30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
واپسی کے بعد...
اس صلح کے بعد چونکہ کُفّارِ قُرَیش کی جانِب سے جنگ وجِدال کے خطرات ٹل گئے تھے اور ایک طرح سے اَمْن وسُکُون کی فِضا پیدا ہو گئی تھی اس لئے اب سیِّدُ الْاَنبیا، محبوبِ کِبْرِیا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دُور دَراز کے علاقوں میں بسنے والے لوگوں کو بھی اِسْلام کی دعوت دینے کا اِرادہ فرمایا کیونکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نبوت ورِسَالَت کسی ایک علاقے، شہر اور ملک میں مَحْدُوْد نہیں بلکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نبوت ورِسَالت کا دائرہ تو تمام عالَم کا اِحاطہ کئے ہوئے ہے، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تمام مخلوقات کے نبی ہیں اور کائنات کی کوئی شے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نبوت ورِسَالت پر ایمان لانے سے بےنیاز نہیں۔ چنانچِہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے عرب وعجم کے مختلف سَلَاطِیْن اور بادشاہوں کی طرف خُطُوط روانہ فرمائے اور اُنہیں اِسْلام کی طرف بُلایا۔ صلح حدیبیہ کے بعد بادشاہوں کو دعوتِ اسلام دینے کے علاوہ اور بھی کئی واقعات پیش آئے جن میں سے ایک مشہور واقعہ غزوۂ خیبر اور اس کے بعد حضرتِ صفیہ بنتِ حیی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے نِکاح کا ہے۔ بہرحال وَقْت رفتہ رفتہ گزرتا رہا اور آیندہ سال روانگی کے دِن قریب آتے رہے اور پھر انتظار کے دن بِیْت (گزر) گئے اور وہ سُہَانی گھڑی بھی آ ہی گئی جب ماہِ ذُوْ القعدۃُ الْحَرَام سات۷ ہجری کا چاند نظر آتے ہی طیبہ کے چاند صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان كو رَخْتِ سفر باندھنے کا فرمایا اور عمرہ کی تیاری کرنے کا حکم دیا۔
رِوَایت میں ہے کہ جب ذُوْالقعدۃُ الْحَرَام کا چاند نظر آیا تو شاہِ بحر وبر، محبوبِ ربِّ اکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے اَصْحاب رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کو حکم فرمایا کہ ” اپنے گُزَشتہ عمرے کی قضا کریں اور جو لوگ حدیبیہ میں مَوْجود تھے اُن میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہے۔ “ فرمانِ رسول پر لبیک کہتے ہوئے سب ہی عمرے کے لئے نکل کھڑے ہوئے سِوائے اُن حضرات کے جو غزوۂ خیبر میں جامِ شہادت نَوش فرما چکے تھے یا جن کا انتقال ہو چکا تھا، بہت سارے وہ لوگ بھی ان کے ساتھ ہو لئے جو حدیبیہ میں مَوْجود نہ تھے۔ اس طرح عورتوں اور بچوں کے سِوا کُل تعداد دو۲ ہزار (2,000) تک پہنچ گئی۔ ([1]) پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مَدِیْنَۃُ الْمُنَوَّرَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا پر حضرتِ ابورُہْم کلثوم بن حصین غِفَاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ یا کسی اور صحابی کو اپنا خلیفہ ونائب مُقَرَّر کیا اور جانِبِ مکہ سفر کا آغاز فرما دیا۔ ([2])
حضرتِ عبّاس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کی درخواست
اس سفر کا ایک مشہور واقعہ شہنشاہِ ذِی وَقار، محبوبِ رَبُّ العباد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا حضرتِ میمونہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے نِکاح فرمانا ہے جس کی وجہ سے اس سفر کی شہرت میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے چنانچہ جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو شرفِ ہم راہی سے نوازتے ہوئے جُحْفَہ ([3]) کے مقام پر پہنچے تو یہاں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے چچا حضرتِ عبّاس بن عَبْدُالْمُطَّلِب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُمَا نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ملاقات کی اور حضرتِ میمونہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے حالات کے بارے میں بتاتے ہوئے عرض کیا کہ اُن کے شوہر کا انتقال ہو گیا ہے اور پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اُن سے نِکاح کی درخواست کی۔ ([4]) آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے قبول فرما لیا۔
حضرتِ میمونہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو پیغامِ نِکاح
ایک رِوَایَت کے مُطَابِق جب سرورِ دوعالَم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یَاْجَج ([5]) کے مقام پر پہنچے تو یہاں سے حضرتِ جعفر بن ابوطالِب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کو حضرتِ میمونہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی طرف بھیجا تا کہ وہ اِنہیں سرکارِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے نِکاح کا پیغام دیں۔ ([6]) مروی ہے کہ جس وَقْت اِنہیں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف سے نِکاح کا پیغام پہنچا اُس وَقْت یہ اُونٹ پر سوار تھیں، یہ جاں اَفْرَوز خبر پا کر خود کو پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے ہبہ کرتے ہوئے کہنے لگیں: ” اَلْبَعِيْرُ وَمَا عَلَيْهِ لِلّٰهِ وَلِرَسُوْلِهٖ اُونٹ اور جو اس پر ہے خُدا عَزَّ وَجَلَّ اور اُس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ہے۔ “ ([7]) اس پر اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی نے یہ آیَتِ مُبَارَکہ نازِل فرمائی: ([8] )
وَ امْرَاَةً مُّؤْمِنَةً اِنْ وَّهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِیِّ اِنْ اَرَادَ النَّبِیُّ اَنْ یَّسْتَنْكِحَهَاۗ-خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَؕ- (پ۲۲، الاحزاب: ۵۰)
ترجمۂ کنزالایمان: اور ایمان والی عورت اگر وہ اپنی جان نبی کی نذر کرے اگر نبی اسے نِکاح میں لانا چاہے یہ خاص تمہارے لئے ہے اُمّت کے لئے نہیں۔
مروی ہے کہ حضرتِ میمونہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے اپنا مُعَامَلہ حضرتِ عبّاس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کے سپرد کر (کے اُنہیں اپنے نِکاح کا وکیل بنا) دیا، پھر حضرتِ عبّاس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ نے حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ ان کا نِکاح کر دیا ([9]) اور چار۴ یا پانچ۵ سو دِرْہَم مہر مُقَرَّر کیا۔ ([10])
حُضُور شہنشاہِ موجودات، باعِثِ خَلْقِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سفر کی تمام مَنَازِل طے کر کے چار۴ ذُوْالقعدۃُ الْحَرَام کی صبح کو مکہ شریف پہنچے۔ ([11]) جب یہ حضراتِ قدسیہ مَکَّۃُ الْمُکَرَّمَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا میں داخِل ہوئے تو کفر وشرک کی نجاست سے آلود کُفّار ومُشْرِکِیْن کے دِل غیظ وغضب سے بھر گئے، اِسْلام اور پیغمبر اِسْلام کے خِلَاف اُن کے دِلوں میں جو نفرت وعداوت کی آگ جل رہی تھی اور زِیادہ بھڑک اُٹھی حتی کہ رِوَایَت میں ہے کہ مُشْرِکِیْن کے سرداروں میں سے بعض بدبخت غیظ وغضب اور حسد کی وجہ سے دُور چلے گئے تا کہ جانِ رَحْمَت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو نہ دیکھ پائیں۔ بہرحال سیِّدِ عالَم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تین۳ روز تک مَکَّۃُ الْمُکَرَّمَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا میں قیام فرمایا۔ ([12] ) چوتھے دن ظہر کے وَقْت سُھَیْل بن عَمْرو اور حُوَیْطِب بن عَبْدُالْعُزّٰی آئے، اس وَقْت پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم انصار کی مجلس میں تشریف فرما تھے اور حضرتِ سَعْد بِن عُبَادَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے گفتگو کر رہے تھے، وہ آ کر کہنے لگے: آپ کی مدت ختم ہو گئی ہے لہٰذا ہمارے پاس سے چلے جائیے۔ نبی محترم، شفیع معظم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اگر تم مجھے کچھ دیر اور رہنے دو تا کہ میں یہاں رَسْمِ عَرُوْسِی ادا کر سکوں تو اس میں تمہارا کیا جاتا ہے، نیز اس کے بعد میں تمہارے لئے کھانے کا بھی اہتمام کروں گا...؟ اُنہوں نے کہا: ہمیں آپ کے کھانے کی کوئی حاجت نہیں، بس! ہمارے ہاں سے چلے جائیے، اے مُحَمَّد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) ! ہم آپ کو اللہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع