دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Ummahatul Momineen | فیضانِ اُمَّہاتُ المؤمنین رضی اللہ تعالٰی عَنْہُنَّ

book_icon
فیضانِ اُمَّہاتُ المؤمنین رضی اللہ تعالٰی عَنْہُنَّ

چند مَدَنی پھول

پیاری پیاری اسلامی بہنو!  حضرتِ سیِّدَتُنا زینب بنتِ جحش رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے نِکاح کے واقعے سے ہمیں دَرْج ذیل مَدَنی پُھول چننے کو ملے:

٭ معلوم ہوا کہ بارگاہِ ربِّ ذُوْالجلال میں رسولِ نامدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شان بہت اَرْفَع و اعلیٰ ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  نے اپنے پیارے محبوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے فیصلے کو اپنا فیصلہ فرمایا اور حُضُور کے حکم فرمانے پر مُبَاح کام کو بھی فرض قرار دیا چنانچہ  میرے آقا اعلیٰ حضرت،  امامِ اہلسنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃ ُالرَّحْمٰن اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:   ” ظاہِر ہے کہ کسی عورت پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کی طرف سے فرض نہیں کہ فُلاں سے نِکاح پر خواہی نخواہی راضی ہو جائے خُصُوصاً جبکہ وہ اس کا کفو نہ ہو،  خُصُوصاً جبکہ عورت کی شرافتِ خاندان کواکِبِ ثُرَیَّا سے بھی بلند وبالاتر ہو،  بایں ہمہ  (ان تمام باتوں کے باوجود)  اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا دیا ہوا پیام نہ ماننے پر ربُّ الْعِزّت جَلَّ جَلَالُہٗ نے بِعَیْنِهٖ وہی الفاظ اِرشاد فرمائے جو کسی فرضِ اِلٰہ  (اللہ تعالیٰ کے فرض)  کے ترک پر فرمائے جاتے اور رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نامِ پاک کے ساتھ اپنا نامِ اقدس بھی شامِل فرمایا یعنی رسول جو بات تمہیں فرمائیں وہ اگرہمارا فرض نہ تھی تو اب ان کے فرمانے سے فرضِ قطعی ہو گئی،  مسلمانوں کو اس کے نہ ماننے کا اَصْلاً  (بالکل بھی)  اِختِیار نہ رہا،  جو نہ مانے گا صریح گمراہ ہوجائے گا،  دیکھو!  رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حکم دینے سے کام فرض ہو جاتا ہے اگرچہ فِیْ نَفْسِهٖ خدا عَزَّ وَجَلَّ کا فرض نہ تھا ایک مُبَاح وجائز اَمْر تھا۔ ([1])  

؏جتنا مِرے خُدا کو ہے میرا نبی عزیز

کونین میں کسی کو نہ ہو گا کوئی عزیز

جو کچھ تِری رِضا ہے خُدا کی وہی خوشی

جو کچھ تیری خوشی ہے خُدا کو وہی عزیز

محشر میں دو جہاں کو خُدا کی خوشی کی چاہ

میرے  حُضُور  کی  ہے  خُدا  کو  خوشی  عزیز ([2])

٭ یہ مَدَنی پُھول بھی حاصِل ہوا کہ اسلام میں کسی کو کسی پر رنگ ونسل اور علاقے کی بنیاد پر فضیلت حاصِل نہیں بلکہ اسلام میں فضیلت کا مِعْیَار تقویٰ ہے چنانچہ اللہ جَلَّ جَلَالُہٗ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:

اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ-  (پ۲۶،  الحجرات: ۱۳)

ترجمۂ کنزالایمان:  بے شک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے۔

معلوم ہوا کہ کسی گورے کو کالے پر یا کالے کو گورے پر،  کسی عربی کو عجمی پر یا عجمی کو عربی پر،  کسی آزاد کو غلام پر یا غلام کو آزاد پر رنگ اور نسل کی بنیاد پر کچھ فضیلت نہیں ہے بلکہ ان میں جو بڑا متقی ہے وہی افضل بھی ہے۔ اس کا عملی اِظْہَار رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی پھوپھی کی بیٹی کا نِکاح ایک آزاد کردہ غلام کے ساتھ کر کے فرمایا جس سے غلاموں کو نیچ تَصَوُّر کرنے کی نِہَایَت قبیح سوچ کی کاٹ بھی ہو گئی۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب!                                    صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

کاشانۂ نَبَوِی میں...

رسولِ خدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا پیغامِ نِکاح

حضرتِ سیِّدُنا زید بن حارِثہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کے طلاق دینے کے بعد جب حضرتِ سیِّدَتُنا زینب بنتِ جحش رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی عدت پوری ہو چکی تو سیّدِ عالَم،  نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کی طرف نِکاح کا پیغام بھیجا اور اس کے لئے حضرتِ سیِّدُنا زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کو ہی منتخب فرمایا تا کہ لوگ یہ گمان نہ کریں کہ یہ عَقْد زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کی رضا مندی کے بغیر زبردستی واقِع ہوا ہے اور انہیں یہ معلوم ہو جائے کہ زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کے دل میں زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی خواہش نہیں ہے چنانچہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرتِ زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ سے فرمایا کہ جاؤ اور زینب کو میری طرف سے نِکاح کا پیغام دو۔حضرتِ سیِّدُنا زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ وہاں سے چلے جب حضرتِ سیِّدَتُنا زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے پاس پہنچے تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا آٹے کا خمیر کر رہی تھیں۔فرماتے ہیں:  جب میں نے انہیں دیکھا تو میرے دل میں ان کی اس قدر عَظَمت پیدا ہوئی کہ میں اِنہیں نظر بھر کر دیکھ بھی نہ سکا کیونکہ رسولِ خدا،  محمدِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں پیغامِ نِکاح بھیجا تھا لہٰذا میں ایڑیوں کے بل گھوما اور پشت پھیر کر کہا:   ” یَا زَیْنَبُ!  اَبْشِرِیْ اَرْسَلَنِیْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَمَّ یَذْکُرُکِ اے زینب!  خوش ہو جاؤ کیونکہ مجھے محبوبِ خدا،  احمدِ مجتبیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بھیجا ہے،  حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تمہیں نِکاح کا پیغام دیا ہے۔ “  ([3])  

سیِّدَتُنا زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا جواب

محبوبِ خدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا پیغامِ نِکاح سن کر حضرتِ سیِّدَتُنا زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے جواب دیا کہ میں اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ سے مشورہ کئے بغیر کچھ نہیں کر سکتی پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا اپنے نماز پڑھنے کی جگہ تشریف لائیں اور سجدے میں سر رکھ کر بارگاہِ رَبُّ الْعِزّت میں عرض گُزار ہوئیں:  ” اے پاک پَرَوَرْدِگار عَزَّ وَجَلَّ!  تیرے پاک پیغمبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے نِکاح کا پیغام دیا ہے اگر میں تیرے نزدیک ان کی زَوْجیّت میں داخِل ہونے کے لائق ہوں تَو اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ!  تُو اِن کے ساتھ میرا نِکاح فرما دے۔ “  دُعا قبول ہوئی اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  نے یہ آیت نازِل فرمائی:

فَلَمَّا قَضٰى زَیْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَهَا  (پ۲۲،  الاحزاب: ۳۷)

ترجمۂ کنزالایمان:  پھر جب زید کی غرض اس سے نکل گئی تو ہم نے وہ تمہارے نِکاح میں دے دی۔

اس آیت کے نُزُول کے بعد حُضُور تاجدارِ رِسالَت،  شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مسکراتے ہوئے فرمایا:  کون ہے جو زینب کے پاس جائے اور اس کو یہ خوش خبری سنائے کہ  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  نے اس کو میری زوجیت میں دے دیا ہے؟ یہ سن کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ایک خادِمہ حضرت سلمیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا دوڑتی ہوئی حضرتِ سیِّدَتُنا زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے پاس پہنچیں اور یہ آیت سنا کر خوش خبری دی۔ حضرتِ سیِّدَتُنا زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا اس بشارت سے اس قدر خوش ہوئیں کہ اپنا زیور اُتار کر اس خادِمہ کو اِنعام میں دے دیا،  سجدۂ شکر بجا لائیں اور دو۲ ماہ کے روزے رکھنے کی نذر مانی۔ ([4])  اس کے بعد ناگہاں  (اچانک)  آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم،  حضرتِ زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے مکان میں تشریف لے گئے ان کا سر برہنہ تھا۔ اس پر عرض گُزَار ہوئیں:  یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!  بغیر خطبہ اور بغیر گواہ کے آپ نے میرے ساتھ نِکاح فرما لیا؟



[1]   فتاویٰ رضویہ، ۳۰ / ۵۱۷.

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن