30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پیدا ہوئے ۔ آپ نے ’’ قراء تِ قرآن ‘‘ کی تعلیم امام عاصم کوفی تابعی علیہ رحمۃُ اللّٰہ القویسے حاصل کی ۔ امام حفص بن سلیمان اسدی علیہ رحمۃُ اللّٰہ القویامام عاصم کوفی تابعی علیہ رحمۃُ اللّٰہ الکافی کے تلامذہ میں قراء تِ امام عاصم کوفی کے سب سے زیادہ ماہر اور عالِم تھے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہ بے شُمار اوصاف و کمالات دینیہ کے ساتھ ساتھ ایک تاجر بھی تھے ۔ امام اعظم ابوحنیفہ تابعی کوفی علیہ رحمۃُ اللّٰہ القوی کے ساتھ کپڑے کی تجارت کرتے تھے ۔ آپ کی سندِ قراء ت تین واسطوں سے پیارے آقا و مولا حُضُور نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم تک پہنچتی ہے ۔ (التیسیر للدانی، ص : ۲۱)
امام حفص بن سلیمان اسدی علیہ رحمۃُ اللّٰہ القوی کی سندِ قراء ت کچھ اِس طرح سے ہے : ٭آپ نے امام عاصم کوفی تابعی علیہ رحمۃُ اللّٰہ القوی سے پڑھایہ پہلا واسطہ ہیں ۔ ٭امام عاصم کوفی تابعی علیہ رحمۃُ اللّٰہ القوی نے زِرّ بن حُبَیش اَسَدی اور عبداللّٰہ بن حُبَیب سُلَمِیْ تابعی رحمۃُ اللّٰہ تعالی علیھماسے پڑھا یہ دوسرا واسطہ ہیں ۔ ٭انہوں نے علمِ قراء ت پانچ صحابہ کر ام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْھُمْ سے حاصل کیا ۔ اُن پانچ صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْھُم کے اسمائِ گرامی یہ ہیں :
(1)… حضرت سَیِّدُنا عثمان بن عَفّان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰیعَنْہ
(2)…حضرت سَیِّدُنا علی بن ابی طالب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰیعَنْہ
(3) …حضرت سَیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰیعَنْہ
(4) …حضرت سَیِّدُنا زید بن ثابت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰیعَنْہ
(5) …حضرت سَیِّدُنااُ بیَّ بن کَعْب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰیعَنْہ
یہ پانچوں صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْھُم تیسرا واسطہ ہیں اور ان پانچوں صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْھُمنے براہِ راست سَیِّدُ المرسلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم سے پڑھا ۔ آپ کا وِصال ۱۸۰ھ میں کوفہ میں ۹۰ سال کی عمر میں ہوا ۔ (التیسیر للدانی ص : ۱۹)
اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صدقے ہماری بے حساب بخشش ہو ۔ اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الاَمِین صلیاللّٰہ تعالیعلیہ والہ وسلم
روایتِ حفص میں مشہور طُرُق کے اَئمّہ قراء ت کا تعارف
قراء تِ امام عاصم بروایت حفص میں دو طُرُق مشہور ہیں :
٭ … طریقِ امام شاطبی ٭… طریقِ امام جزری ، ان دونوں ائمہ کرام کا تعارف پیشِ خدمت ہے ۔
تعارف امام شاطبی ۔ عَلَیْہ رَحمَۃُ اللّٰہ القوی
امام شاطبی رَحْمَۃُ اللّٰہ تعالی علیہ کا اسمِ گرامی ابو محمدقاسم بن فِیرُّہ بن خَلَف بن احمد الشَّاطِبِیّ الرُّعَیْنِی ہے ، کنیت ابو القاسم اور بعض نے ابو محمد بیان کی ہے ۔ آپ کی ولادت باسعادت اُنْدُلُس(اِسپَین) کے شہر شاطبہ میں قریباً ۵۳۸ھ کے اواخر میں ہوئی ۔ ابتدائی تعلیم گھر کے روحانی ماحول میں حاصل کی اور قِرائَ ت کے ابتدائی مراحل بھی اپنے شہر مالوف ہی میں شیخ ابو عبداللّٰہ محمدبن العاص رَحْمَۃُ اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہ کے پاس طے کئے اور علمِ قرائَ ت میں خوب مہار ت حاصل کی ۔ مزید علم حاصل کرنے کی خاطر آپ نے اپنے شہر کے علاوہ دیگر بلاد وممالک کا سفر بھی اختیار فرمایا ۔ اندلس کے شہر ’’ بلنسہ‘‘ میں شیخ ابو الحسن علی بن ہذیل رَحْمَۃُ اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہ سے قِرائَ تِ سبعہ کی مشہور کتاب ’’ التیسیر‘‘ حفظ کی اور قِرائَ ت میں خُوب اجراء کیا اور ساتھ ہی امام ابنِ ہذیل سے علمِ حدیث بھی حاصل کیا ۔ اس کے بعد عازمِ حرمین طیبین ہوئے ۔ مصر کے شہر اسکندریہ میں شیخ ابو طاہر سلفی رَحْمَۃُ اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہ سے حدیث کا سماع کیا ۔ حج سے واپسی پر جب آپ مصر پہنچے تو شائقینِ علوم قرآن وحدیث میں آپ کی آمد کی اطلاع پھیل گئی لہذا مصر کے اطراف و اَکناف سے لوگ علمی سیرابی کے لئے جُوق در جُوق آپ کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوئے ۔ اس بات کا جب شہر کے حاکم قاضی فاضل کو پتا چلا تو وہ آپ کی خدمت بابرکت میں حاضرہو ا، اکرام وتعظیم کامعاملہ فرمایا اور قاہرہ میں اپنے قائم کردہ مدرسہ میں سب سے اعلی منصب پر آپ کو فائز کردیا ۔ مصرکی آب وہوا اور یہاں کا علمی وادبی ماحول آپ کو راس آگیا چنانچہ اسی کو اپنا وطن سمجھ کر یہیں کے ہوکر رہ گئے ۔ اسی دوران آپ نے تصنیف وتالیف کا کام بھی کیا ۔ آپ کی تصانیف میں ’’ قصیدہ لامیہ‘‘ غیر معمولی شہرت کاحامل ہے جسکی مجملاً و مفصلاً سینکڑوں شرحیں تحریر کی جا چکی ہیں ۔ مُحَقِّق امام محمدبن محمد جزری علیہ رحمۃ اللّٰہ القوی ’’ قصیدہ لامیہ ‘‘ کے بارے میں فرماتے ہیں :
اللّٰہ تبارک وتعالی نے علاّمہ شاطبی علیہ الرحمۃ کو اس فن میں جو مقام و مرتبہ بخشاہے اِس کا علم اُسی کو ہوسکتاہے جوان کے دونوں قصائد ( لامیہ اور رائیہ) سے واقفیّت رکھتاہوخصوصاً قصیدہ لامیہ ، آپ کے بعد اس قصیدے کے مقابلے میں بڑے بڑے فصحاء اور بلغاء نے برملا اپنے عجز کا اعتراف و اظہار کیاہے ۔ یہ عدیم النظیر قصیدہ اپنے طرزِ بیان اوربہترین منظم کلام کے باعث بلندی کے اس مقام پر فائز ہے کہ اسے ہرکس وناکس ( ہرکوئی ) سمجھ نہیں سکتا ۔ اس کی خصوصیّت کا عرفان اسے ہی نصیب ہوگا جوان کے طرز وانداز پر لکھنے کا ارادہ کرے اور پھر مقابلہ کرکے دیکھے ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ سے جو شرف و شہر ت اس قصیدہ کو عطاہوئی میرے علم کے مطابق کسی اور کتاب وقصیدہ کو نہیں مل سکی ۔ میرے خیال میں کوئی بھی اسلامی شہر اس قصیدہ سے خالی نہ ہوگا ۔ بلکہ میرا وجدان تو یہ کہہ رہاہے کہ کسی طالب علم کا گھر شاید ہی اس سے خالی ہو ۔ (برکات الترتیل ص۲۲۵)
امام شاطبی رَحْمَۃُ اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہ جب اس قصید ہ کی تصنیف سے فارغ ہوئے تو اس کو ساتھ لے کر بیت اللّٰہ شریف کے 12000 طواف کیے اور جب جب دُعا مانگنے کے مقام پر پہنچتے تو اِس دُعاکا خاص اہتمام و التزام فرماتے : اَللّٰھُمَّ فَاطِرَالسَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ عَالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ رَبَّ ہٰذَاالْبَیْتِ الْعَظِیْمِ انْفَعْ کُلَّ مَنْ قَرَء ہَا (اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!زمین وآسمان کو بنانے والے ، پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والے ، اس عظیم الشان گھر کے رب !اس قصیدہ کے ہر پڑھنے والے کو نفع پہنچا!) (شرح الشاطبیۃ للملا علی القاری، ص : ۴۳۰)
اس قصید ہ کے متعلق ایک روایت یہ بھی ملتی ہے کہ حَضْرت سیِّدُنا امام شاطبی رَحْمَۃُ اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہ نے سرکارِ دوجہان ، رحمتِ عالمیان ، پیارے آقا و مولا حُضُور نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلّمَ کی خواب میں زیارت سے مُشَرّف ہوئے اور اد ب کے ساتھ عرض کی : اے میرے آقا (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلّمَ)اس قصید ہ کو مُلاحَظہ فرمایئے ۔ یہ سُن کر آپ نے اِس قصیدہ کو اپنے مُبارک ہاتھوں میں لیا اور ( مُلاحظہ فرمانے کے بعد ارشاد ) فرمایا : یہ قصیدہ مُبارک ہے جو اسے یاد کرے گا جَنّت میں داخل ہوگا ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع