30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہیں کہ قرض خواہ کواختیار ہے زید سے مطالبہ کرے اورروپے نہ ملنے پر یہ اختیار ہے کہ زید کوقید کرا دے تویہ روپے دَین میں مُسْتَغْرَق ہیں ، لہٰذا زکوٰۃ واجب نہیں۔
(ردالمحتار، کتاب الزکاۃ، مطلب : الفرق بین السبب والشرط والعلۃ، ج۳، ص۲۱۰)
کیا ہرطرح کا دَین وجوبِ زکوٰۃمیں رکاوٹ بنے گا؟
جس دَین (یعنی قرض وغیرہ)کا مطالبہ بندوں کی طرف سے نہ ہو اس کا اس جگہ اعتبار نہیں یعنی وہ مانع ِزکوٰۃ نہیں مثلاً نذر وکفارہ و صدقۂ فطر و حج و قربانی کہ اگر ان کے مصارف نصاب سے نکالیں تو اگرچہ نصاب باقی نہ رہے زکوٰۃ واجب ہے ۔ (الدرالمختار وردالمحتار، کتاب الزکاۃ، مطلب : الفرق بین السبب والشرط والعلۃ، ج۳، ص۲۱۱۔ وغیرھما)
سال گزرنے کے بعد مقروض ہو گیا تو؟
اگرنصاب پرسال گزرنے کے بعدمقروض ہوگیاتو زکوٰۃادا کرنا ہوگی کیونکہ قرض اس وقت زکوٰۃ کی ادائیگی میں مانع (رکاوٹ )ہو گا جب زکوٰۃ فرض ہونے سے پہلے کا ہو اگر نصاب پر سال گزرنے کے بعد مقروض ہوا تو اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے ۔ (ردالمحتار، کتاب الزکوٰۃ، مطلب فی زکوٰۃ ثمن المبیع، ج۳، ص۲۱۵)
عورتوں کا مہر عموماً مؤخر ہوتا ہے یعنی جن کا مطالبہ بعد ِ موت یا طلاق کے بعد ہی کیا جاتا ہے ۔ مرد کو اپنے تمام مصارِف (یعنی اخراجات)میں یہ خیال تک نہیں آتا کہ مجھ پر دَین (یعنی قرض )ہے ، اس لئے ایسا مہر زکوٰۃ کے واجب ہونے میں رکاوٹ نہیں ہے چنانچہ جس کے ذمے مہر ہو اس پر دیگر شرائط پوری ہونے پر زکوٰۃ فرض ہوجائے گی ۔(ماخوذ ازالفتاوی الھندیۃ، کتاب الزکوٰۃ ، الباب الاول ، ج۱، ص۱۷۳)
مہر دو قسم کا ہوتا ہے ، مُعَجَّل (یعنی خلوت سے پہلے مہر دینا قرار پایا ہے )اور غیرِ مُعَجَّل(جس کے لئے کوئی میعاد مقرر ہو)، اگر عورت کا مہر معجل نصاب کے بقدر ہو تواس کا کم از کم پانچواں حصہ وصول ہونے پر اس کی زکوٰۃ ادا کرنا واجب ہو گا اور غیر معجل مہر میں عموماًادائیگی کا وقت طے نہیں ہو تا اور اس کا مطالبہ عورت طلاق یا شوہر کی موت سے پہلے نہیں کر سکتی۔ اس پروصول کرنے کے بعد شرائط پوری ہونے کی صورت میں زکوٰۃ فرض ہوگی ۔(ماخوذ از فتاویٰ رضویہ مُخَرَّجَہ، ج۱۰، ص۱۶۹)
بیوی اور شوہر کا معاملہ دنیاوی اعتبار سے کتنا ہی ایک کیوں نہ ہو مگر زکوٰۃ کے معاملے میں جدا جدا ہیں ، لہٰذا، شوہر پر چاہے کتنا ہی قرض ہو شرائطِ وجوبِ زکوٰۃ پوری ہونے پر بیوی پر زکوٰۃ واجب ہوجائے گی ۔(فتاویٰ رضویہ مُخَرَّجَہ، کتاب الزکوٰۃ، ج۱۰، ص۱۶۸ملخصاً)
ہماری جو رقم کسی کے ذمے ہو اسے دَین کہتے ہیں اس کی 3 قسمیں ہیں اور ہر ایک کا حکم الگ الگ ہے :
(۱)دَین قوِی :
دین قَوِی اسے کہتے ہیں جو ہم نے کسی کو قرض دیا ہوا ہو، …یاتجارت کا مال اُدھاربیچا ہو، …یاکوئی زمین یا مکان تجارت کی غرض سے خرید کر کرائے پر دیا اور وہ کرایہ کسی کے ذمے ہو ۔
حکم : اس کی زکوٰۃ ہرسال فرض ہوتی رہے گی لیکن ادا کرنا اس وقت واجب ہو گا جب مقدارِ نصاب کا کم ازکم پانچواں حصہ وصول ہوجائے تو اس پانچویں حصے کی زکوٰۃ دینا ہوگی ، مثلاً 50,000روپے نصاب ہو تو جب اس کا پانچواں حصہ 10,000روپے وصول ہوجائیں تو اس کا چالیسواں حصہ 250روپے بطورِ زکوٰۃ دینا واجب ہوگا۔البتہ آسانی اس میں ہے کہ ہر سال اس کی بھی زکوٰۃ ادا کر دی جا ئے ۔
(۲)دَین مُتَوَسِّط :
دَین مُتَوَسِّط اسے کہتے ہیں جو غیرتجارتی مال کا عوض یا بدل ہو جیسے گھر کی کرسی یا چارپائی یا دیگر سامان بیچا اور اس کی قیمت لینے والے پر اُدھار ہو۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع