دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Ummahatul Momineen | فیضانِ اُمَّہاتُ المؤمنین رضی اللہ تعالٰی عَنْہُنَّ

book_icon
فیضانِ اُمَّہاتُ المؤمنین رضی اللہ تعالٰی عَنْہُنَّ

سیِّدَتُنا زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کیپاکیزہ حَیَات کے چند نُمایاں پَہْلو

٭ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا حُضُور سیِّد المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زوجۂ مطہرہ اور اُمُّ المؤمنین  (تمام مؤمنوں کی امی جان)  ہیں۔

٭ رسولِ کریم،  رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا نِکاح خود ربّ تعالیٰ نے فرمایا اور حضرتِ سیِّدُنا جبریل امین عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اس نِکاح کے گواہ ہیں۔

٭ جب رسولِ خُدا،  احمدِ مجتبیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے نِکاح کے بعد ولیمہ فرمایا تو اس موقعے پر آیتِ حجاب نازِل ہوئی جس سے غیر محرم عورتوں اور مردوں کے درمیان پردہ فرض ہو گیا۔

٭ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے نانا جان اور رسولِ خدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دادا جان ایک ہی شخص حضرتِ سیِّدُنا عبد المطلب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ ہیں۔

٭ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا اَلسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں سے ہیں۔ ([1])

٭ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے حبشہ کی طرف دونوں ہجرتوں اور ان کے بعد ہجرتِ مدینہ میں بھی شرکت فرمائی۔ ([2])  

٭ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دنیا سے ظاہِری پردہ فرمانے کے بعد ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ میں سے سب سے پہلے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا انتقال ہوا۔ ([3])  

سفرِ آخِرَت

رسولِ خُدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیشین گوئی

پیاری پیاری اسلامی بہنو!  انسانی فطرت ہے کہ انسان ہر تکلیف دہ چیز کو ناپسند کرتا اور اس سے دُور بھاگتا ہے لیکن جب کوئی تکلیف محبوب کا قرب پانے اور اس سے ملاقات کا ذریعہ ہو تو پھر یہ دُکھ نہیں بلکہ کیف وسُرور دیتی ہے یہی وجہ ہے کہ موت کے نہایت تکلیف دہ شے ہونے کے باوجود اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کے برگزیدہ بندوں کو اس کا شدت سے انتظار رہتا تھا کیونکہ دنیا ان کے لئے قید خانہ اور موت اس قید سے رہائی کا پروانہ ہوا کرتی ہے نیز یہ پیارے آقا،  مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے وِصال  (ملاقات)  کا ذریعہ بھی ہے،  اسی لئے رسولِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس دنیا سے پردۂ ظاہِری فرما جانے کے بعد آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ازواجِ پاک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ کو شدت سے اس کا انتطار رہا اور یہ جاننے کے لئے کہ کون آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ سب سے جلد ملیں گی،  وہ اپنے ہاتھوں کو آپس میں ناپا کرتی تھی کیونکہ انہیں ان کے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ غیبی خبر دی تھی کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ سب سے پہلے وہ زوجہ مطہرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا ملیں گی جن کے ہاتھ سب سے لمبے ہیں چنانچہ ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ نے اس فرمانِ عالی کا ظاہِری معنیٰ مراد لے کر اپنے ہاتھوں کو ناپنا شروع کر دیا لیکن جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد سب سے پہلے حضرتِ سیِّدَتُنا زینب بنتِ جحش رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا انتقال ہوا تب انہیں معلوم ہوا کہ لمبے ہاتھوں سے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مراد زیادہ صدقہ کرنا تھی جیساکہ بخاری شریف میں اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے رِوایت ہے کہ رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی کسی زوجہ مطہرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عرض کی:  ہم میں سے کون سب سے پہلے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ملے گی؟ فرمایا:  جس کے ہاتھ سب سے لمبے ہیں۔ انہوں نے چھڑی لے کر ہاتھوں کو ناپا تو حضرتِ سیِّدَتُنا سَودہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے ہاتھ سب سے لمبے نکلے لیکن بعد میں ہم نے جانا کہ لمبے ہاتھوں سے مراد زیادہ صدقہ دینا تھا اور ہم میں سب سے پہلے وہی  (حضرتِ زینب بنتِ جحش رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا)  رسولِ اکرم،  نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ملیں۔ ([4])  

انتقالِ پُرملال

رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پردۂ ظاہِری فرمانے کے تقریباً  10سال بعد 20ھ کو زمانۂ خلافتِ فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے پیکِ اجل کو لبیک کہا اور اس دارِ ناپائیدار سے رخصت ہو کر اپنے آخرت کے سفر کا آغاز فرمایا۔ انتقال سے پہلے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے چند وصیتیں کیں،  فرمایا:  میں نے اپنا کفن تیار کر رکھا ہے،  ہو سکتا ہے کہ حضرتِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ بھی کفن بھیجیں اگر وہ بھیجیں تو کسی ایک کو صدقہ کر دینا اور مجھے قبر میں اتارنے کے بعد اگر میرا پٹکا بھی صدقہ کر سکو تو کر دینا۔  مزید فرمایا کہ مجھے رسولِ کریم،  رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی چارپائی پر اٹھایا جائے اور اس پر نَعْش ([5])  بنائی جائے۔ جب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا انتقال ہو گیا تو امیر المؤمنینحضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ نے خزانے میں سے کفن کے لئے کپڑے بھیجے انہیں میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو کفن دیا گیا اور جو کفن آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے خود تیار کر رکھا تھا آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی بہن حضرتِ سیِّدَتُنا حمنہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے حسبِ وصیت اسے صدقہ کر دیا۔ ([6])  

قبر پر نصب ہونے والا پہلا خیمہ

جس دن اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا زینب بنتِ جحش رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا انتقال ہوا تھا وہ شدید گرمی کا دِن تھا اس لئے پہلی مرتبہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی تُرْبَت مُبَارَک پر خیمہ لگایا گیا چنانچہ رِوَایَت میں ہے کہ جب حضرتِ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ قبر بنانے والوں کے پاس سے گزرے جو سخت گرم دِن میں حضرتِ سیِّدَتُنا زینب بنتِ جحش رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے لئے قبر بنا رہے تھے تو فرمانے لگے کہ مجھے ان پر خیمہ لگا دینا چاہئے۔ یہ پہلا خیمہ تھا جو جَنَّتُ الْبَقِیْع میں کسی قبر پر لگایا گیا۔ ([7])  

حضرتِ ابواحمد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کی عقیدت ومحبت

جب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا جنازہ لے جایا گیا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے بھائی حضرتِ سیِّدنا ابواحمد بن جحش رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ نے بھی چارپائی کو اُٹھا رکھا تھا اورروتے جا رہے تھے،  یہ نابینا تھے،  حضرتِ سیِّدُنا عُمَر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ نے ان سے فرمایا:  اے ابواحمد!  آپ چارپائی سے دُور ہو جائیے تاکہ چارپائی پر لوگوں کی بھیڑ آپ کو مشقت میں نہ ڈالے۔ حضرتِ ابواحمد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ نے فرمایا:   ” یَاعُمَرُ!  ھٰذِہِ الَّتِیْ نِلْنَا بِھَا کُلَّ خَیْرٍ وَّاِنَّ ھٰذَا یُبَرِّدُ حَرَّ مَا اَجِدُ اے عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ!  یہ وہ ہیں کہ ہمیں ہر بھلائی انہیں کے وسیلے سے ملی ہے اور ان کے جنازے کی چارپائی کو اُٹھا کر چلنا اس دُکھ کی گرمی کو ٹھنڈا کر دے گا جو میں ان کی جدائی کی وجہ سے محسوس کرتا ہوں۔ “  ایک بھائی کے اپنی بہن کے ساتھ یہ پیار ومحبت اور عقیدت بھرے جذبات دیکھ کر حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ نے فرمایا:  پکڑے رکھو،  پکڑے رکھو۔ ([8])  

 



[1]   اسی کتاب کا صفحہ نمبر 24 ملاحظہ کیجئے۔

[2]   اسد الغابة، باب العين، ۲۸۵۸-عبد الله بن جحش، ۳

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن