30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حیاتِ اعلیٰ حضرت تاریخ کے آئینے میں
اعجاز نواز عطاری مدنی
*آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی ولادت 10شوال المکرم 1272ھ/1856ءبروز ہفتہ ہوئی ۔
*ربیع الاول1276ھ/1860ء کو تقریباً 4 سال کی عمر میں ناظرہ قراٰنِ پاک ختم فرمایا اور اسی عمر میں فصیح عربی میں گفتگو فرمائی ۔
*ربیع الاول1278ھ/1861ءکو تقریباً 6 سال کی عمر میں پہلا بیان فرمایا۔
*1279ھ/1862ء کو تقریبا ً 7 سال کی عمر میں رمضان المبارک کے روزے رکھنا شروع کئے۔
*شوال المکرم1280ھ/1863ء کو تقریبا ً 8سال کی عمر میں مسئلۂ وراثت کا شاندارجواب لکھا۔
*8سال ہی کی عمر میں نحوکی مشہورکتاب ہِدَایَۃُالنَّحْوپڑھی اور اس کی عربی شرح بھی لکھی۔
*شعبان المعظّم 1286ھ/1869ء کو 13 سال4 ماہ اور10 دن کی عمر میں علومِ درسیہ سے فراغت پائی، دستارِ فضیلت ہوئی، اسی دن فتویٰ نویسی کا باقاعدہ آغازفرمایا اور درس وتدریس کا بھی آغازفرمایا۔
*1291ھ/1874ء میں تقریبا ً19 سال کی عمر میں سنّت نکاح ادا ہوئی اور اَزدواجی زندگی کی ابتدا ہوئی ۔
*1293ھ/1876ء تقریبا 21 سال کی عمر میں فتویٰ نویسی کی مطلق اجازت ملی۔
*جمادی الاولیٰ 1294ھ/1877ء تقریباً 22 سال کی عمر میں مارہرہ مطہرہ میں شرفِ بیعت اور تمام سلسلوں کی اجازت و خلافت حاصل ہوئی ۔
*1294ھ/1877ء تقریبا ً22 سال کی عمر میں پہلی اردو کتاب تحریر فرمائی۔
*شوال المکرم1295ھ/1878ء تقریباً23 سال کی عمر میں پہلی بارزیارتِ حرمین شریفین کا شرف حاصل ہو ا۔
*1295ھ/1878ء تقریبا 23 سال کی عمر میں علمائے مکۂ مکرمہ نے آپ کو اجازتِ حدیث دی۔
*1299ھ/1882ء تقریباً 27سال کی عمر میں پہلی فارسی کتاب تحریر فرمائی۔
*1303ھ/1885ء کو تقریبا ً31 سال کی عمر میں مشہورو معروف قصیدۂ معراجیہ تحریر فرمایا۔
*1317ھ/1899ء کو تقریباً 45 سال کی عمر میں کتاب فتاویٰ الحرمین تحریر فرمائی۔
*1318ھ/1900ء تقریبا 46 سال کی عمر میں مجددِمائۃ حاضرہ کا خطاب ملا۔
*1322ھ/1904ء کو تقریبا ً50 سال کی عمر میں دارالعلوم منظراِسلام کی بنیاد رکھی ۔
*ذوالحجۃ الحرام1323ھ/1905ء کو تقریبا ً51 سال کی عمر میں دوسری بارزیارتِ حرمین شریفین کی سعادت حاصل ہوئی اور اسی سال مکۃ المکرمہ میں ہی صرف 8 گھنٹے میں علمِ غیب مصطفےٰ پر ضخیم عربی کتاب اَلدَّوْلَۃُ الْمَکِّیَّہ تحریر کی۔
*محرم الحرام1324ھ/1906ء کو تقریبا ً 52 سال کی عمر میں علمائے مکہ ومدینہ کوسندِاجازت خلافت عطا فرمائی ۔
*اسی سال کرنسی نوٹ کے متعلق کتاب کِفْلُ الْفَقِیْہِ الْفَاہِم مکۂ مکرمہ میں لکھی۔
*ربیع الاول1324ھ/1906ء کو تقریبا ً52 سال کی عمر میں قصیدۂ حضورجانِ نور(شکرِ خدا کہ آج گھڑی اس سفر کی ہے) تحریر فرمایا۔
*ربیع الاول1324ھ/1906ء کو تقریبا ً52 سال کی عمر میں بیداری میں دیدارِ مصطفےٰ کا شرف حاصل ہوا۔
*اسی سال کتاب حسام الحرمین مرتب فرمائی۔
*ربیع الاول1324ھ/1906ء کو تقریبا ً 52 سال کی عمر میں آپ کی باب المدینہ کراچی آمد ہوئی ۔
*1330ھ/1912ء کو تقریباً58 سال کی عمر میں ترجمہ ٔقراٰن کنزالایمان املاکرواناشروع کیا ۔
*1336ھ/1917ء کو تقریبا64 سال کی عمر میں جماعت رضائے مصطفےٰ کا قیام فرمایا ۔
*جمادی الاخریٰ1337ھ/1918ءکو تقریبا ً65 سال کی عمر میں جبل پورکا تاریخی سیاحتی سفرفرمایا۔
*اسی سال حرمتِ سجدۂ تعظیمی پرتحقیقی رسالہ ” اَلزُّبْدَۃُ الزَّکِیَّۃُ لِتَحْرِیْمِ سُجُوْدِ التَّحِیَّۃِ “ تصنیف فرمایا ۔
*1338ھ/1920ء کو تقریبا ً66 سال کی عمر میں ردِّحرکتِ زمین پرتحقیقی رسالہ” فوزِ مبین درددِّ حرکت زمین “ تصنیف فرمایا۔
*اسی سال فلسفیوں کے غلط نظریات کے ردمیں تحقیقی رسالہ” الکلمۃ الملھَمَۃ فی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ “ تحریرفرمایا۔
*1339ھ/1921ء تقریباً 67سال کی عمر میں دوقومی نظریہ پرجامع کلام فرمایا۔
*صفرالمظفر 1340ھ/1921ء کو تقریبا ً68 سال کی عمر میں آخری وصیتیں قلمبندکروائیں۔
*ہر علم و فن کا یہ عظیم آفتاب 25صفرالمظفر 1340ھ28اکتوبر1921ء کو جمعۃ المبارک کے دن عین اذانِ جمعہ کے وقت تقریبا 68 سال کی عمر میں غروب ہوگیا۔ اللہ کریم کی ان پر کروڑوں رحمتیں ہوں۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم
ماخوذازحیاتِ اعلیٰ حضرت ازمولاناظفرالدین بہاری،جہانِ رضا، سوانحِ امام احمدرضاازعلامہ بدرالدین قادری، تجلیاتِ امام احمد رضاازمولانا امانت رسول،تذکرہ امام احمد رضاازامیراہلِ سنّت۔
نوٹ:امامِ اہل سنّت نے سینکڑوں کتب تصنیف فرمائیں، ان کا سن ِتالیف لکھنا تفصیل کا محتاج ہے، اس لئے صرف چند کا ذکر کیا گیا۔
تعارفِ اعلیٰ حضرت
ابو فراز عطاری مدنی
تعارف، آباءواَجداد اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت مولانا شاہ امام احمدرضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن 10 شوال،1272ھ مطابق 14جون 1856ء کو ہند کے شہر بریلی میں پیدا ہوئے،آپ صاحبِ ثروت دینی وعلمی گھرانے کے چشم وچراغ تھے۔ آپ کا نام محمد ہے، دادا نے اَحمد رضا کہہ کر پکارا اور اسی نام سے مشہور ہوئے، آپ کے آباء و اَجداد (Ancestors) اَفغانستان کے صوبہ قندھار کے قبیلہ بڑہیچ کے پٹھان تھے، ہجرت کرکے مرکز الاولیاء لاہور آئے اور پھر دہلی چلے گئے، آپ کےوالد علّامہ مفتی نقی علی خان قادری، دادا مولانا رضا علی خان نقشبندی اور پیر و مرشد کا نام سیّد شاہ آلِ رسول مارہروی قادری رحمہم اللہ تھا جو علم، مَعرِفت، تقویٰ و پرہیزگاری میں اپنی مثال آپ تھے۔
بچپن اعلیٰ حضرت کا بچپن پاکیزہ اَخلاق، اِتباعِ سنت اورحُسنِ سیرت سے مُزَیَّن تھا، ابتدائی تعلیم والدِ گرامی سے حاصل کی، چار سال کی عمر میں ناظرہ قراٰنِ مجیدختم کر لیا، حافظہ ایسا مضبوط تھا کہ ایک دو بارسبق دیکھ کر کتاب بند کر دیتے اور اُستاد کو لفظ بہ لفظ سنا دیتے، 6سال کی عمر میں میلادُ النبی کے موضوع پرایک بڑے اجتماع میں بیان فرمایا،پانچوں نمازیں تکبیرِاُولیٰ کے ساتھ مسجد میں باجماعت ادا فرماتے، نگاہیں جھکا کر چلتے، 7سالکی عمر سے رمضان کے روزے رکھنا شروع کردیئے۔
حصولِ علم صرف 13 سال 10ماہ کی عمر میں اپنے والد سے تمام علوم کی تکمیل کے بعد سندِ فراغت حاصل کی اور پہلا فتویٰ تحریر فرمایا، پھر آخر وقت تک فتاویٰ تحریرفرماتے رہے۔کم و بیش 70 علوم میں قلم اُٹھایا، قراٰن و حدیث سمیت ہر فنّ میں دَسْترَس حاصل تھی، علمِ توقیت (Timings) میں تو اِس قدر کمال تھا کہ دِن میں سورج اور رات میں ستارے دیکھ کر اِس طرح گھڑی ملالیتےکہ ایک منٹ کا بھی فرق نہ ہوتا، دِینی علوم،قراٰن، تفسیر، حدیث، اُصولِ حدیث، فقہ، اُصولِ فقہ، تَصَوُّف وغیرہ کے ساتھ دُنیوی علوم، علمِ ریاضی (Mathematics)، علمِ تکسیر، علمِ ہیئت (Astronomy)، علمِ جَفَر وغیرہ میں بھی مہارت رکھتے تھے، پورا قراٰنِ مجید فقط ایک ماہ میں حفظ کرلیا تھا، آپ کی حاضرجوابی سے لوگ حیران وشَشْدر رَہ جاتے، جوحوالہ بیان فرماتے بعینہٖ اسی کتاب اورصفحے پر ہوتا ایک لائن کا بھی فرق نہ ہوتا، ہزاروں کتب اورلاکھوں مختلف علمی مسائل کا چلتا پھرتا ذَخیرہ تھے، اکثر تصنیف و تالیف میں مصروف رہتے، ترجمۂ قراٰن کنزالایمان سمیت مختلف عنوانات پر اردو، عربی اور فارسی زبان پرمشتمل کم و بیش 1000 کتابیں لکھیں، ”فتاویٰ رضویہ“ جدید 30 جلدوں میں آپ کی علمیت کا نہایت عظیم شاہکار ہے۔ آپ کے اساتذہ کی تعداد کم اور تلامذہ کی تعداد کثیرہے۔
نکاح و اولاد 19سال کی عمر میں نکاح فرمایا، کُل سات اولادیں ہوئیں، پانچ بیٹیاں اور دو بیٹے شیخُ العلماء و حُجَّۃالاسلام مولانا حامد رضا خان،مفتیِ اعظم ہند مولانا مصطفےٰ رضا خان، پھراِن سے مزید اولاد کا سلسلہ چلا۔
حج و زیاراتِ مکہ و مدینہ 2 بارحج کی سعادت حاصل کی، پہلی بار والدین کے ساتھ گئے اور بڑے بڑے علمائے مکہ و مدینہ سے حدیث، فقہ، اُصولِ تفسیرو دیگرعلوم کی سَنَدیں حاصل کیں، دوسری بار دیگر گھر والوں کے ساتھ گئے اور کِبار علمائے مکہ و مدینہ نے آپ سے سندیں و خِلافَتیں حاصل کیں اور دونوں بار نہایت ہی اِعزاز و اِکرام سے پیش آئے، دوسری بار روضہ ٔمبارکہ پر حالتِ بیداری میں حضور علیہ الصلٰوۃ و السَّلام کی زیارت سے مشرف ہوئے۔
عشقِ رسول آپ عشقِ حبیبِ خدا کا سَرتا پا نمونہ تھے، محفلِ میلاد شریف میں ادباً دو زانو بیٹھے رہتے، ہرہرادا سنتِ مصطفےٰ کے مطابق ہوتی، پاؤں پھیلا کر نہ سوتے بلکہ اس طرح سوتے کہ جسم کی ہیئت لفظِ محمدجیسی ہوجاتی، پوری زندگی حضور علیہ الصَّلٰوۃوالسَّلام کی مدح و ثنا کرتے رہے، عظیم الشان نعت گو شاعر تھے، آپ کا نعتیہ دیوان ”حدائقِ بخشش“ عشق ومحبتِ محبوبِ خدا عَلَیْہِ التَّحِیَّۃُ وَالثَّنَاء کی خوشبوؤں سے مہک رہاہے۔
عادات و اَوصاف والدین کے ایسے اِطاعت گزارکہ دوسرے حج کیلئے بِلا اجازتِ والدہ جانا گوارا نہ کیا، علمائے اَہلِ سنّت کے ساتھ نہایت ہی عزت وتکریم (Respect)سے پیش آتے، خُصُوصاً ساداتِ کرام سے بہت محبت فرماتے، مسلمانوں کی دِل جوئی،حوصلہ افزائی اور اِصلاح کا جذبہ آپ کی ذات میں کُوٹ کُوٹ کربھرا تھا، بچوں پر شفقت فرماتے، بڑوں کا احترام سکھاتے،کبھی قہقہہ نہ لگاتے، جانبِ قبلہ نہ تھوکتے نہ ہی پاؤں پھیلاتے،کبھی وقت ضائع نہ فرماتے، بعدِ عصر عام ملاقات فرماتے، اپنی ذاتی اشیاء استعمال فرماتے، کھانے پینے پہننے کی کوئی چیز کسی سے نہ مانگتے،کبھی اتنا مال جمع نہ ہونے دیا کہ زکوٰۃ فرض ہوتی، جوبھی مال آتا راہِ خدا میں خرچ کردیتے، امیر و غریب میں امتیاز کی بجائے مُسَاوات فرماتے، غریبوں کوکبھی خالی ہاتھ نہ لوٹاتے، ہمیشہ اُن کی اِمداد فرماتے، بَسا اوقات اپنے ذاتی استعمال کی اَشیاء بھی عطا فرمادیتے۔
تقویٰ وپرہیزگاری اعلیٰ حضرت نہ صرف فرائض و واجبات کی ادائیگی کے سختی سے پابند تھے، بلکہ سُنَنْ و نوافِل و مُسْتَحَبَّات کو بھی ترک نہ فرماتے، اِستنجاء وغیرہ کے سوا ہر فعل کی ابتداء سیدھی جانب(Right Side) سے فرماتے، تحریرو تقریر وغیرہ کسی بھی دِینی یا دُنیوی معاملے کے بدلے میں رقم یا ہدیہ وغیرہ قطعاًقبول نہ فرماتے، تکبر کو کبھی قریب نہ آنے دیا، ہمیشہ تواضع و عاجزی کو اختیار کیا، نہایت سادہ طبیعت کے مالک تھے، قیمتی ملبوسات وغیرہ سے بچتے، سادہ لباس زیبِ تَن فرماتے۔
قَناعَت و تَوَکُّل آپ کی خوراک بہت کم تھی، پیٹ بھرکرکھانا تناول نہ فرماتے بلکہ بسا اوقات کئی کئی ایام تک کھانا ہی نہ کھاتے، البتہ کسی دعوت پر تشریف لے جاتے تو وہاں میزبان کی دِلجوئی کی خاطر کھانا تناول فرما لیتے، آبِِ زمزم نہایت مرغوب تھا، خوب پیٹ بھرکرنوش فرماتے۔
شریعت کی پاسداری اعلیٰ حضرت ہر ہر معاملے میں شریعت کی پاسداری فرمایا کرتے، آپ کی دوستی یا بغض فقط اللہ کیلئے ہوتا تھا، کبھی کسی سے ذاتی انتقام(Revenge) نہ لیتے، بُرا بھلا کہنے والوں کو بھی معاف فرما دیتے، حُقُوقُ اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کا بھی حد دَرَجہ خیال فرماتے اگرچہ حقدار کوئی چھوٹا سا بچّہ ہی کیوں نہ ہوتا، البتہ ناموسِ رسالت کے بے باک اور نِڈَر محافظ تھے، اللہ رسول کی شان میں گستاخی کرنے والوں کی خوب پکڑ فرمائی اور اُن کے ناپاک اِرادوں کو خاک میں ملادیا اور انہیں کسی بھی طرح سَر نہ اُٹھانے دیا۔ الغرض اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ایک ہَمہ گِیرشخصیت کے مالک تھے۔
سفرِآخرت 25 صفرالمظفر 1340 ھ بمطابق 1921ء بروز جمعۃ المبارک آخری وصیتیں قلمبندکروانے کے بعد آپ اس دارِ فانی سے کوچ فرماگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ
آپ کا مزارِپُراَنوار بریلی شریف میں ہے اور25 صفر ہی کو ہر سال آپ کا یومِ عرس دُنیا بھرمیں منایا جاتا ہے۔
(ملخص ازتذکرہ امام احمد رضا، حیات اعلیٰ حضرت)
اللہ کریم ہمیں اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزت کی سچی محبت عطا فرمائے اور ان کی سیرتِ طیبہ پرعمل کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم
اعلیٰ حضرت کا بچپن
محمدعبدالماجد نقشبندی عطاری مدنی
مثالی اَوصاف سے مُزّین بَچپن اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ کو جب کسی بندےسے کوئی اہم کام لینا ہوتا ہے تو اسے بچپن (Childhood) سے ہی غیرمعمولی صلاحیتوں سے نوازتا اور ایسے اوصافِ جمیلہ سے مُزّین فرماتا ہےجن کی وجہ سے وہ بچپن ہی سے دیگر لوگوں سے ممتاز ہو جاتا ہے۔چونکہ اللہ پاک نے اعلیٰ حضرت،امامِ اہلِ سنّت،مجدّدِ دینِ ملّت امام احمدرضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن سے دین کا کام لینا تھااسی لئے آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کو بچپن ہی سے احکامِ شریعت کی پاسداری، تقویٰ و پرہیزگاری، شَرْم وحَیا، بے مثال حافظہ، اِتِّباعِ سنّت، قادرُالکلامی اور زبان میں سَلاسَت و روانی جیسی غیرمعمولی صلاحیتوں سے نوازا تھا۔آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا بچپن عام بچوں سےبالکل مختلف اور مثالی اَوصاف سے مُزّین تھا۔ ذیل میں آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے بچپن کے چند واقعات ذکر کئے جارہے ہیں جنہیں پڑھ کر اِنْ شَآءَ اللہ العَزِیْز دل میں اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی محبت مزید اُجاگر ہوگی۔
ولادت کی بشارت اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ابھی بطنِ مادر(ماں کے پیٹ) میں تھے تو آپ کے دادا جان مولانا رضا علی خان نقشبندی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے آپ کےوالد ِ ماجدمولانا نقی علی خان قادری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے ایک خواب کی تعبیر بیان کرتے ہوئے بشارت دی: اللہ پاک تمہیں ایسا بیٹا عطا فرمائے گا جو علم کے دریا بہائے گا، جس کا شُہْرہ مشرق و مغرب میں ہو گا۔(حیات ِاعلیٰ حضرت،1 /58 ملخصاً)
بڑا عالِم بننے کی بشارات اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی پیشانی پر بچپن ہی سے سعادت و وِلایَت کے آثار نمایاں تھے اس لئے اللہ والےآپ پر انوار و آثار دیکھ کر مختلف بشارتوں کا اِظہارفرماتے تھے۔ چنانچہ جب آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی ولادت ہوئی تو آپ کے دادا جان نے آپ کو گود میں لیا اور فرمایا:یہ میرا بیٹا بہت بڑا عالِم ہوگا۔ (حیات ِاعلیٰ حضرت،1/59ملخصاً) جس وقت آپ کی عمر دَس بَرس ہوئی تو ایک دن ایک بزرگ فقیر مُنَش نے دروازے پر آواز دی، آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ باہر تشریف لائے تو انھوں نے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے فرمایا: تم بہت بڑے عالِم ہو۔ (حیات ِاعلیٰ حضرت،1/63 ملخصاً)
زبان صاف تھی عام طور پر بچے جب بولنا شروع کرتے ہیں تو تُتلاتے ہیں مگر اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے جب بولنا شروع کیا تو آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی زبان صاف تھی اور عام بچو ں کی طرح زبان میں کوئی توتلاپَن نہیں تھا۔ (سیرتِ اعلیٰ حضرت، ص 35ملخصاً)
بچپن میں د ینی رُجحا ن بچوں میں عام طور پر کھیل کود کا رُجحان زياده ہوتا ہے مگر اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کو کھیل کود سے کوئی شَغَف (Interest) نہیں تھا، محلے کے بچے گھر آکر کھیلتے تو بھی آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ان کے ساتھ کھیل میں شریک نہ ہوتے۔ اس وقت بچوں میں پتنگ اُڑانے کا عام رواج تھا مگر آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نےکبھی پتنگ نہیں اڑائی۔ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا بچپن کھیل کودکے بجائے علمِ دین کے حصول میں گزرا۔ (سیرت اعلیٰ حضرت،ص 34 ملخصاً)
بچپن میں دینی سمجھ بوجھ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی بچپن سے ہی عادتِ مبارکہ تھی کہ اگر کسی کو کوئی غلطی کرتا دیکھتے تو اُس کے مرتبے اور مَنْصَب کے مطابق بِلا تکلّف دل نشین انداز میں اِصلاح فرما دیا کرتے تھے، جیسا کہ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ بچپن میں ایک مولوی صاحب کے پاس پڑھا کرتے تھے۔ایک روز مولوی صاحب حسبِ معمول پڑھا رہے تھے کہ ایک بچے نے انہیں سلام کیا، مولوی صاحب نے جواب دیا: جیتے رہو۔ اس پر آپ نے (استاد صاحب کو توجہ دلاتے ہوئے) عرض کی:یہ تو سلام کا جواب نہ ہوا، وَعَلَیْکُمُ السَّلَام کہنا چاہئے تھا۔ مولوی صاحب سُن کر بہت خوش ہوئے اور بہت دُعائیں دیں۔
(حیات ِاعلیٰ حضرت، 1/63 ملخصاً)
ننھی سی عمر میں عربی میں گفتگو اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ نے اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کو قادرُالکلامی اور زبان میں سَلاسَت و رَوَانی کی جو نعمت عطا فرمائی تھی اس کااندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتاہےکہ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نےننھی عمر میں ایک عربی شخص سے فصیح عربی زبان میں گفتگوفرمائی چنانچہ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ خود ارشاد فرماتے ہیں:میں اپنی مسجد کے سامنے کھڑا تھا اس وقت میری عمر ساڑھے تین سال کی ہوگی، ایک صاحب اہلِ عرب کے لباس میں مَلْبوس جلوہ فرما ہوئے، یہ معلوم ہوتا تھا کہ عرب ہیں، اُنہوں نے مجھ سے عربی زبان میں گفتگو فرمائی ،میں نے فصیح عربی میں اُن سےگفتگو کی، اس بزرگ ہستی کو پھرکبھی نہ دیکھا۔(حیات ِاعلیٰ حضرت، 1/62ملخصاً)
تقویٰ و پرہیز گاری میں ضربُ المثل اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ بچپن ہی سےتقویٰ و پرہیزگاری کے پَیْکر تھے۔اسی لئے آپ کی ساری زندگی کتاب و سنّت کی پیروی میں گزری۔ چنانچہ بریلی شریف کے ایک بہت بڑے زمیندار حاجی محمد شاہ خاں صاحب جو کہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے عمر میں بڑے تھے، ایک مرتبہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے ہاں جارُوْب کَشی (جھاڑو دینے کا کام) کر رہے تھے کسی نے آگے بڑھ کر اس خدمت کو انجام دینا چاہا، تو فرمانے لگے، یہ میرا فخر ہے کہ اپنے شیخ کے آستانہ عالیہ کی جارُوْب کَشی کروں۔ میں عمر میں حضور سے بڑا ہوں۔ ان کا بچپن دیکھا جوانی دیکھی اور اب بُڑھاپا دیکھ رہا ہوں، ہر حالت میں یکتائے زمانہ پایا، تب ہاتھ میں ہاتھ دیا، بڑھاپے میں تو ہر کوئی بزرگ ہو جاتا ہے، انہیں بچپن میں ضربُ المثل اور یکتائے روزگار دیکھا۔ (حیات ِ اعلیٰ حضرت، 1/64 ملخصاً)
ہر ایک کرتا تھا احترام آپ کا اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے دو بھائی اورتین بہنیں تھیں، آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ بھائیوں میں سب سے بڑے اور بہنوں سے چھوٹے تھے مگر اللہ کریم نے آپ کو عزت و وقار میں سب سے بڑا کردیا تھا، آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ اپنے بڑو ں کی عزت اور چھوٹوں پر شفقت کا برتاؤ کرتے تھے اور ہرچھوٹا بڑا آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی یکساں عزت کرتا تھا۔ (سیرتِ اعلیٰ حضرت، ص34 ملخصاً)
بچپن سے نماز کے پابند اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ بچپن سے ہی نمازِ باجماعت کے پابند تھے، بالِغ (Adult)ہونے سے قبل ہی آپ اصحابِِ ترتیب میں داخل ہو چکےتھےاور وقت ِ وفات تک صاحبِ ترتیب(1) ہی رہے۔(سیرتِ اعلیٰ حضرت،ص38 ملخصاً)
اعلیٰ حضرت کہنے کی وجہ
مفتی ہاشم خان عطاری مدنی
امام احمدرضاکواعلیٰ حضرت کیسےکہاجانےلگا؟ یہ بات روزِ روشن کی طرح عَیاں(Clear) ہےکہ نام اس لئے رکھے جاتےہیں کہ ان کے ذریعے ایک شخصیت کا دوسری سے اِمتِیاز ہوتاہے،اگرآدمی اپنے سارے بچوں کےنام ایک ہی نام پررکھ لے اور ان میں امتیاز کےلئےکوئی دوسرا لفظ استعمال ہی نہ کرے تو اس سے سامِعین و مُخاطَبِین کو جو دشواری و پریشانی ہوگی اس کا ہر ایک اندازہ کرسکتا ہے، جبکہ لوگوں کو دیئے جانےوالےاچھےالقابات عموماً ان کی ظاہری وباطنی خوبیوں اورخداداد صلاحیتوں کو دیکھ کردیئے جاتےہیں، لہٰذا جو شخص علم وعمل کا جامِع، دین ِاسلام کے لئے اپنا سب کچھ قُربان کرنے کا جذبہ رکھنے والا، خوفِ خدا اور عشقِ مُصطَفٰے جس کے راہ نُما ہوں تو پھراس کو دیئے جانے والے اَلقابات بھی ایسے ہوں جو اسے اپنے مُعاصِرین سے ممتاز کر سکیں، امامِ اہلِ سنت مُجدِّددین وملّت امام احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن کا معاملہ بھی کچھ اسی طرح ہی ہے، آپ کا گھرانہ علم دوست تھا اور آپ کے زمانے میں بھی کئی علمی شخصیات موجود تھیں لیکن ان تمام کے درمیان اللہ پاک نےآپ کو جو مَقام ومرتبہ عطا کیا تھا جب اس کاظُہورآپ کےخاندان کے افراد اور دیگر عِلمی شخصیات پر ہوا تو انہوں نے اِمتِیازی تَعارُف کے لئے آپ کو اپنی بول چال میں اعلیٰ حضرت کہناشروع کردیا، مَعارِف و کمالات اورفضائل و مَکارِم میں اپنے مُعاصِرین کےدرمیان بَرتَری کےلحاظ سےیہ لفظ اپنے مَمْدُوح کی شخصیت پر اس طرح مُنطَبِق ہوگیاکہ آج صرف پاک و ہند کےعوام وخواص ہی نہیں بلکہ ساری دنیا کے عاشقان ِرسول کی زبانوں پرچڑھ گیا اوراب قبولِ عام کی نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ کیاموافق کیا مخالف! کسی حلقے میں بھی اعلیٰ حضرت کہے بغیرشخصیت کی تعبیر (Introduction) ہی مکمل نہیں ہوتی۔ (سوانح اعلیٰ حضرت، ص5بتغیرٍقلیلٍ) جس طرح ہر پھول کوگلاب نہیں کہاجاتااسی طرح اعلیٰ حضرت کے دور میں اور بعد بھی حضرت تو بہت گُزرے اور ہیں بھی لیکن ہر ایک کو اعلیٰ حضرت نہیں کہا جاتا۔
وسوسہ اگر شیطان یہ وسوسہ دلائے کہ تم نے تو اعلیٰ حضرت کو اپنے نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سےبھی بڑھا دیا کیونکہ حضور علیہ السَّلام کوتوصرف حضرت کہا جاتا ہے جبکہ امام احمد رضاکو تم اعلیٰ حضرت کہتے ہو؟
علاجِ وسوسہ اس کےجواب سے پہلے ایک اُصول ذہن میں رکھئےکہ تَقابُل (Comparison) جب بھی ہوتا ہے تو وہ مُعاصِرین سے ہوتا ہے نہ کہ اپنے پہلے والوں سے جیسے حنفیوں کےعظیم پیشوا،ابوحنیفہ نعمان بن ثابت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کےلئے”امامِ اعظم“ کالفظ بطورِلَقب استعمال ہوتاہے،یہ ان کےہم زمانہ دیگرائمۂ اسلام کو دیکھتے ہوئے بولا جاتا ہے اگران کا تَقابُل بھی ان سے پہلے والوں سےکیاجاتاتوان کیلئے بھی امامِ اعظم بولنے پر وہی اعتراض ہوتا جو امامِ اہلِ سنّت کو اعلیٰ حضرت بولنے پر ہے حالانکہ بڑے بڑے علمائے اسلام نے اس لقب (یعنی امام اعظم) کوحنفیوں کے عظیم پیشوا ابوحنیفۃ نعمان بن ثابت کےلئے استعمال کیا ہے اور آج تک کسی اہلِ علم نے اس پر اعتراض بھی نہیں کیا، اسی طرح شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن کے لئے اعلیٰ حضرت کا لقب آپ کے ہم زمانہ لوگوں کے مُقابِل بولا جاتا ہے، لہٰذا شیطان کا اسےکِھینچ تان کر زمانۂ نبوی تک پہنچا دینا اور پھر لوگوں کو وسوسے ڈالنا اپنے اندرپائی جانے والی گندگیوں میں سے ایک گندگی کو ظاہِر کرنے کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں۔ ذیل میں اب کچھ وہ باتیں بیان کی جارہی ہیں جوکہ ہر عاشقِ رسول کو اس بات پر اُبھارتی ہیں کہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن اپنے مُعاصِرین اور بعد والوں کے لئے اعلیٰ حضرت ہی ہیں چنانچہ
اہلِ سنّت کےامام اور فتنوں کی روک تھام اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن مسلمانانِ بَرّعظيم کے دورِ اِبتِلاء کی اَہَم ترین شخصیت اور صاحبِ بَصیرت راہ نُما تھے انھوں نے جس وقت آنکھ کھولی اس وقت سارا ہند تاج ِبرطانیہ کے زیرِ نگیں تھا، اس وقت مَقامی سطح پر مسلمانوں کو اور بھی کئی طرح کی مشکلات کا سامنا تھا ان مشکلات میں سب سے زیادہ تکلیف دَہ اَمرْ یہ تھا کہ مسلمانوں کی زَبُوں حالی کو دیکھ کر کفار و مشرکین اور مُبْتَدِعِین کے کئی گروہ مسلمانوں کے بنیادی عقائد و نظریات سے لے کر فُروعات و معمولات تک میں کئی طرح کے شکوک و شبہات پیدا کر رہے تھے اور قراٰن و سنّت کے مخالف عقائد و نظریات کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے تھے، قَرْنِ اوّل سے لے کر اس دور تک جو نظریات اور معمولات بزرگانِ دین نے قراٰن و سنت کی روشنی میں درست پا کر اپنائے اوران کے مُحِبِّین و مُتَوسّلین ان پر ہر دور میں عمل پیرا رہے ان کو نہ صرف خلافِ شرع بلکہ کفر و شرک قرار دے کر اجتِماعی طور پر پوری اُمّت پر کفر و شرک کے فتوے لگانے کی کوششیں کی جا رہی تھیں، اسی طرح مُلحِدین و مُرتدین کا فتنہ بھی زوروں پر تھا اور وہ بھی مسلمانوں کے دین و ایمان پر طرح طرح سے حملے کر رہے تھے ایسے میں اعلیٰ حضرت تَنِ تنہا ان فتنوں کا مُقابلہ کرنے کے لئے میدانِ عمل میں اُترے اور قراٰن و سنّت کا جھنڈا اٹھا کر ہر فتنے کا مَردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے حق کو واضح کیا اور باطل کو باطل ثابِت کر کے مسلمانوں کے دین و ایمان کی حفاظت کے بارے میں حتَّی المقدور اور کامیاب کوششیں کر کے نہ صرف بَرِّعظیم بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں میں گھر کر لیا اور اب رہتی دنیا تک جب جب لوگ ان فتنوں کی کسی بھی نئی یا پرانی شکل کو دیکھیں گےاوراس کے مُقابِل اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے قلمی جہاد کو دیکھیں گے اور اس کی برکت سے اپنے دین و ایمان کو محفوظ رکھنے میں کامیاب رہیں گے تو اپنی نِیم شَبِی میں اور آہ ِسَحر گہی میں اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن کو بھی شکریہ کے ساتھ یاد رکھیں گے۔بَرِّعظیم کی علمی روایت کے ایک نِہایت دَرَخْشَنْدَہ ستارے اور عظیم مُحدِّث و حافظِ بخاری مولانا وَصِی احمد سُورتی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے چند جملے مسلمانان بَرِّعظیم کی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ سے نِیازمَندِی واحسان مندی کے جذبات کی نمائندگی کرتے ہیں شاگرد و خلیفۂ اعلیٰ حضرت بیان فرماتےہیں کہ ایک بار(مُحدِّث اعظم ہند) سیّد محمد مُحدِّث کچھوچھوی نے حضرت مُحدِّث سُورتی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے دریافت کیاکہ آپ کو شَرفِ بَیعَت مولاناشاہ فضلُ الرّحمٰن گنج مراد آبادی سے حاصل ہےمگرکیاوجہ ہے آپ کوجومَحبت اعلیٰ حضرت سے ہے وہ کسی دوسرے سے نہیں، اس پر مولانا وَصِی احمد سُورتی نےارشاد فرمایا سب سے بڑی دولت وہ علم نہیں ہےجومیں نے مولوی اسحاق مُحَشِّیِ بخاری سےپائی اور وہ بیعت نہیں ہے جوگنج مراد آباد میں نصیب ہوئی بلکہ وہ ایمان ہے جومَدارِنجات ہے جسےمیں نے صرف اعلیٰ حضرت سے پایا۔(حیات اعلیٰ حضرت، ص 137مفہوماً)
دیکھا جائے تو اعلیٰ حضرت کو اعلیٰ حضرت قرار دئیے جانے کے لئے یہی ایک بات کافی ہے کیونکہ اعلیٰ حضرت کا معنیٰ ہے اپنے وقت کی سب سے بڑی شخصیت اور ہم دیکھتے ہیں کہ سُطورِ بالا میں جن فتنوں کا ذکر ہوا ہے ان کی بِیخ کُنی اور عوام و خواص مسلمین کے سامنے اِحقاق ِحق و اِبطالِ باطل کے فرض کو اعلیٰ حضرت سے بڑھ کر کسی نے ادا نہیں کیا اعلیٰ حضرت نہ صرف خود اس کارِ خیر میں پوری تَن دہی سے مصروف تھے بلکہ اپنے خُلفاو تَلامذہ کو بھی اس طرف مُتوجّہ کر رکھا تھا اور باطل قوّتوں کے مُقابِل حق پَرستوں کی ایک فوج تھی جو اعلیٰ حضرت کی عِلْمِی راہ نُمائی میں حق کی خاطر اپنی زَبان اور قلم کی صلاحیَّتیں بروئے کار لارہی تھی۔
علوم وفنون کےجامع اوریادگارِسَلف لیکن اسکےساتھ ساتھ ہم دیکھتےہیں کہ اعلیٰ حضرت کی ذاتِ مُبارَکہ اور بھی اوصاف و کمالات کی جامِع تھی جن کی بنا پر اعلیٰ حضرت کو اعلیٰ حضرت یعنی اپنے زمانے کی سب سے بڑی شخصیت کہا گیا اور بَجا طور پر کہا گیا مثلاً اگر یہ دیکھیں کہ اعلیٰ حضرت جن عُلُوم و فُنُون پر دَسْتْرَس رکھتے تھے ان کے زمانے میں کوئی دوسرا آدمی ایسا نظر نہیں آتا جو اِنفرادی طور پر اتنے زیادہ علوم و فُنون پر دَسترس رکھتا ہو، قدیم فَلْسفیَانہ علوم وفُنون کی بنیاد سے لے کر ان علوم کی جدید صورتوں کی شاخوں تک اعلیٰ حضرت اس طرح کی واقفیت اور تَبَحُّر کے حامِل تھے کہ انہیں دیکھ کر ان علوم وفنون کے بانِیان و اَکابِرین کی یاد تازہ ہو جاتی تھی۔ مَنقولات یعنی قراٰن و سنّت اور ان سے اَخْذ کردہ علوم کے بارے میں بھی اعلیٰ حضرت کی وُسعتِ مطالعہ، مُجتہِدانہ بصیرت اور اِحاطۂ معلو مات کی صلاحیت دیکھنے والوں کو اَنگشت بَدَنداں کر دیتی تھی اور آج بھی ان کی کُتُب و فتاویٰ کا قاری ان اوصاف پر حَیرت زَدہ ہو کر یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ اگر ان کو اعلیٰ حضرت نہ کہا جاتا تو ان کی عظمت و شان کے اعتِراف میں بڑی کمی رَہ جاتی ۔
امام احمدرضابطوراعلیٰ حضرت اہلِ علم کی نظرمیں سُطورِ بالا میں امامِ اہلِ سنّت کی جن چند ایک خُصوصیات کا ذکر کیا گیا ہے ان کا اوران کےعلاوہ دیگرخصوصیات کااعتِراف ہر دور کے اہلِ علم نے کیا ہے اور سیّدی اعلیٰ حضرت کی خدمت میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے، یاد رہے کہ یہ سِلسلہ فقط بَرِّعظیم کے علما تک محدود نہیں تھا بلکہ عرب و عَجَم میں جہاں جہاں اس گلِ سَرسبز کی خوشبو پہنچی وہاں وہاں سے تعریف و توصیف کے نذرانے آپ کی بارگاہ میں پیش کئے گئے،ذیل میں پہلے عرب دنیا کےاورپھر بَرِّعظیم کے فقط چند اہلِ علم کے تعریفی کلمات ملاحظہ فرمائیے جو اس بات کا بَیِّن ثُبوت ہیں کہ اعلیٰ حضرت صرف ایک آدھ فرد کی نظر میں اعلیٰ حضرت نہیں تھے بلکہ عرب وعجم کے اہلِ علم ان کی زُلفِ طَرَحدارِعلم وفضل کے اَسِیرتھے ۔(1)شیخ عبداللہ نابْلُسی مدنی فرماتے ہیں : وہ نادرِ روزگار، اس وقت اور اس زمانے کا نور، معزّز مَشائخ اور فُضَلا کا سردار اور بلا تأمل زمانے کا گوہرِ یَکتا۔ (سرتاج الفقہا، ص7) (2) دمشق کے علامہ شیخ محمد القاسمی تحریر فرماتے ہیں : آپ فضائل و کمالات کے ایسے جامع ہیں جن کے سامنے بڑے سے بڑا ہیچ ہے، وہ فضل کے باپ اور بیٹے ہیں، ان کی فضیلت کا یقین دشمن اور دوست دونوں کو ہے ان کی مثال لوگوں میں بہت کم ہے۔(ایضاً، ص8) (3)شیخ محمد بن عطارد الجاوی فرماتے ہیں : بے شک اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ اس زمانے میں علمائے محققین کے بادشاہ ہیں اور ان کی ساری باتیں سچی ہیں گویاوہ (یعنی ان کا کلام ) ہمارے نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے معجزات میں سے ایک معجزہ ہے جو اللہ کریم نے ان کے ہاتھ پر ظاہر فرمایا۔(فاضل بریلوی علمائے حجاز کی نظر میں ، ص28) (4)ڈاکٹر مفتی سیّد شجاعت علی قادری فرماتے ہیں: اعلیٰ حضرت میں امام احمد بن حنبل اور شیخ عبدا لقادر جیلانی کا سا زہدو تقویٰ تھا، ابوحنیفہ اور ابو یوسف کی سی ژرْف نِگاہی (گہری نظر) تھی ، رازی و غزالی کا سا طَرزِ استدلال تھا، وہ مُجدِّدِ اَلفِ ثانی اور منصور حَلَّاج کا سا اِعلائے کلمۃُ الحق کا یارا رکھتا تھا، دشمنانِ اسلام کیلئے اَشِدّاءُ عَلَی الْکُفَّار کی تفسیر اور عاشقانِ مصطفیٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کے لئے رُحَمَاءُ بَیْنَہُمْ کی تصویر تھا۔ (فاضلِ بریلوی اور ترکِ موالات، ص53) (5) بَرِّعظیم کے معروف مؤرِّخ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی بیان کرتے ہیں: حضرت مولانا احمد رضا خان کے متعلق میں صرف اس قدر کہنے پر کفایَت کرتا ہوں کہ عُلوم ِدینیہ میں انھیں جو دَسترس حاصل تھی وہ فی زمانہ فقیدُ المثال تھی دوسرے علوم میں بھی یَدِ طُولیٰ حاصل تھا۔( خیابان رضا، ص 43بتغیرٍقلیلٍ)
1 جس شخص کی پانچ نمازیں یا اس سے کم قضا ہوں یا ایک نماز بھی قضانہ ہوئی ہو اس کو صاحبِ ترتیب کہتے ہیں اس پر لازم ہے کہ وقتی نماز سے پہلے قضا نمازوں کو پڑھ لے اگر وقت میں گنجائش ہوتے ہوئے اور قضا نماز کو یاد رکھتے ہوئے وقتی نماز کو پڑھ لے تو یہ نماز نہیں ہوگی۔ ( جنتی زیور، ص313)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع