دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Tajveed | فیضانِ تجوید

book_icon
فیضانِ تجوید

            حَضْرت سیِّدُنا امام قرطبی علیہ رحمۃاللّٰہ القوی لکھتے ہیں کہ فرمایا : بَلْ مَنْ مَّاتَ وَھِیَ فِیْ بَیْتِہٖ دَخَلَ الْجَنَّۃَ (یعنی ) جو اس حال میں مرے کہ اس کے گھر میں یہ قصیدہ ہوتووہ جنّت میں داخل ہو گا ۔ (شرح الشاطبیۃ للملا علی القاری، ص : ۴۳۰)

            امام شاطبی  رَحْمَۃُ اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہ فنِّ قراء ت کے امام ہونے کے ساتھ ساتھ باکمال مُفَسِّر، مُحَدِّث ، صرف و نحو اور لغت کے بھی ماہر تھے ۔ آپ  رَحْمَۃُ اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہ ا نتہائی مُتَّقی وپرہیز گار تھے ۔ آپ سے اکتسابِ فیض کرنے والوں کی ایک لمبی فہرست ہے ۔ آپ نے حیاتِ مُستعار کی باون 52   بہاریں دیکھیں ۔ تقریباً 53 سال کی عمر پاکر 28 جمادی الثانی ۵۹۰ھ؁ کو اتوار کے دن عصر کے بعد مصر کے شہر قاہر ہ میں آپ کا وِصال ہوا ۔ علّامہ ابو اسحق علیہ رحمۃ اللّٰہ الرزاق (خطیبِ جامع مصر) نے نمازِ جنازہ پڑھائی اور پیر شریف کے دن مقطم پہاڑ کے قریب ’’ قرافہ صغرٰی ‘‘ میں مقبرہ قاضی فاضل میں دفن کئے گئے ۔ ’’ قرافہ صغرٰی ‘‘ میں دُعاؤں کی مقبولیت کے لئے آپ کی قبرِ مُنَوّر مشہور ہے ۔ (شرح الشاطبیۃ للملا علی القاری، ص : ۴۳۰)

             امام محمدبن محمد جزری علیہ رحمۃ اللّٰہ القوی فرماتے ہیں : میں نے ان کی قبرِ مُنَوّر کے پاس قبولیّتِ دُعا کی برکت کُھلے آنکھوں دیکھی ہے ۔ (غایۃ النھایۃ  فی طبقات القراء لابن الجزری، باب القاف، ۲/۲۲)

           علاّمہ شاطبی علیہ الرحمۃ کو اس فانی دُنیا سے جُدا ہوئے کئی سو۱۰۰سال گزر گئے لیکن اپنے علمی کارناموں کی وجہ سے وہ آج بھی زندہ ہیں ۔ برِّصغیر پاک وہند میں قرآن کریم کی قراء ت بطریقِ شاطبی ہی رائج ہے ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صدقے ہماری بے حساب بخشش ہو ۔ اٰمین بجاہِ النَّبِیِّ الامین صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلّمَ

           تعارف امام جزر ی  رحمۃ اللّٰہ  تعالٰی  علیہ

            امام محمد جزری علیہ رحمۃ اللّٰہ القوی 25 رمضان المبارک ۷۵۱ھ؁ / ۱۳۵۰؁ء ہفتہ کی رات کو دمشق میں پیدا ہوئے ۔ آپ کانام محمدبن محمدبن محمدبن علی بن یوسف العمری ، کنیت ابوالخیر ، لقب شمس الدین ، وطناً جزری دمشقی اور مسلکاً سُنّی شافعی ہیں ۔

دمشق ہی میں قرآن کریم حفظ کیا ۔ ۷۶۵؁ھ میں رمضان المبارک میں پورا قرآن سنایا ۔ اس کے بعد تفسیر ، حدیث اورالگ الگ قراء ت کا درس لیا ۔ ۷۶۸؁ھ میں سبعہ کا در س لیا اور اِسی سال زیارت ِحرمینِ طیبین سے مُشرف ہوئے ۔ پھر ۷۶۹؁ھ میں مصر گئے اور تیرہ قراء ات تک تعلیم حاصل کی ۔ ’’ التیسیر للدانی ‘‘ اور ’’ حرز الامانی للشاطبی‘‘ جیسی قراء ت کی معتبر کتب کو حفظ کیا ۔ قِرائَ ات میں 40 اساتذہ سے استفادہ کیا ۔ پھر دمشق جاکر علّامہ دمیاطی سے حدیث اور علّامہ اسنوی سے فقہ پڑھی ۔ آپ ایک لاکھ احادیث کے حافظ تھے ۔ مصر میں علمِ اصول، معانی اور بیان پڑھے ۔ مصرکے شہر اسکندریہ میں علّامہ ابن عبدالسلام کے شاگردوں سے استفادہ کیا ۔ علّامہ اسماعیل ابنِ کثیر نے ۷۷۴؁ھ میں اور امام بلقینی نے ۷۷۵؁ھ میں سندِ اجاز ت دی ۔ فراغت کے بعد تجوید وقراء ت پڑھانے کا سلسلہ شروع فرمایا اور دمشق میں ’’ شیخ القُرّاء ‘‘کے عہدہ پر فائز ہوئے ۔ ۷۹۳؁ھ میں شام کے قاضی مقرر کئے گئے ۔ پانچ سال بعد مصری سلطنت سے اختلاف ہوا اور آپ روم کے شہر ’’بروسا‘‘ میں مقیم ہوگئے ۔ وہاں بے شمار لوگوں نے استفادہ کیا ۸۰۵؁ھ میں جب امیر تیمور لنگ اس علاقے پر مسلط ہوا تووہ آ پ کو اپنے ساتھ ماوراء النہر کے علاقہ میں لے گیاکیونکہ امیر تیمور علماء کا قدر دان اور آپ کا خاصامعتقد تھا ۔ وہاں آپ نے پہلے ’’کشّ‘‘ پھر سمرقند میں قیام کیا وہیں آپ نے شرح مصابیح وغیرہ کتابیں لکھی ۔ شعبان ۸۰۷؁ھ میں امیر تیمور کی وفات کے بعد خراسان، ہرات، یزد،  اصبہان ہوتے ہوئے شیراز پہنچے تو بادشاہِ وقت نے آپ کا بہت احترام کیا اور شیراز کا قاضی مقر ر کردیا ۔ ایک عرصہ وہاں قیام کے بعد ۸۲۳؁ھ میں دوبارہ حرمین شریفین کی زیارت سے مشرف ہوئے ۔ اور ایک عرصہ قیام کے بعد ۸۲۷؁ھ میں شیراز واپس تشریف لائے اورآخری وقت تک خدمتِ قرآن میں مصروف رہے ۔ ستر70سال سے زائد قرآن وحدیث کی خدمات سر انجام دے کر 82سال کی عمر میں جمعۃ المبارک کے دن ۵ ربیع الاوّل ۸۳۳؁ھ کو شیراز میں آپکا انتقال ہوا ۔

اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صدقے ہماری بے حساب بخشش ہو ۔ اٰمین بجاہِ النَّبِیِّ الامین صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم

            حَضْرت سیِّدُنا امام محمدبن محمد جزری علیہ رحمۃ اللّٰہ القوی بیک وقت مُقری، مُجَوِّد، حافظ، فقیہ، نحوی، بیانی، مُؤرِّخ، مُحدِّث اورشاعر تھے ۔ آپ کی تصانیفِ عالیہ ان علوم و فنون میں آپ کی کامل دستر س پر شاہد ہیں خصوصاً تجویدوقراء ت میں آپ کی امامت مُسلَّم ہے اور دنیا بھر(میں آپ کے بعد آنے والے )  قُراء اور مُجَوِّدین آپ کی تصانیف کے خُوشہ چین ہیں ۔ آپ کی تصانیف کی طویل فہرست ہے جن میں سے  چند تصانیف کے نام یہ ہیں :

(۱)…’’المقدمۃ الجزریۃ‘‘(مدراسِ اسلامیہ میں پڑھائی جانے والی مختصر مگر جامع  منظوم کتاب ہے اس کے 107 اشعار ہیں )

(۲)…’’اصول القراء ات‘‘

(۳)…’’الاعلام فی احکام الادغام‘‘

(۴)…’’البیان فی خط عثمان‘‘

(۵)…’’الحصن الحصین من کلام سیدالمرسلین‘‘ (احادیثِ طیبہ

                  سے منتخب اوراد وظائف کی معروف کتاب)

(۶)…’’النشر فی القراء ات العشر‘‘(المقدمۃ الجزریۃ، ترجمۃ الناظم، ص : د، ھ، و)

آپ کے چار صاحبزادے تھے :

                ٭ابوالخیر محمد                  ٭ابوالفتح محمد

                ٭ابوالبقاء اسمعیل             ٭ابوالفضل اسحاق

آپ کی تین صاحبزادیاں تھیں :

٭فاطمہ ٭عائشہ ٭ سلمیٰ

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن