پیارے پیارے اسلامی بھائیو! علم میں وہ لذت ہے جو مشکلات کی تلخیوں کو مٹادیتی ہے۔ حضرت سیّدنا امام محمد غزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے جب تحصیلِ علم ِ دین کے پہلے زینے(سیڑھی) پر قدم رکھاتو فاقے نے خوش آمدید کہاتو تنگدستی نے قدم بوسی کی لیکن حضرت سیّدنا امام محمدغزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے عزم و حوصلے سے یہ پہلا مرحلہ عبور فرمایا ۔ راہ ِ علم میں حضرت سیّدنا امام محمدغزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کوکئی مراحل سے گزر نا پڑا ، ان میں سے چند کا تذکرہ ملاحظہ فرمائیے:
حضرت سیّدنا ابو عباس خطبی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت سیّدنا امام محمدغزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے حلقۂ درس میں حاضر تھا۔حضرت سیّدنا امام محمدغزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے فرمایا:میرے والدِ محترم کا انتقال ہو گیا اور انہوں نے ہمارے لئے ترکہ میں زیادہ مال نہیں چھوڑا تھا۔ جب وہ ختم ہوا تو ہما را رزق تنگ ہو گیا ہم نے حصولِ علمِ فقہ کے لئے مدرسہ کا رُخ کیا ،اس وقت ہمارا مقصود صرف کھانا پینا تھا اور ہم اسی لئے علم حاصل کر رہے تھے نہ کہ اللہ پاک کی رضا کے لئے ، تب اُنہوں (یعنی حضرت سیّدنا ابوحامداحمدبن محمدراذکانی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ)نے ہمیں تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا : علم صرف اللہ پاک کی رضا کے لئے حاصل کرنا چاہئے۔( )
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!مذکورہ حکایت سے ہمیں دو مدنی پھول حاصل ہوئے (۱)استاد کو چاہئے کہ وہ طالب ِعلم کی نفسیات و ارادے سے واقفیت حاصل کرے ،اس کی نیت و ارادے میں پائی جانے والی غلطی کی نشاندہی بھی کرتا رہے اور اس کے لئے درست سمت کی تعیین بھی کرتا رہے جیسا کہ حضرت سیّدنا ابو حامد احمدبن محمدراذکانی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے کیا۔(۲)نیت اورعمل میں بہت گہرا تعلق ہے کیونکہ نیت ہی انسان کوعمل پر اُبھارنے کی قوت فراہم کرتی ہے حضرت سیّدنا امام محمد غزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کو پہلی درس گاہ میں سب سے زیادہ اہم سبق ”نیتوں کی اصلاح“ کے متعلق یہ حاصل ہوا کہ اعمال کی درستی نیت کے صحیح ہونے پر موقوف ہے۔اسی لئے آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نیت کی اہمیت کے متعلق اپنی مایہ ناز تصنیف’’احیاء العلوم‘‘میں اس طرح رقم طراز ہیں:نیَّتیں اعمال کاستون ہیں عمل تونِیَّت کامحتاج ہے کیونکہ عمل نِیَّت ہی کی وجہ سے اچھاہوتاہے جبکہ نِیَّت ذاتی طورپراچھی ہے اگرچہ کسی مجبوری کی وجہ سے عمل نہ ہوسکے۔( )
اللہ پاک ہمیں بھی اپنی نیتوں کی اصلاح کرنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
اٰمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
حضرت سیّدنا احمد بن محمد راذکانی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی صحبت میں ہی آپ کو نیتوں کی اصلاح کاپہلا سبق حاصل ہوا، اس لئے حضرت سیّدنا احمد بن محمد راذکانی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی صحبت ہی حضرت سیّدنا امام محمدغزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی پہلی درس گاہ بنی ، یوں طو س ہی سے آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی تعلیم کا آغاز ہوا۔ ( )
ابتدائی تعلیم کے بعدآپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ(ایران کے مشرقی شہر)جُرجان تشریف لے گئےاور کچھ عرصہ حضرت سیّدنا امام ابو نصر اسماعیلی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی خدمت میں رہے ۔( )
حضرت سیّدنا امام محمدغزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ جب جُر جان کے علمی خزانے سے حاصل ہونے والے موتیوں کوبصورتِ تحریر محفوظ فرماکر و طن لے جارہے تھے توراستے میں قافلے کو ڈاکوؤ ں نے لوٹ لیا۔ اس حادثے میں حضرت سیّدنا امام ابو نصراسماعیلی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی بارگاہ سے حاصل ہونے والے علمی نکات سے معمورنوٹس بھی ڈاکوؤں کے ہاتھ لگ گئے ۔حضرت سیّدنا امام محمدغزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کواس کا بہت صدمہ ہوالہٰذاآپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ ڈاکوؤں کے سردار کے پاس گئے اور اس سے کہا:جس ذات سے آپ کو سلامتی کی امید ہے اسی ذات کا واسطہ دے کر میں بس اتنا چاہتا ہوں کہ صرف میرے نوٹس مجھے لوٹادیجیے اس میں آپ کے فائدے کا کچھ نہیں ہے ۔ڈاکوؤں کے سردار نے تجسس سےپوچھا :ان میں کیا ہے؟آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے فرمایا:جن علمی باتوں کو سننے ،لکھنے اور معرفت حاصل کرنے کے لئے میں نے وطن چھوڑا تھا میں نے اُنہیں لکھ کر ان کاغذات میں محفوظ کیا ہے ۔“یہ سن کر ڈاکوؤں کا سردارہنس پڑا اور طنزیہ لہجے میں یوں کہنےلگا:تمہارا یہ دعویٰ کس طرح درست ہو سکتا ہے کہ تمہیں علم پر عبور حاصل ہے؟حالانکہ اِس تھیلے کے چھن جانے سے تم بالکل کورے ہوگئے ہو۔ یہ کہہ کر اس نے وہ نوٹس واپس کر دیے۔
اس واقعے کا امام محمدغزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ پر گہرا اثر ہوا اور ڈاکوؤں کے سردار کا یہ طعنہ سن کر احساس ِ کمتر ی میں مبتلا ہونے کے بجائے آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے اسے انمول نصیحت اوراللہ پاک کی رحمت جانا،آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ خود فرماتے ہیں:’’میں سمجھ گیا کہ اس سے یہ بات اللہ پاک نے کہلوائی ہے تاکہ اس کے ذریعے میری رہنمائی ہو، پھر جب میں واپس طوس پہنچا تو پورے تین برس صرف کر کےان یادداشتوں کے تمام مسائل کو حفظ کر لیا اور پھرمیں ایسا ہو گیا کہ اب اگر مجھے لوٹ بھی لیا جاتا تب بھی میں اپنے علم سے کورا نہ ہوتا۔‘‘( )
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!مذکورہ حکایت سے ہمیں دو مدنی پھول حاصل ہوئے ۔(۱) اگر کوئی ہماراعیب یا خامی بیان کرے تو ایسے شخص پر غم وغصے کا اظہارکرنے کی بجائےاپنی ذات سے اس عیب کو دور کرنا چاہئے جیسا کہ حضرت سیّدناامام محمدغزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے کیا۔اگر حضرت سیّدنا امام محمد غزالی کی جگہ کوئی اور کم ہمت شخص ہوتا تو ڈاکوؤ ں کے سردار کا یہ جملہ اس کی ہمت توڑ دیتا ،وہ خود سے بدظن ہوجاتا ا ور احساس کمتری میں مبتلا ہوکر راہِ علم چھوڑ دیتا، لیکن حضرت سیّدنا امام محمدغزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے ڈاکوؤں کے سردار کے طنزیہ جملےکو حکمت بھری نصیحت سمجھ کر قبول فرمایا اور یہ فیصلہ کیا کہ جلد سے جلد اپنے ذہن میں جُرجان سے حاصل ہونے والے علمی ذخیرے کو محفوظ کرنا ہے تاکہ پھرکبھی کسی کو اعتراض کا موقع ہی نہ ملے ۔
(۲)تحصیلِ علم کے لئے آیاتِ قرآنیہ، احادیثِ رسول،اقوالِ ائمہ اور مسائلِ شرعیہ یاد کرنا اور یاد رکھنا بے حد ضروری ہے۔کیونکہ علم ِ دین مستحضرہو تب ہی اس سے کما حقہ فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔احکامِ شرعیہ کو یاد کرنے کے لئے حافظہ کا قوی ہونا بھی بےحدمفیدہے کہ حافظہ جس قدر قوی ہوگا مسائلِ شرعیہ یاد کرنے اور یاد رکھنے میں اسی قدر آسانی ہو گی۔( )
صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
حضرتسیّدناامام محمدغزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے دور میں نیشاپور کا شمار بھی بڑے علمی مراکز میں ہوتا تھا ، ماہر مُدَرِّسین ، بلند پایہ فُقَہَا اور اپنے اپنے فن کے ماہرین کی سکونت نے نیشاپور کی عظمت میں کئی گنا اضافہ کردیا تھا ، طلبہ اپنی علمی پیاس بجھانے کے لئے نیشا پور کا رُ خ کرتے ، فیضانِ علم سے فیضیاب ہوتے اور علمی موتی اپنے دل و دماغ میں محفوظ کرکے واپس لوٹ جاتے ۔ نیشاپور میں حصول ِ علم کے لئے گزرنے والا یہ وقت انہیں آسمانِ علم کا درخشندہ ستارہ بنا دیتا ۔
حضرت سیّدنا امام محمدغزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ جُرجان کے بعد مزیدعلمِ دین کےحصول کے لئے نیشا پورتشریف لائے، کئی علوم پرایسی دسترس حاصل کی کہ آپ اپنے معاصرین پر فائق ہوگئے ،نیشا پور میں حضرت سیّدنا امام محمدغزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی تحصیل علم کی تفصیل ملاحظہ کیجئے :
نیشاپور میں جہاں کئی علوم و فنون کے ماہرین جمع تھے وہیں اسے یہ شرف حاصل تھا کہ اس وقت وہاں امامُ الحَرَمین حضرت سیّدناابو المعالی ضیاءُ الدین عبدُ الملک جوینی شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی جیسی عظیم المرتبت شخصیت خلقِ خدا میں علمِ دین کی روشنی پھیلانے میں مصروف تھی۔( )حضرت سیّدناامام محمدغزالی رَحْمَۃُاللہِ عَلَیْہ نیشاپورمیں امامُ الحرمین حضرت سیّدنا عبد ُالملک جوینی شافعی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے حلقۂ درس میں شامل ہوگئے۔
امام الحرمین رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے حلقۂ درس میں اس وقت تقریباً 300 طلبہ حاضر ہوا کرتے لیکن حضرت سیّدنا امام محمد غزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ اپنی ذہا نت وقابلیت کی بنا پر تمام طلبہ میں ممتاز تھے۔اپنی محنت اورلگن کی بدولت ”علمِ مذہب“،’’علم الجَدَل‘‘اور’’اصول ‘‘ وغیرہ مُرَوَّجَہ علوم میں عبور حاصل کیا۔ ( )
حضرت سیّدنا امام محمدغزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی صلاحیتوں کا اعتراف امامُ الحرمین رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی زبا ن سے کئی مرتبہ ہو ا، آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی حیرت انگیز ذہانت اورمعلومات کی وسعت دیکھ کر امام الحرمین رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے ارشاد فرمایا:’’الغَزَالِي بَحْرٌ مُغْدَقٌ یعنی غزالی (علم کا)بحرِّ زخار ہیں۔‘‘( )
حضرت سیّدنا امام محمدغزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے بے شمار اساتذہ سے علمِ دین حاصل کیا جن میں سے چند مشہور اسا تذۂ کرام کے اسمائے گرامی یہ ہیں:فقہ میں حضرت سیّدناعلامہ احمد بن محمدراذکانی،حضرت سیّدناامام ابونصراسماعیلی، حضرت سیّدنا امام الحرمین ابوالمعالی عبد الملک جُوَیْنِی۔حدیث میں حضرت سیّدناابو سہل محمد بن احمد حَفْصِی مَرْوَزِی ، حضرت سیّدناابوالفتح نصر بن علی بن احمد حاکمی طُوسی، حضرت سیّدناابو محمد عبداللّٰہ بن محمد بن احمد خُوَاری ، حضرت سیّدنا محمد بن یحییٰ سُجَّاعی زَوْزَنی، حضرت سیّدنا حافظ ابوفتیان عمر بن ابو الحسن رَوَاسی دَہِسْتانی اور حضرت سیّدنا نصر بن ابراہیم مَقْدَسی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہمْ اَجْمَعِیْن۔( )
حضرتسیّدنا امام محمدغزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نہایت ذہین و فطین تھے۔ شروع ہی سے آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا مزاج تحقیقی تھا اس لئے آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ جب بھی کسی علم کی طرف توجہ فرماتے تو اس کی گہرائی میں غوطہ زن ہو جاتے اوراس علم میں مہارتِ تامہ حاصل کر لیتے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی کمالِ ذہانت اور علمی مہارت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ جن دنوں آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ امامُ الحرمین حضرت سیّدنا عبدُ الملک جوینی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہ کے حلقۂ درس میں حاضر ہوا کرتے تھے اس دوران آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے اصولِ فقہ کے موضوع پرایک کتاب ’’المَنْخُوْل ‘‘ تصنیف فرمائی۔ جب آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے شیخ امامُ الحرمین حضرت سیّدنا عبدُالملک جوینی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہ نے اس کتاب کو ملاحظہ فرمایا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی علمی قابلیت کا اعتراف کرتے ہوئے فرمایا : تم نے مجھے زندہ ہی دفن کر دیا ، میری موت تک صبر توکر لیتے کیونکہ تمہاری کتاب میری کتاب پر فائق ہو جائے گی ۔ (اس جملے سے امام محمد غزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی علمی مہارت کا بیان کرنا مقصود ہے )( )
ابوالمعالی،امامُ الحرمین حضرت سیّدنا عبد الملک جوینی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے ۴۷۸ھ میں دارِ فنا سے دارِ بقا کی جانب رحلت فرمائی ۔ جب آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا وصال ہوا تو نیشاپوراس غم میں ڈوب گیا،تمام بازار بند کر دئیے گئے ، آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے تلامذہ نے شدتِ غم کے باعث اپنی دواتیں توڑ دیں اور ایک سال تک آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی وفات کا صدمہ لوگوں کے دل و دماغ پر چھایا رہا۔( )
صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
حضرت سیّدنا امام محمد غزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ اِمامُ الْحَرَمَیْن عبد الملک جوینی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے وصال تک آپ کی خدمت میں حاضر رہے اور علم و حکمت کے نورسے قلب و ذہن کومنورفرماتے رہے۔امام الحرمین حضرت سیّدنا عبد الملک جوینی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے وصال کے بعد حضرت سیّدنا امام محمدغزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نےنیشاپور کو خیر بادکہا( )اور عملی میدان میں قدم رکھا۔حضرت سیّدنا امام محمد غزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے علم وفضل سے عوام و خواص بہت متأثر ہوئے اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کو بہت پذیرائی حاصل ہوئی چنانچہ
حضرت سیّدنا امام محمدغزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے جب دربارِ شاہی کا رُخ کیا تو اس وقت وہاں سینکڑوں علما و مشائخ موجود تھے ۔وزیر اعظم نظامُ الملک صاحبِ علم اور نیک طبیعت شخص تھا ۔اکثر اوقات اس کے دربار میں علمائے کرام کا اجتماع رہتا جو مختلف علمی موضوعات اور شرعی مسائل پر بحث ومباحثہ کیا کرتے تھے ۔جب حضرت سیّدنا امام محمدغزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ دربارِ شاہی میں پہنچے تو وہاں آپ کے لئے مناظرے کی کئی محافل منعقد کی گئیں،مختلف علمی مضامین پر بحث ومباحثہ کا بھی سلسلہ رہا،ہر علمی معرکے میں اللہ پاک کے فضل و کرم سے حضرت سیّدناامام محمدغزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ ہی غالب رہے۔ان کامیابیوں نے حضرت سیّدنا امام محمد غزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی شہرت کو چار چاند لگا دئیے۔( )
علامہ ابن جوزی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں:وزیرِ مملکت نظام الملک بھی آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے علمی کمال سے متأثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا اور آپ کوزَیْنُ الدِّیْن اور شَرْفُ المِلَّۃ جیسے القابات سے نوازا۔( )
جب دربارِ شاہی میں موجود علما و فضلا پرآپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی علمیت کی دھاک بیٹھ گئی تو وزیرِاعظم نظامُ الملک نے ۴۸۴ھ میں مدرسہ نظامیہ بغدادکے شیخ الجامعہ (یعنی وائس چانسلر) کا عہدہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کو پیش کیاجسے آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے قبول فرمالیا۔اس وقت آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی عمرتقریبا ً 34سال تھی۔( )
شہرِبغدادمیں دریائےدجلہ کےکنارےایک عظیمُ الشان دینی درسگاہ”جامعہ نظامیہ‘‘کے نام سے قائم تھی، یہ درس گاہ علومِ دینیہ کا منبع و مرکز تھی۔اس دور کے جید علما و مشائخِ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام یہاں تدریسی فرائض سر انجام دیا کرتے تھے۔اس کے تمام اخراجات و مصارف کی ذمہ داری حکومتِ وقت نے لے رکھی تھی۔اس کا سالانہ خرچ چھ یا سات لاکھ دینا ر تھا۔جامعہ نظامیہ کی اعلیٰ تعلیم و تربیت سے دنیائے اسلام میں علم کی روشنی پھیلی ۔ کم و بیش تین سو سال کے عرصے میں جتنے نامور علما جامعہ نظامیہ نے پیدا کئے وہ اس کے اعزاز و شہرت کا بَیِّن ثبوت تھے ۔ شیخ شرفُ الدِّین بن مُصْلِحُ الدِّین سعدی شیرازی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہ چھٹی صدی ہجری کے آخری طالب علم تھے۔جامعہ نظامیہ کی تعلیم اور فضل و کمال کی جانچ کے لئے یہ ایک نام ہی کافی ہے۔( )