستوں کے ساتھ آوارہ گردی کرنا،فلمیں ڈرامے دیکھنا ان کا معمول تھا۔ بُری صحبت کی وجہ سے شراب بھی پینے لگے تھے۔ ان جیسے بھٹکے ہوئے انسان کو نیکیوں کی شاہراہ پر گامزن کرنے کا سہرا دعوتِ اسلامی کے ایک مُبلِّغکے سر ہے جنہوں نے ان پر انفرادی کوشش کرتے ہوئے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع کی دعوت دی اور اَلْحَمْدُ لِلہِ انہوں نے اس اجتماع میں شرکت کی۔ ان پر تھوڑا بَہُت اثر ضَرور ہوا مگر گناہوں میں قید ہونے کی وجہ سے وہ دعوتِ اسلامی کی زیادہ برکتیں سمیٹنے سے محروم رہے۔ پھر کچھ عرصے بعد انہی اسلامی بھائی نے ان کو عاشقانِ رسول کے ساتھ تین دن کے مَدَنی قافلے میں سفر کی دعوت دی جس پر لبیک کہتے ہوئے انہوں نے راہِ خدا میں سفر اختیار کیا ۔ دورانِ مَدَنی قافلہ ایک مُبلِّغ نے 63دن کا مدنی تربیتی کورس کرنے کا ذہن دیا اور انہیں یہ کورس کرنے کی بھی سعادت نصیب ہوگئی ۔اسی کورس کے دوران فیضانِ مدینہ کراچی میں ہونے والے تین دن کے تربیتی اجتماع میں شرکت کا موقع بھی ملا جہاں انہوں نے بیان ’’قبر کی پہلی رات‘‘ سنا تو ان کے دل میں تبدیلی برپا ہوگئی اور انہوں نے اپنے پچھلے گناہوں سے توبہ کرتے ہوئے سنتوں بھرا حلیہ اپنانے کی پکی نیّت کرلی۔ اَلْحَمْدُ لِلہِ انہیں ایک مسجد میں امامت کی سعادت بھی حاصل ہوئی اور علاقائی مشاورت کے نگران کی حیثیت سے دعوتِ اسلامی کا مدنی کام کرنے کی ذمّے داری بھی ملی۔
تِرا شکر مولا دیا مَدنی ماحول
نہ چھوٹے کبھی بھی خدا مَدنی ماحول
(وسائلِ بخشش (مُرمَّم) ص۶۴۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب صلَّی اللہُ علٰی محمَّد
......توتمام مُعاملات دُرُست ہوجائیں
حضرت سیِّدُنااِبْنِ شَوْذَ ب رَحْمَۃُ اللہِ علیہ بیان کرتے ہیں :میں نے حضرتِ سیِّدُنا یونس بن عبید رَحْمَۃُ اللہِ علیہ کو فرماتے سنا:دو خصلتیں ایسی ہیں کہ اگر بندے میں وہ درست ہوجائیں تو اس کے باقی تمام معاملات دُرُست ہوجائیں وہ نماز اور زَبان ہیں ۔ (حلیۃ الاولیاء ج ۳ ص ۲۲رقم ۳۰۰۶)
نماز کی قبولیت کیلئے اِخلاص شرط ہے
اے عاشقانِ نماز!کاش! بیان کردہ خشوع وخضوع پیدا کرنے والے اسباب اپناتے ہوئے ہمیں نماز پڑھنا نصیب ہو، کاش! ہماری نمازیں اللّٰہ کریم کے نیک بندوں کی نمازوں کا نمونہ بنیں ۔ اٰمین۔ یہ بھی یاد رکھئے کہ نماز کی قَبولیت کے لئے سب سے بنیادی شرط اِخلاص ہے۔ لہٰذا ہر طرح کی نماز خواہ وہ فرض ہو یا نفل، صرف و صرف اللّٰہ پاک کو راضی کرنے کیلئے ادا کی جائے، دوسروں کو دِکھانے کے لئے ریاکارانہ نماز نہ پڑھی جائے۔اخلاص کی اہمیت اور ریاکاری کی مذمت میں کچھ روایات وغیرہ پیش کی جاتی ہیں :
فتنۂ دجّال کا خوف
حضرت سیِّدُناابو سعید خُدْرِی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک دن ہم آپس میں مَسِیحِ دجّال کا ذِکر کررہے تھے، اتنے میں رسولُ اللہ صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تشریف لائے اور فرمایا: کیا میں تمہیں وہ بات نہ بتاؤں جس کا مجھے تم پر دَجّال سے زیادہ خوف ہے؟ ہم نے عرض کی: کیوں نہیں ۔ فرمایا: وہ شرکِ خفی(یعنی چھپا ہوا شرک) ہے، آدمی نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے اور اِس وجہ سے عمدگی کے ساتھ نماز ادا کرتا ہے کہ دوسرا شخص اسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھ رہا ہے۔ (ابن ماجہ ج ۴ص ۴۷۰ حدیث ۴۲۰۴)
حضرتِ مفتی احمد یار خان رَحْمَۃُ اللہِ علیہ حدیثِ پاک کے اس حصّے ( جو میرے نزدیک تمہارے لیے مَسِیحِ دجال سے زیادہ خطرناک ہے) کے تحت فرماتے ہیں : کیونکہ دجّال کو تو کوئی شخص ہی پائے گا وہ بھی قیامت کے قریب، پھر انسان اس سے بچ بھی سکے گا کہ نہ اس کے پاس جائے نہ اس کے پھندے میں پھنسے، مگر (شرکِ خفی یعنی) ’’ریا کاری‘‘ کی مصیبت ہر شخص کو ہروَ قت دَرپیش ہے، اس لیے یہ آفت دجّال سے زیادہ خطرناک ہے۔(مراٰۃ المناجیح ج۷ص۱۴۳)
دجّال کو مسیح کہنے کی وجہ
’’مراٰۃُ المناجیح‘‘ میں ہے: دجّال کی ایک آنکھ مَمْسُوح یعنی پونچھی ہوئی ہے یا چونکہ وہ سوائے حرمین شریفین کے باقی ساری دنیا کی سیرکرے گا لہٰذا اسے مَسِیح کہا جاتا ہے۔ خیال رہے کہ حضرت عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام کو ’’مَسِیح ‘‘ اس لیے کہتے ہیں کہ آپ مردے کو چھوکر زندہ کرتے اور بیمار کو چھو کر تندرست یا اس لیے کہ آپ نے کہیں گھر نہ بنایا ہمیشہ سفر میں رہے۔ (مراٰۃ المناجیح ج ۲ ص ۱۰۸ ملخصاً)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع