30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَھٰکَذَا مِنْہُ اِلَیْنَا وَصَلَا
اس لئے کہ قرآن کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے تجوید کے ساتھ نازل فرمایاہے اور اسی طرح (یعنی تجویدکے ساتھ ) حق تعالیٰ سے ہم تک پہنچاہے ۔ (المقدمۃ الجزریۃ، باب التجوید، ص۳)
ایک اور مقام پرارشادفرمایا :
اِذْ وَاجِبٌ عَلَیْھِم مُحَتَّم
قَبْلَ الشُّرُوْعِ اَوّلًا اَنْ یَّعْلَمُوْا
قرآنِ مجید پڑھنے والوں پر یہ بات فرض ہے کہ قرآ ن کریم کی قِرائَ ت شُروع کرنے سے پہلے جان لیں …
مَخَارِجَ الْحُرُوْفِ وَالصِّفَاتِ
لِیَلْفِظُوْا بِاَفْصَحِ الُّغَاتِ
حروف تہجی کے مخارج اور صفات تاکہ وہ فصیح تر لغت کے مطابق تلفظ کرسکیں
(المقدمۃ الجزریۃ، منظومۃ المقدمۃ، ص۱)
تصحیحِ حُرُوف فرضِ عین ہے اور تجوید کا انکار کفر ہے
اعلی حضرتعلیہ الرحمۃنے ارشادفرمایا : بلاشُبہ اتنی تجویدجس سے تصحیح حُرُوف ہواور غلط خوانی سے بچے ’’فرضِ عین‘‘ ہے ۔ بزازیہ وغیرہ میں ہے ’’اَللَّحْنُ حَرَامٌ بِلَاخِلَافٍ‘‘(لحن سب کے نزدیک حرام ہے ) جو اسے بدعت کہتاہے اگر جاہل ہے تو اسے سمجھا دیاجائے اوردانستہ (تجویدکی فرضیت جانتے ہوئے )کہتاہے تو کفر ہے کہ فرض کو بدعت کہتاہے ۔ (فتاوی رضویہ ، ۶/ ۳۴۳)
ایک اور مقام پر اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان علیہ رحمۃُالرحمن لکھتے ہیں : تجوید بنَصِّ قطعی قرآن واخبار (احادیثِ) مُتَوَاتِرَہ سَیِّدالانس والجانّ علیہ وعلٰی الہ افضل الصلوۃ والسلام و اجماعِ تام صحابہ وتابعین و سائر اٰئمّہ کرام علیھم الرضوان المستدام حق وواجب اور علمِ دین شرعِ الٰہی ہے ۔ قاَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی (یعنی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا فرمان عالیشان ہے ) :
وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًاؕ(۴) (پ : ۲۹، المزّمل : ۴)
ترجمۂکنزالایمان : اور قرآن خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو ۔
( لہذا) اسے مطلقاً ناحق بتانا کلمۂ کفر ہے ، والعیاذبِاللّٰہ تعالٰی ۔ ہا ں جو اپنی ناواقفی سے کسی خاص قاعدے کا انکار کرے (تو)وہ اس کا جہل ہے اُسے آگاہ ومُتَنَبِّہ کرناچاہیئے ۔ وَاللّٰہُ تَعَالی اعلم (فتاوی رضویہ، ۶/۳۲۲)
معلوم ہو اکہ علم تجوید حق ، واجب اور شریعتِ مُطَہَّرَہ کا علم ہے ۔ ’’تجوید‘‘ قرآن کریم کی نص قطعی ، احادیثِ مُتَوَاتِرَہ ، صحابہ ، تابعین اور ائمہ کرام (علیھم الرضوان) کے اجماع سے ثابت ہے ۔
{1}… کیا علمِ تجویدکا ثبوت قرآن وحدیث میں موجودہے ، بیان کیجئے ؟
{2}… امیرُالمؤ منین حضرت سَیِّدُنا علِیُّ المُرتَضٰیکرم اللّٰہ تعالی وجہہ الکریم نے ترتیل کے کیا معنی بیان فرمائے ہیں ؟
{3}… تجوید کے بارے میں علّامہ جَزری علیہ الرحمۃ کے اشعار مع ترجمہ بیان کیجئے ؟
{4}… اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان علیہ رحمۃُالرحمننے تجوید کا انکار کرنے والوں کے متعلق کیاارشاد فرمایا ہے ؟
سبق نمبر ۴ :
قرآن پاک کو خوش آوازی سے پڑھنے کی اہمیّت
قرآنِ مجید ، فرقانِ حمیدکو خُوش آوازی سے پڑھنا امرِ زائد مُستحسن (پسندیدہ، اچھا) ہے ۔ قرآن کر یم کو خوش آوازی کے ساتھ پڑھنے سے قِرَائَ تِ قرآن کے حُسن میں اور بھی اضافہ ہوجاتاہے ۔ لیکن یا د رہے کہ خوش آوازی سے قواعدِ تجوید نہ بگڑیں کیونکہ ایسی خوش آوازی جس سے قواعدِ تجوید بگڑیں ممنوع ہے ۔ لحن خفی لازم آئے تو مکروہ اور اگرلحن جلی لازم آئے تو حرام ہے ۔ پڑھنے اور سننے دونوں کا ایک حکم ہے ۔ (فوائد مکیۃ للجزری، ص : ۲۳)
خُوش آوازی سے قُرآن کر یم کو پڑھنے کے متعلق ۴ فرامینِ مصطفیٰصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمپیش کیے جاتے ہیں :
{۱}… سید ُالمرسلین، شفیع ُالمُذْنِبِیْن، رحمۃٌللعالمین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کا فرمان عالیشان ہے : ’’ زَیِِّنُوا الْقُرْاٰنَ بِاَصْوَاتِکُمْ‘‘قرآن کواپنی آوازوں سے زینت دو ۔ (ابو داود، کتاب الوتر، باب استحباب الترتیل فی القراء ۃ، ۲/۱۰۵، حدیث : ۱۴۶۸، وبخاری، کتاب التوحید، باب قول النبی : الماھر بالقرآن مع الکرام البررۃ، ۴/۵۹۲)
{۲ }… رحمتِ عالَم، نُورِ مُجَسَّم ، شاہِ بنی آدم، شفیعِ اُمم، رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمکا فرمانِ مُعَظَّم ہے : ’’ لِکُلِّ شَیْئٍ حِلْیَۃٌ وَّحِلْیَۃُ الْقُرْاٰنِ حُسْنُ الصَّوْتِ‘‘ہر چیز کے لئے زیور ہے اور قرآن کر یم کازیور خوبصورت آواز( میں اسے پڑھنا ) ہے ۔ ( المعجم الاوسط، ۵/۳۳۹، حدیث : ۷۵۳۱)
{۳}…حضرت سَیِّدُنا بَراء بن عازِب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبیٔ کریم ، رؤ ف رَّ حیمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’ حَسِّنُوا الْقُرْاٰنَ بِاَصْوَاتِکُمْ فَاِنَّ الصَّوْتَ الْحَسَنَ یَزِیْدُ الْقُرْاٰنَ حُسْناً‘‘قرآن کر یم کو اپنی آوازوں سے خُوبصورت کرکے پڑھواِس لئے کے اچھی آواز قرآن کے حُسن میں اضافہ کرتی ہے ۔ (دارمی، کتاب فضائل القرآن، باب التغنی بالقرآن، ۲/۵۶۵، حدیث : ۳۵۰۱)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع