30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
’’سنت‘‘کے تین حُروف کی نسبت سے سُنّتِ عَصْر کے مُتعلِّق 3فرامینِ مصطَفٰے
{۱} اللہ پاک اس شخص پر رحم کرے، جس نے عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھیں ۔ ( ابو داوٗد ج ۲ ص ۳۵ حدیث ۱۲۷۱) {۲}جو عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھے، اللہ پاک اس کے بدن کو آگ پر حرام فرمادے گا۔ ( معجم کبیر ج ۲۳ ص ۲۸۱ حدیث ۶۱۱) {۳}جو عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھے، اُسے آگ نہ چھوئے گی۔ ( معجم اوسط ج ۲ ص ۷۷ حدیث ۲۵۸۰) (بہارِشریعت ج ۱ ص ۶۶۱)
عصر کی سنّتوں کے بارے میں مَدَنی پھول
عصر کے فرضوں سے پہلے چار رکعتیں پڑھنا سنّتِ غیر مؤکَّدہ ہے۔اِس میں (اور عشا کے فرضوں سے پہلے کی چار سنتوں میں ) پہلی اور تیسری رَکعت کے شروع میں ثنا، اَعُوْذ اور بِسْمِ اللہ پڑھئے ۔ دوسری اور چوتھی رَکعت کے بعد’’ قعدہ‘‘فر ض ہے ۔ دونوں قعدوں میں اَلتّحِیّات کے بعد دُرُودِ ابراہیم اور دعا بھی پڑھئے۔ چار غیر مؤ کَّدہ سنتیں شروع کرنے کے بعد جماعت کھڑی ہو جانے کی صورت میں دو رکعتوں پر سلام پھیر کر جماعت میں شامل ہو جایئے۔ مگر ظہر و جمعہ کی سنّتِ قبلیہ یعنی فرضوں سے پہلے پڑھی جانے والی چار سنّتوں میں چار رَکعت پوری کر لیجئے۔ اس مسئلے کی تفصیلی معلومات ’’فتاوٰی رضویہ‘‘ جلد8 صفحہ129 تا136 پر دیکھی جا سکتی ہے۔
مغرِب کی نَماز کے فضائل
مقبول حج و عمرہ کا ثواب
خادمِ نبی، حضرتِ سیِّدُنااَنس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالی شان ہے:’’جس نے مغرب کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کی اُس کے لیے مقبول حج و عمرہ کا ثواب لکھا جائے گااوروہ ایسا ہے گویا (یعنی جیسے )اس نے شبِ قدر میں قیام کیا۔‘‘ ( جمع الجوامع ج ۷ ص ۱۹۵ حدیث ۲۲۳۱۱)
مغرب کے فرضوں کے بعد 6رکعتیں
دو فرامینِ مصطَفٰے صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم : {۱}جو شخص مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھے اور ان کے درمیان میں کوئی بُری بات نہ کہے، تو بارہ برس کی عبادت کے(ثواب کے) برابر کی جائیں گی۔ ( ترمذی ج ۱ ص ۴۳۹ حدیث ۴۳۵) {۲}جو مغرِب کے بعد چھ رَکعتیں پڑھے، اس کے گناہ بخش دیے جائیں گے اگرچِہ سَمُندر کے جھاگ برابر ہوں ۔ ( معجم اوسط ج ۵ ص ۲۵۵ حدیث ۷۲۴۵ )
نَمازِ اَوّابِین کا طریقہ
مغرب کی تین رَکْعَت (رَک۔عَت)فرض پڑھنے کے بعد چھ رَکعت ایک ہی سلام سے پڑھئے، ہر دو رَکعت پرقعدہ کیجئے اور اس میں اَلتَّحِیّات ، دُرُودِ ابراہیم اور دعا پڑھئے، پہلی،تیسری اور پانچویں رَکعت کی ابتدا میں ثنا، تَعَوُّذ و تَسمِیَہ (یعنی ثنا، اَعُوْذ اور بِسْمِ اللہ ) بھی پڑھئے۔ چھٹی رَکعت کے قَعدے کے بعد سلام پھیر دیجئے۔ پہلی دو رَکعتیں سُنَّتِ مُؤَکَّدہ ہوئیں اور باقی چار نوافِل۔ یہ ہے اَوّابین ( یعنی توبہ کرنے والوں ) کی نماز۔ ( اَلْوَظِیْفَۃُ الْکَرِیْمَۃ ص ۲۶ مُلَخَّصاً ) چاہیں تو دو دو رَکعت کر کے بھی پڑھ سکتے ہیں ۔بہارِشریعت جلد اول صَفْحَہ 666 پر ہے: بعد مغرِب چھ رَکعتیں مستحب ہیں ان کو صَلٰوۃُ الْاوّابین کہتے ہیں ، خواہ(یعنی چاہیں تو) ایک سلام سے سب پڑھے یا دو (سلام) سے یا تین سے اور تین سلام سے یعنی ہر دو رَکعت پر سلام پھیرنا افضل ہے۔ ( درمختار وردالمحتار ج ۲ ص ۵۴۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب صلَّی اللہُ علٰی محمَّد
مغرب وعشا کے درمیان عبادت کاثواب
حضرت سیِّدُنا عمر بن ابو خلیفہ رَحْمۃُ اللہِ علیہ بیان کرتے ہیں :ہم نے حضرتِ سیِّدُنا عطاء خراسانی رَحْمۃُ اللہِ علیہ کے ساتھ نماز مغرب اداکی،نمازکے بعد جب ہم واپس ہونے لگے توآپ نے میراہاتھ پکڑ کر فرمایا: ’’مغرب وعشا کے اس درمیانی وقت سے لوگ غافل ہیں ، یہ نمازِاَوَّابین(یعنی توبہ کرنیوالوں کی نماز) کا وقت ہے۔ جس نے اس دوران نماز کی حالت میں قراٰنِ کریم کی تلاوت کی گویا وہ جنت کی کیاری میں ہے۔‘‘ ( اللّٰہ والوں کی باتیں ج ۵ ص ۲۵۹)
عشا کی نَماز کے فضائل
مُنافِقوں پر نمازِ فجر و عشا بھاری ہے
حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے :’’ سب نمازوں میں زیادہ گراں (یعنی بوجھ والی) منافقوں پر نمازِ عشا و فجر ہے، اور جو اِن میں فضیلت ہے اگر جانتے توضرور حاضر ہوتے اگرچِہ سرین (یعنی بیٹھنے میں بدن کاجو حصّہ زمین پر لگتا ہے اُس) کے بل گھسٹتے ہوئے یعنی جیسے بھی ممکن ہوتا آتے۔ ‘‘ ( ابن ماجہ ج ۱ ص ۴۳۷ حدیث ۷۹۷)
شرْحِ حدیث
حضرت مفتی احمد یار خان رَحْمۃُ اللہِ علیہ اِس حدیثِ پاک کی شرح میں لکھتے ہیں : کیونکہ منافق صر ف دکھلاوے کے لیے نماز پڑھتے ہیں ، اور وقتوں میں تو خیر جیسے تیسے پڑھ لیتے ہیں مگر عشاکے وَقت نیند کاغلبہ، فجر کے وَقت نیند کی لذت انہیں مست کردیتی ہے ۔ اخلاص و عشق تمام مشکلوں کو حل کرتے ہیں وہ ان میں ہے نہیں ، لہٰذا یہ دو نمازیں انہیں بہت گراں (یعنی بہت بڑا بوجھ معلوم ہوتی) ہیں ، اس سے معلوم ہوا کہ جو مسلمان ان دو نمازوں میں سُستی کرے وہ منافِقوں کے سے کام کرتا ہے۔ (مراٰۃ المناجیح ج ۱ ص ۳۹۶ )
مُنافِقین عشا و فَجر میں آنے کی طاقت نہیں رکھتے
تابعی بزرگ حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیَّب رَحْمۃُ اللہِ علیہ سے مروی ہے کہ سرورِ دوجہان صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے: ’’ہمارے اور منافِقین کے درمِیان علامت (یعنی پہچان) عشا و فجر کی نماز میں حاضِر ہونا ہے کیونکہ منافقین ان نمازوں میں آنے کی طاقت نہیں رکھتے۔‘‘ ( مؤطا امام مالک ج ۱ ص ۱۳۳ حدیث ۲۹۸)
حدیث میں کون سے مُنافِق مُراد ہیں ؟
حضرت علامہ عبد الرء وف مُناوی رَحْمۃُ اللہِ علیہ لکھتے ہیں : اِس حدیث میں بیان کردہ منافق سے مراد(دورِ رسالت کے بدترین کفار نہیں ہیں جو خود کو جھوٹ موٹ مسلمان ظاہر کرتے تھے مگر دل سے کافر تھے بلکہ یہاں مراد) ’’منافقِ عملی ‘‘ہے ۔ (جو کہ حقیقت میں مسلمان ہے) حدیث کے اِس حصے’’ منافقین ان نمازوں میں آنے کی طاقت نہیں رکھتے‘‘ سے مراد ہے: ہم ان نمازوں کو چستی کے ساتھ اور خوشی خوشی ادا کرتے ہیں ، ہمیں ان دونوں نمازوں کو باجماعت ادا کرنے کے لیے مسجِد آنے میں کوئی مَشَقَّت نہیں ہوتی جبکہ منافِقین پر یہ نمازیں بھاری ہیں اس لیے وہ انہیں بشاشت (یعنی خوشی)اور چستی کے ساتھ ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ (آگے چل کر فرماتے ہیں :)واضح رہے کہ منافقِ (عملی) عبادت قائم کرنے کے لیےنہیں بلکہ عادت کی وجہ سے نماز پڑھتا ہے اور چونکہ اس کا نفس نماز پڑھنے کو ناپسند کرتا ہے اس لیے وہ سب کے ساتھ نہیں بلکہ اپنے گھر میں تنہا نماز پڑھتا ہے۔(آگے مزیدتحریر کرتے ہیں : ) بعض عارِفین (یعنی اللہ پاک کی پہچان رکھنے والوں ) کاقول ہے: نمازِفجر باجماعت پابندی سے پڑھنے سے دنیا کے مشکل کام آسان ہوجاتے ہیں ، نمازِ عصرو عشا میں جماعت کی پابندی سے زُہد پیدا ہوتا(یعنی دنیا سے بے رغبتی نصیب ہوتی) ہے ، ’’خواہِشات‘‘ کی پیروی سینفس باز رہتا ہے۔ ( فیض القدیر ج ۱ ص ۸۴،۸۵)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع