30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کسی کی نعمت چھن جانے کی آرزو کرنا۔ (فتاویٰ رضویہ، ۲۴ / ۴۲۸) مثلاً کسی شخص کی شہرت یا عزت ہے اب یہ آرزو کرنا کہ اس کی شہرت یا عزت ختم ہو جائے۔ البتہ دوسرے کی نعمت کا زوال (یعنی ضائع ہو جانا) نہ چاہنا بلکہ ویسی ہی نعمت کی اپنے لئے تمنا کرنا یہ غبطہ (یعنی رشک) کہلاتا ہے اور یہ شرعاً جائز ہے۔ (طريقه محمديه، ۱ / ۶۱۰)
اُمَّہَاتُ الْمُؤمِنِیْن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ
سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نماز کے بعد حمد وثنا اور درود شریف پڑھنے والے سے فرمایا: ” اُدْعُ تُجَبْ وَسَلْ تُعْطَہ دُعا مانگ! قبول کی جائے گی، سوا ل کر! دیا جائے گا۔ “ ([1])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
نِکاح سنتِ انبیاء ہے۔ شیخ محقق حضرتِ سیِّدُنا شیخ عبد الحق مُحَدِّث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ سِوائے حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ اور حضرتِ سیِّدُنا یحییٰ عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے تمام انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے نِکاح فرمایا۔ ([2]) ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بھی کئی حکمتوں کے پیش نظر متعدد نکاح فرمائے۔
ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ کی تعداد
سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کتنے نکاح فرمائے اور ان خوش نصیب خواتین کی تعداد کیا ہے جو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہو کر اُمَّہَاتُ المؤمنین کے اعلیٰ منصب پر فائز ہوئیں...؟ اس سلسلے میں جن پر سب کا اتفاق ہے وہ گیارہ صحابیات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ ہیں۔ ان میں سے چھ۶ تو قبیلہ قریش کے اونچے گھرانوں کی چشم وچراغ تھیں، جن کے اسمائے گرامی یہ ہیں: (۱) ...حضرت خدیجہ بنتِ خویلد
(۲) ...حضرت عائشہ بنتِ ابو بکر صِدِّیق (۳) ...حضرت حفصہ بنتِ عمر فاروق
(۴) ...حضرتِ اُمِّ حبیبہ بنتِ ابوسفیان (۵) ...حضرت اُمِّ سلمہ بنتِ ابوامیہ
(۶) ...حضرت سودہ بنت زمعہ رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن
چار۴ کا تعلق قبیلہ قریش سے نہیں تھا بلکہ عرب کے دوسرے قبائل سے تعلق رکھتی تھیں، وہ یہ ہیں: (۱) ...حضرت زینب بنتِ جحش (۲) ...حضرت میمونہ بنتِ حارث (۳) ...حضرت زینب بنتِ خزیمہ
(۴) ...حضرت جُویریہ بنت حارث رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ
اور ایک غیر عربیہ تھیں، بنی اسرائیل سے تعلق تھا۔ یہ حضرتِ صفیہ بنتِ حیی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا ہیں۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا قبیلہ بنی نضیر سے تھیں۔
ان گیارہ میں سے دو۲ ازواجِ مطہرات حضرتِ خدیجہ بنتِ خویلد اور حضرتِ زینب بنت خزیمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُمَا تو رسولِ پاک، صاحِبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی حیاتِ ظاہِری میں ہی دارِ آخرت کو کوچ کر گئی تھیں جبکہ بقیہ نو۹ ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ نے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد انتقال فرمایا۔ ([3])
چار۴ سے زیادہ عورتیں نکاح میں رکھنا
واضح رہے کہ حضورِ اکرم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے پہلے بھی انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو عام لوگوں کی نسبت زیادہ شادیوں کی اجازت دی گئی تھی اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بھی اس باب میں وسعت وکشادگی عطا ہوئی، اللہ رَبُّ الْعِزّت قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
مَا كَانَ عَلَى النَّبِیِّ مِنْ حَرَجٍ فِیْمَا فَرَضَ اللّٰهُ لَهٗؕ-سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُؕ-وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَّقْدُوْرَا٘ﰳۙ (۳۸) (پ۲۲، الاحزاب: ۳۸)
ترجمۂ کنزالایمان: نبی پر کوئی حرج نہیں اس بات میں جو اللہ نے اس کے لئے مقرر فرمائی اللہ کا دستور چلا آ رہا ہے ان میں جو پہلے گزر چکے اور اللہ کا کام مقرر تقدیر ہے۔
صدرُ الْاَفاضِل، بدرُ الْاَماثل حضرتِ علامہ مفتی سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی اس آیتِ کریمہ کے تحت فرماتے ہیں: یعنی انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلَام کو بابِ نکاح میں وسعتیں دی گئیں کہ دوسروں سے زیادہ عورتیں ان کے لیے حلال فرمائیں جیسا کہ حضرت داود عَلَیْہِ السَّلَام کی سو بیبیاں اور حضرت سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام کی تین سو بیبیاں تھیں۔ یہ ان کے خاص احکام ہیں ان کے سِوا دوسروں کو روا نہیں نہ کوئی اس پر معترض ہو سکتا ہے، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں جس کے لیے جو حکم فرمائے اس پر کسی کو اعتراض کی کیا مجال، اس میں یہود کا ردّ ہے جنہوں نے سیِّدِ عالَم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم پر چار۴ سے زیادہ نکاح کرنے پر طعن کیا تھا اس میں انہیں بتایا گیا کہ یہ حُضُور سیِّدِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لیے خاص ہے جیسا کہ پہلے انبیاء (عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام) کے لیے تعدادِ ازواج میں خاص احکام تھے۔ ([4])
یاد رکھنا چاہئے کہ سرکارِ عالی وقار، محبوب ربِّ غفّار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جو متعدد نکاح فرمائے اور متعدد خواتین کو شرفِ زوجیت سے نوازا ان میں سیاسی وقومی اور دینی حوالے سے بہت ساری حکمتیں پائی جاتی تھیں، مَعَاذَ اللہ کوئی نکاح کسی نفسانی جذبے اور خواہش کی بنا پر ہرگز نہیں تھا۔ شیخ الحدیث حضرت علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے زیادہ تر جن عورتوں سے نکاح فرمایا ، وہ کسی نہ کسی دینی مصلحت ہی کی بِنا پر ہوا، کچھ عورتوں کی بے کسی پر رحم فرما کر اور کچھ عورتوں کے خاندانی اعزاز و اکرام کو بچانے کے لئے، کچھ عورتوں سے اس بِنا پر نکاح فرما لیا کہ وہ رنج والم کے صدموں سے نڈھال تھیں، لہٰذا حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کےزخمی دلوں پر مرہم رکھنے کےلئےان کو اعزاز بخش دیا کہ اپنی ازواج مطہرات میں ان کو شامل فرما لیا۔ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا اتنی عورتوں سے نکاح فرمانا ہرگز ہرگز اپنی خواہش نفسی کی بِنا پر نہیں تھا، اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بیویوں میں حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے سوا کوئی بھی کنواری نہیں تھیں بلکہ سب عمردراز اور بیوہ تھیں حالانکہ اگر حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خواہش فرماتے تو کونسی ایسی کنواری لڑکی تھی جو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے نکاح کرنے کی تمنا نہ کرتی مگر دربارِ نبوت کا تو یہ معاملہ ہے کہ شہنشاہِ دوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا کوئی قول فعل، کوئی اشارہ بھی ایسا نہیں ہوا جو دنیا اور دین کی بھلائی کےلئے نہ ہو، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جو کہا اور جو کیا سب دین ہی کے لئے کیا بلکہ آپ صَلَّی اللہُ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع