دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Zakat | فیضان زکٰوۃ

book_icon
فیضان زکٰوۃ

جواب : جی ہاں۔(الفتاوی الھندیہ، کتاب الزکاۃ، الباب السادس ، ج ۱ ص ۱۸۶ )

 کس پیداوار پر عشرواجب نہیں ؟

سوال : کن فصلوں پر عشر واجب نہیں ؟

جواب :  جو چیزیں ایسی ہوں کہ ان کی پیداوار سے زمین کا نفع حاصل کرنا مقصود نہ ہوان میں عشر نہیں جیسے ایندھن ، گھاس، بید، سرکنڈا، ، جھاؤ(وہ پودا جس سے ٹوکریاں بنائی جاتی ہیں )، کھجورکے پتے وغیرہ، ان کے علاوہ ہر قسم کی ترکاریوں اور پھلوں کے بیج کہ ان کی کھیتی سے ترکاریاں مقصود ہو تی ہیں بیج مقصود نہیں ہوتے اورجو بیج دوا کے طور پر استعمال ہوتے ہیں مثلاًکندر ، میتھی اورکلونجی وغیرہ کے بیج، ان میں بھی عشر نہیں ہے ۔ اسی طرح وہ چیزیں جو زمین کے تا بع ہوں جیسے درخت اور جو چیزدرخت سے نکلے جیسے گوند ‘اس میں عشر واجب نہیں۔

           البتہ اگرگھاس ، بید ، جھاؤ(وہ پودا جس سے ٹوکریاں بنائی جاتی ہیں )وغیرہ سے زمین کے منافع حاصل کرنا مقصود ہو اور زمین ان کے لئے خالی چھوڑ دی تو ان میں بھی عشر واجب ہے ۔کپاس اور بینگن کے پودوں میں عشر نہیں مگران سے حاصل کپاس اور بینگن کی پیداوار میں عشر ہے ۔(در مختار، کتاب الزکوٰۃ ، باب العشر، ج۳، ص۳۱۵، الفتاوی الھندیہ ، کتاب الزکوۃ، الباب السادس فی زکوۃ زرع، ج۱، ص۱۸۶ )

   عشر واجب ہو نے کے لئے کم ازکم  مقدار

سوال : عشر واجب ہو نے کے لئے غلہ ، پھل اورسبزیوں کی کم ازکم کتنی مقدار ہوناضروری ہے ؟

جواب : عشر واجب ہو نے کے لئے ان کی کوئی مقدار مقرر نہیں ہے بلکہ زمین سے غلہ ، پھل اورسبزیوں کی جتنی پیداوار بھی حاصل ہو اس پر عشر یا نصف عشر دینا واجب ہو گا۔(الفتاویٰ الھندیۃ، المرجع السابق)

پاگل اورنابا لغ  پر عشر

سوال : اگر ان کی پیداوار کا مالک پاگل اورنابالغ ہوتو اس کو بھی عشر دینا ہوگا؟

جواب : عشر چونکہ زمین کی پیداوار پر ادا کیا جاتاہے لہذا جو بھی اس پیداوار کا مالک ہوگا وہ عشر ادا کرے گا چاہے وہ مجنون (یعنی پاگل)اور نابالغ ہی کیوں نہ ہو۔

(الفتاوی الھندیہ ، کتاب الزکوۃ، الباب السادس فی زکوۃ زرع، ج۱، ص۱۸۵ ، ملخصاً)

 قرض دار پر عشر

سوال : کیا قرض دارکو عشر معاف ہے ؟

جواب :  قرض دار سے عشر معاف نہیں ، اس لئے اگرقرض لے کر زمین خریدی ہو یاکاشت کا رپہلے سے مقروض ہویاقرض لے کر کاشت کاری کی ہوان سب صورتوں میں قرض دار پر بھی عشر واجب ہے ۔‘‘(الدرالمختار وردالمحتار، کتاب الزکوۃ، باب العشر، ج۳، ص۳۱۴)

           علامہ عالم بن علاء الانصاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ ’’زکوۃ کے برخلاف عشر مقروض پر بھی واجب ہوتا ہے ۔ ‘‘ (فتاوی تاتار خانیہ، کتاب العشر، ج۲، ص۳۳۰)

شرعی فقیر پر عشر

سوال : کیا شرعی فقیر پر بھی عشر واجب ہوگا؟

جواب : جی ہاں ، شرعی فقیر پر بھی عشرواجب ہے کیونکہ عشر واجب ہونے کا سبب زمین ِنامی (یعنی قابل ِ کاشت)سے حقیقتاًپیداوار کا ہونا ہے ، اس میں مالک کے غنی یا فقیر ہونے کا کوئی اعتبار نہیں۔ (ماخوذ من العنایۃ والکفایۃ، کتاب الزکوۃ، باب زکاۃالزروع، ج۲ص۱۸۸)

عشر کے لئے سال گزرنا شرط ہے یا نہیں ؟

سوال : کیا عشر واجب ہونے کے لئے سال گزرنا شرط ہے ؟

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن