30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
امالہ کالغوی معنٰی ’’مائل کرنا ‘‘ امالہ کااصطلاحی معنٰی : اصطلاحِ تجوید میں ’’زبر…َ کو زیر…ِ کی طرف اور الف کو یا کی طرف مائل کرکے پڑھنے کو ’’ اِمالہ ‘‘ کہتے ہیں ۔
رِوایتِ امام حفص رَحْمَۃُ اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہ کے مطابق پورے قرآنِ مجید میں صرف اس ایک کلمہ’’مَجْرٖھَا‘‘ میں امالہ ہواہے ، اور یہ امالہ کُبْرٰی ہے ۔
{۱}… سکتہ کا لغوی اور اصطلاحی معنی اور اقسام بیان کیجئے ؟
{۲}… سکتہ کا حکم بیان کیجئے ؟
{۳}… قرآن کریم میں روایت حفص کے مطابق کتنے مقامات پر سکتہ واجب ہے ؟
{۴}… امالہ کا لغوی اور اصطلاحی معنی بیان کیجئے ؟
سبق نمبر ۲۵ :
وقف کالغوی معنٰی : ’’رکنا ، ٹھہرنا ‘‘
اصطلاحِ تجوید میں ’’ کلمہ کے آخری حرف پر آواز اور سانس توڑ کر اسکان، روم یا اشمام کے ساتھ آگے قِراء ت کی نیِّت سے تھوڑی دیر ٹھہرنے کو ’’وقف ‘‘کہتے ہیں ، اور اگر وقف کرنے کے بعد آگے قراء ت کرنے کی نیِّت نہ ہو تو اسے اصطلاحِ تجوید میں ’’ قطع ‘‘ کہتے ہیں ۔
بنیادی طور پر وقف کی تقسیم دو اعتبار سے کی جاتی ہے : (۱)…محلِّ وقف (۲)… کیفیّتِ وقف ۔
(1)… محلِّ وقف : یہ جاننا کہ کس جگہ وقف کرنا چاہیے اور کس جگہ نہیں کرنا چاہیے ۔
(2)…کیفیّتِ وقف : یعنی یہ جاننا کہ کلمہ کے آخری حرف پر کس طرح وقف کیاجائے ۔
محلِّ وقف کے اعتبار سے وقف کی اقسام
محلِّ وقف کے اعتبار سے وقف کی چار قسمیں ہیں :
٭۱ … وقفِ تامّ ٭۲ …وقفِ کافی
٭۳… وقفِ حسن ٭۴ … وقفِ قبیح
۱ ۔ …وقفِ تامّ کی تعریف : کلمہ میں ایسی جگہ وقف کرناجہاں لفظی اور معنوی اعتبارسے کلام مکمّل ہوجائے اسے ’’ وقفِ تامّ ‘‘ کہتے ہیں جیسے سورۂ بَقَرَہ میں ھُمُ الْمُفْلِحُوْنْ پر وقف، وقفِ تامّ ہے کیونکہ اس کلمے کا اپنے مابعد کلمہ سے نہ تو لفظی تَعَلُّق ہے نہ ہی معنوی ۔
۲ ۔ … وقفِ کافی کی تعریف : کلمہ میں ایسی جگہ وقف کرناجہاں موقوف علیہ کا اپنے مابعد کلمہ سے لفظی تعلق نہ ہوبلکہ معنوی تعلق ہوتو اسے وقفِ کافی کہتے ہیں جیسے وَ بِالْا ٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنْ پر وقف، وقفِ کافی ہے ۔ کیونکہ یہاں لفظی تعلق تو ختم ہوگیا لیکن ابھی معنوی تعلق باقی ہے ۔
وقفِ تامّ اور وقفِ کافی کا حکم : وقفِ تامّ اور وقفِ کافی کا حکم یہ ہے کہ وقفِ تامّ اور وقفِ کافی ہونے کی صورت میں مابعد کلمے سے ابتداء کی جائے ۔ اِعادہ کی ضرورت نہیں ہے ۔
۳ ۔ … وقفِ حسن کی تعریف : وقفِ حسن وہ وقف ہے کہ موقوف علیہ کا اپنے مابعد کلمہ سے لفظی اور معنوی دونوں تعلق ہوں اور وقف کرنے سے نہ معنٰی بگڑتے ہوں اورنہ اِبہام یعنی معنی میں کوئی شک پیدا ہوتاہوجیسے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنْ میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ پر وقف تو کرسکتے ہیں مگر رَبِّ الْعٰلَمِیْنْ سے ابتداء نہیں کرسکتے بلکہ اِعادہ ہوگا یعنی دوبارہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنْ سے پڑھیں گے ۔
۴ ۔ … وقفِ قبیح کی تعریف : وقفِ قبیح وہ وقف ہے کہ موقوف علیہ کا اپنے مابعد کلمے سے لفظی اور معنوی دونوں تعلق ہوں اور وقف کرنے سے معنی میں ابہام پیدا ہوجائے یا معنی فاسد ہو جائیں جیسے یٰاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَاتَقْرَبُوا الصَّلٰوۃْ پر وقف کرنا ۔
وقفِ حسن اور وقفِ قبیح کا حکم :
وقفِ حسن اور وقفِ قبیح کا حکم یہ ہے کہ ماقبل سے اِعادہ کیا جائے ۔
کیفیّتِ وقف کے لحاظ سے وقف کی پانچ قسمیں ہیں :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع